کُرم تنازع حل کرنےکیلئےفریقین متفق،مجوزہ معاہدےکےنکات سامنےآگئے

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹرسیف نےدعویٰ کیاہےکہ کُرم تنازع حل کرنے کیلئےفریقین متفق ہوگئے ہیں۔نکات بھی سامنےآ گئے۔

ایک فریق نے معاہدے کے چند نکات پر مشاورت کیلئے2 دن کاوقت مانگ لیا اور منگل کو معاہدے پر دستخط ہوجائیں گےجبکہ کُرم جرگےکے تحت مجوزہ معاہدے کے نکات بھی سامنے آگئے۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوانےکہا کرم تنازعےکےحل کیلئےکوہاٹ میں جرگہ رات گئے تک جاری رہا،فریقین کےدرمیان عمومی طور پر اتفاقِ رائے ہو گیا،صرف چند نکات پر ایک فریق نےاپنےعمائدین اور عوام سےمشاورت کیلئے2 دن کاوقفہ مانگا ہے۔

بیرسٹر سیف نےواضح کیا کہ اپیکس کمیٹی کےفیصلےکےمطابق کرم سےبنکرز اور اسلحہ کا خاتمہ یقینی بنایاجائے گا۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا نےبتایاکہ ادویات پہنچانے سمیت کرم کے عوام کو فضائی سروس بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب کُرم جرگےکےتحت مجوزہ معاہدےکےنکات سامنےآگئے۔دھرنا فوری طور پر ختم اور مرکزی سڑک جلد کھول دی جائے گی۔

اس کے تحت سڑک پرہرایک کلومیٹرکےفاصلےپرفوج کے دستے تعینات ہوں گے، خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ گاؤں کو خالی کروا کر گھروں کومسمار کر دیا جائے گا۔

بھاری اسلحہ قومی مشران کے پاس رہےگا،لوئر کُرم سانحہ بگن کےمتاثرین کو معاوضہ ادا کیاجائے گا۔

اس کے مطابق کوئی بھی شخص سڑک پر رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا اور بھاری اسلحہ قومی مشران کے پاس رہے گا۔معاہدےکے نکات میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی بھی شخص چھوٹا اسلحہ لےکرگھر سےباہر نہیں نکلے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایک فریق کی جانب سےمطالبہ کیاگیا کہ اسلحہ قومی مشران کے پاس نہیں بلکہ حکومت کے پاس جمع کروایا جائےاورشرپسندوں کےخلاف آپریشن کیا جائے۔

ادھر کرم کی صورتحال کےخلاف پارا چنار،اسکردو،گلگت اورکراچی کے مختلف ملاقات پر پر احتجاجی دھرنےجاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرم کی صورتحال معمول پر نہیں آسکی، پاراچنار میں پریس کلب کے سامنے مظاہرین بدستور دھرنا دیے ہوئے ہیں، پاراچنار دھرنے سے یکجہتی کے لیے مجلس وحدت المسلمین کا گلگت اور اسکردو میں دھرنا آج 5ویں روز بھی جاری رہا، مظاہرین نے واضح کیا کہ پاراچنار کے عوام کے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رہےگا۔

Back to top button