کم عمری میں خود کو لڑکا سمجھتی تھی

ماڈل و اداکارہ زرنش خان نے کہا ہے کہ وہ بچپن سے ہی خود کو لڑکا سمجھتی تھیں، انہیں کم عمری میں شادی کا کوئی شوق نہیں تھا۔2015 میں اداکاری کا آغاز کرنیوالی زرنش خان اس وقت وہ متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھارہی ہیں۔
’ٹو بی آنیسٹ‘ شو میں شرکت پر گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ نے ذاتی زندگی پر بھی کھل کر باتیں کیں اور بتایا کہ وہ اتفاقی طور پر شوبز میں آئیں، وہ ایک ڈرامے کے سیٹ پر گئی تھیں، جہاں انہیں ہدایت کار نے کوئی اسکرپٹ پڑھنے کا کہا اور انہوں نے اچھے انداز میں اسکرپٹ پڑھا تو انہیں اداکاری کی پیش کش کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے 2014 کے آخر یا 2015 میں اداکاری کا آغاز کیا اور شوہر کی سپورٹ کی وجہ سے وہ بے فکر ہوکر کام کرتی ہیں، شوبز انڈسٹری میں ’جنسی ہراسانی‘ یا غلط مطالبات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کبھی اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں دیکھا مگر انہیں یقین ہے کہ جس طرح دوسری انڈسٹریز میں ایسے معاملات موجود ہیں، شوبز میں بھی موجود ہوں گے۔
زرنش خان ’عورت مارچ‘ اور خِواتین کے حقوق کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ عورتوں کی خودمختاری اور ان کے حقوق کی بڑی عملبردار ہیں اور وہ ’عورت مارچ‘ جیسی تحریکوں کی حمایت بھی کرتی ہیں تاہم ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ لیکن اس بات کو واضح کیا جانا چاہیے کہ عورتوں کے حقوق کیا ہیں اور ضرورت کس طرح کی یا کس علاقے کی خواتین کو ہے۔
ندا یاسر نے ’’یاسر نواز‘‘ کو شادی سے انکار کیوں کیا؟
زرنش خان نے مزید کہا کہ خواتین کی خودمختاری کے نام پر اور بہت ساری چیزوں کی اجازت مانگی جا رہی ہے، وہ ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتیں۔شادی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر اداکارہ نے کہا کہ ان کی شادی کم عمری میں ہوگئی تھی، ان کے شوہر ان کے بچپن کے دوست ہیں جب کہ دونوں کے خاندانوں کے بھی آپس میں تعلقات رہے ہیں۔
