آصف زرداری کی پرویز الٰہی کو وزیر اعلٰی پنجاب بنانے کی تجویز

پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلٰی بنانے کی تجویزدیدی۔ بدلے میں قاف لیگ مرکز میں اپوزیشن کا ساتھ دے گی تاکہ عمران خان حکومت گرائی جا سکے۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی اب نواز لیگ کو منانے کی کوشش کریں گی۔
پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری، بلاول اور جعمیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ فضل الرحمان نے لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اپوزیشن کی طرف سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کرنے پر مشاورت ہوئی۔جے یو آئی کے ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے پرویز الٰہی کا نام تجویز کردیا ہے اور دونوں جماعتوں کی قیادت مسلم لیگ ن کو اس معاملے پر منانےکی کوششیں کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو دینےکی صورت میں ق لیگ وفاق اور پنجاب میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی صورت میں اپوزیشن کا ساتھ دیگی۔ذرائع جے یو آئی کے مطابق پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے معاملے پر ن لیگ نے نواز شریف کو حتمی فیصلے کا اختیار دے دیا ہے۔
لاہور میں اپوزیشن کے بڑے کھلاڑی آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف مل بیٹھے، ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی سیاسی اور قانونی حکمت عملی تیار کرنے اور تحریک لانے کے وقت کا تعین کرنے کیلئے کمیٹی بنادی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق پورا ملک متفق ہے کہ موجودہ حکومت سے جس قدر جلد ممکن ہو نجات دلائی جائے، موجودہ حکومت آئین کی طے کردہ حدود پھلانگ رہی ہے جس کی تازہ مثال کالے قوانین کا آرڈیننس کے ذریعے اجراء ہے، غیرجمہوری اقدامات کا راستہ روکا جائے گا اور ہر قانونی فورم پر چیلنج کیا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق مہنگائی عوام کیلئے ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہوچکی ہے، عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے اس حکومت کا گھر جانا لازمی ہے۔
لاہور میں اپوزیشن کے بڑے کھلاڑی زرداری، فضل الرحمان اور شہباز کی ملاقات میں پہلے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر مشاورت کی گئی۔ملاقات میں حکومتی اتحادیوں سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور نمبرز گیم پر اظہار اطمینان کیا گیا۔اندر کی بات جاننے والوں کا کہنا ہے مشاورت کی گئی کہ براہ راست عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے، عثمان بزدار یا اسد قیصر کو بعد میں دیکھا جائے گا، کسی اسپیکر یا وزیراعلیٰ کو فوکس کیا تو وزیراعظم کو وقت مل جائے گا۔
کیا کپتان حکومت کا خاتمہ واقعی چند دنوں کا کھیل ہے؟
ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی رہائشگاہ پر اپوزیشن قائدین کی ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اہم فیصلے کر لئے ہیں، تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تجویز دی ہے کہ پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ سے پہلے عدم اعتماد نہ لائی جائے، بلکہ 8 مارچ کو لانگ مارچ کے اختتامی جلسے کے بعد عدم اعتماد لائی جائے، لانگ مارچ میں حکومت کے خلاف عوامی جذبات واضح پیغام ہوگا۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی تجویز مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے بھی لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اس حوالے سے مشاورت ضروری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نمبر گیم سے متعلق اپوزیشن کا اہم اجلاس جلد اسلام آباد میں ہوگا۔دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری نے ملاقات کے دوران شہبازشریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کچھ بھی کہیے آپ ہمارے وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ق کی قیادت سے 11 ارکان قومی اسمبلی نے رابطے کیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی نے چوہدری برادران کو سیاسی فیصلے میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری برادران جو فیصلہ کریں گے اس کے ساتھ چلیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 11 ارکان کے رابطوں سے متعلق چوہدری شجاعت کو آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ تین ارکان قومی اسمبلی کی آج فون پر چوہدری شجاعت سے بات بھی کروائی گئی ہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ ق کے قائدین چوہدری برادران نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن سے حتمی لائحہ عمل کے لیے 48 گھنٹے کا وقت مانگ لیا۔ جمیعت علما اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی چوہدری برادران سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے لیگی قائدین کو یقین دہانی کرائی کہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے جو معاملات طے کیے اُن وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔
دریں اثنا مسلم لیگ ق اور پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر مشاورت اور مشترکہ فیصلوں پر اتفاق کیا جبکہ چوہدری پرویز الہیٰ نے سابق صدر کو یقین دہانی کرائی کہ عدم اعتماد کے معاملے پر آپ کے مشورے سے لائحہ عمل طے کریں گے۔ سابق صدر آصف زرداری سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہٰی کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی، جس کا مشترکہ اعلامیہ اور اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
اعلامیے کے مطابق آصف علی زرداری اور چوہدری پرویزالٰہی کی ملاقات میں اہم فیصلے کیے گئے، دونوں جماعتوں نے مشاورت سے فیصلے کرنے پر اتفاق کیا جبکہ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق موجودہ سیاسی منظر نامے میں آصف علی زرداری اور چوہدری پرویزالٰہی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے، پاکستان مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایک دوسرے پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
آصف علی زرداری اور چوہدری پرویز الہی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آئی جس کے مطابق آصف علی زرداری اور ق لیگ کی قیادت کے ساتھ بات چیت کے 2 دور ہوئے، پہلے دور میں آصف علی زرداری اور ق لیگ کی مکمل قیادت تیس منٹ تک مشاورت کرتی رہی، جس میں تحریک عدم اعتماد اور دیگر آپشنز پر غور کیا گیا۔
ملاقات کے ایک دور کے بعد عشائیہ دیا گیا جس کے بعد دوسرا دور شروع ہوا، جس میں آصف زرداری اور چوہدری پرویز الہی کے درمیان چالیس منٹ ون ٹو ون ملاقات ہوئی، اس میں سابق صدر نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر مسلم لیگ ق سے مکمل حمایت مانگی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ن لیگ کے متعلق ماضی اور مستقبل کے خدشات کا اظہار کیا گیا اور طے کیا گیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان خدشات کو دور کرنے کے لیے مولانا فضل الرجمن اور آصف علی زرداری کردار ادا کریں گے۔
آصف علی زرداری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے مسلم لیگ ق سے حمایت مانگتے ہوئے کہا کہ آپ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد پر ہمارا ساتھ دیں، اس مشکل وقت میں اپوزیشن اور ملک کو اتحادیوں کے تعاون کی سخت ضرورت ہے، ہم اتحادیوں کے تمام تحفظات کو بہترین طریقے سے دور کریں گے۔
چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ’زرداری صاحب ہم کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے آپ سے مکمل مشاورت کریں گے، عدم اعتماد کے معاملے پر آپ کی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے، آپ ہمارے قابل اعتماد دوست ہیں اور ہمارا تعلق بہت مضبوط ہے‘۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری چوہدری پرویز الہی کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔
