ایشیاکپ ، بھارتی میڈیا کی جانب سے ٹورنامنٹ کے خاتمے کی دھمکی

ایشیا کپ کے اعلان کے بعد بھارتی میڈیا، سابق کرکٹرز اور سیاستدان شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، اور مودی حکومت سے ایونٹ کے بائیکاٹ کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی کی جانب سے اجلاس کے انعقاد اور ٹورنامنٹ کے شیڈول جاری ہونے کے بعد سے بھارتی کرکٹ بورڈ کو تنقید کا سامنا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مودی سرکار پاکستان کو واک اوور دینے کے حق میں نہیں، اور اگر ایسا کیا گیا تو اسے پاکستان کی جیت تصور کیا جائے گا۔ اسی لیے مؤقف اپنایا جا رہا ہے کہ بھارت کو ہر صورت پاکستان کے خلاف میدان میں اترنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ چونکہ ایشیا کپ بھارت کی میزبانی میں ہو رہا ہے، اس لیے پاکستان کے ساتھ کھیلنا مناسب نہیں۔ بعض رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا کہ "بھارت اگر نہیں کھیلے گا تو ٹورنامنٹ ہو ہی نہیں سکتا”۔
آسٹریلیا کا ویسٹ انڈیز کو ہوم ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش
دوسری جانب بھارتی پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ جب پاکستان کے ساتھ تجارت اور تعلقات معطل ہیں، تو کرکٹ میچز کیسے کھیلے جا رہے ہیں؟
واضح رہے کہ ایشیا کپ 9 ستمبر سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں شروع ہو رہا ہے، جس کی میزبانی بھارت کرے گا۔ ٹورنامنٹ میں پاک بھارت کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ تین بار آمنے سامنے آ سکتے ہیں، جس نے شائقین میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
