عاصمہ شیرازی کا حکومتی مشیر کو ایک کروڑ ہرجانے کا نوٹس

معروف اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کے مشیر علی نواز اعوان کو پیسے لے کر حکومت کے خلاف کالم لکھنے کا الزام لگانے پر ہتک عزت کا نوٹس دے دیا ہے اور ان سے 14 دن کے اندر اپنا الزام ثابت کرنے یا پھر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عاصمہ شیرازی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر پر نوٹس کی تفصیلات شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘میں نے علی نواز اعوان کو ان کے بے بنیاد اور جھوٹے تبصروں پر ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے جنہوں نے بحیثیت صحافی میری ساکھ اور آزادی مجروح کرنے کی کوشش کی۔’

یاد رہے کہ کئی برس پہلے نجم سیٹھی نے بھی عمران خان کو 35 پنکچر لگانے کے الزام پر ہتک عزت کا ایک ایسا ہی نوٹس دیا تھا جس پر نہ تو آج دن تک معافی مانگی گئی ہے اور نہ ہی کیس کا فیصلہ ہوسکا ہے۔ تحریکِ انصاف کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان نے ایک ٹی وی پروگرام میں سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی پر پیسے لے کر حکومت کے خلاف کالم لکھنے کا الزام لگایا تھا۔ 28 فروری کو وزیر اعظم کے قوم سے خطاب سے متعلق جب کامران شاہد کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی ارشاد بھٹی نے کہا کہ اپنی تقریر میں عمران خان نے کہا ہے کہ صحافی پیسے لے کر گند اچھالتے ہیں لہذا اگر میں ایف آئی اے میں یہ الزام لے کر چلا جاؤں تو کیا وزیر اعظم یہ الزام ثابت کر سکیں گے؟ اس کے جواب میں پروگرام میں شریک علی نواز اعوان نے کہا کہ ہم بالکل ثابت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی یہ دعویٰ سچ ثابت کر دیتا ہوں۔ آپ عاصمہ شیرازی کا کالم اٹھا کر دیکھ لیں۔ علی نواز کےا س دعوے پر میزبان کامران شاہد نے کہا کہ اب آپ نے براہ راست عاصمہ پر الزام لگا دیا ہے۔ عاصمہ شیرازی کے خیالات جو بھی ہیں، آپ یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ وہ پیسے لے کر لکھتی ہیں۔ اس کے لئے آپ کو ثبوت دکھانے پڑیں گے کہ ان کے اکاؤنٹ میں پیسے کس جماعت نے جمع کروائے۔ لیکن چونکہ آپ وزیر ہیں، اسلیے آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ مراد سعید کی طرح آپ کی درخواست اٹھائی جائے گی لیکن عام آدمی کی شنوائی نہیں ہوگی جن کے 90 ہزار سے زائد کیسز زیرِ التوا ہیں۔

دوسری جانب اس پروگرام کے بعد عاصمہ شیرازی نے ٹوئٹر پر واضح الفاظ میں علی نواز اعوان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ یا تو اپنا الزام ثابت کریں یا مجھ سے معافی مانگیں۔ انہوں نے لکھا کہ علی نواز اعوان صاحب۔ آپ نے کامران شاہد کے پروگرام میں مجھ پر پیسے لے کر کالم لکھنے کا الزام لگایا۔ میں آپ کو اپنی کردار کشی اور جھوٹا الزام لگانے پر عدالت لے جانے کا حق رکھتی ہوں۔ تیار ہو جائیے۔ تاہم علی نواز اعوان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کے بعد اب عاصمہ شیرازی نے دو مارچ کو انہیں عزت کا قانون کے تحت نوٹس بھیج دیا ہے۔ عاصمہ کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے چودہ روز کے اندر معافی نہ مانگی تو آپ کو ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب عاصمہ شیرازی کو پی ٹی آئی حامی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی انھیں انڈیا سے چلنے والی ایک ویب سائٹ سے منسلک کر کے ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان پر الزام عائد کیے گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں اپنے ایک کالم میں میں بشری بی بی کا نام لیے بغیر ان کی جانب اشارہ کرنے پر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان میں صحافیوں کے کام پر تنقید اور سوشل میڈیا پر ان کی ٹرولنگ کوئی نئی بات نہیں لیکن جب بات آتی ہے خاص طور پر خواتین صحافیوں کی تو یہ تنقید صرف ان کے کام تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کی ذات کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ خواتین کو ہراساں کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عاصمہ شیرازی کی جانب سے وزیر اعظم کے مشیر کو ہتک عزت کا نوٹس دینے کے بعد ان کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے؟

Asma Shirazi issues Rs 10 million notice to govt adviser video

Back to top button