صحافی اطہر متین کو قتل کرنیوالے مرکزی ملزم گرفتار

سندھ حکومت نے کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں فائرنگ کے واقعے میں نجی نیوز چینل کے سینئر پروڈیوسر اطہر متین کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا، صوبائی وزیر سعید غنی نے سنیچر کے روز ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ سندھ پولیس نے اطہر متین کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا، جسے قانون کے مطابق سزا بھی دلوائی جائے گی۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں سعید غنی نے کہا کہ گرفتار ہونے والا شخص اس واردات کے دوران موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک ہے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، یاد رہے کہ سما نیوز چینل کے پروڈیوسر اطہر متین اپنے بچوں کو سکول چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا، ایس پی پولیس گلبرگ طاہر نورانی کے مطابق یہ واقعہ نارتھ ناظم آباد کے علاقے کے ڈی اے چورنگی اور پہاڑ گنج کے درمیان صبح ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے قریب پیش آیا تھا۔
ایس پی پولیس گلبرگ طاہر نورانی کے مطابق ’اطہر متین اپنے بچوں کو سکول چھوڑ کر گھر جارہے تھے جب انھیں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے روکنے کی کوشش کی تاہم اطہر متین نے مزاحمت کی اور ڈاکوؤں کو کار سے ٹکر ماری، ان کے مطابق ملزمان نے فائرنگ کی اور ایک شہری کی موٹر سائیکل لے کر فرار ہو گئے، دوسری جانب ایس ایس پی وسطی رانا معروف نے بتایا تھا کہ ملزمان شہری کو لوٹ رہے تھے، اسی دوران اطہر متین نے واردات ناکام بنانے کے لیے اپنی گاڑی سے ملزمان کی موٹرسائیکل کو ٹکر مار دی۔
اطہر متین کے بھائی طارق متین نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ کے بارے میں سنتے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں ’لوگ بتا رہے تھے کہ ڈاکو کسی خاتون سے ڈکیتی کر رہے تھے جب اطہر نے انھیں کار سے ہِٹ کیا لیکن انھیں زیادہ چوٹ نہیں لگی، انھوں نے فائرنگ کی اور فرار ہو گئے، طارق متین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں مسلسل وارداتیں ہو رہی تھیں۔ ’پولیس کی ذمہ داری تھی لیکن آس پاس رینجرز کے بھی سینٹرز ہیں، وہ بھی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے سما ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اطہر متین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت سندھ کہے تو وہ مزید رینجرز بھیج سکتے ہیں۔کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اطہر متین کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں صحافیوں پر حملوں، تشدد اور انھیں قتل کئے جانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’اطہر متین کے قتل کے واقعے کے فوراً بعد ہی ابتدائی تفتیش کے نام پر واقعے کو ڈاکووں کی فائرنگ قرار دے دیا گیا ہے، جو تفتیش کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق ایک صحافی کے ساتھ پیش آئے واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کے بعد ہی پولیس کو ایسا کوئی بیان دینا چاہیے تھا۔
یورپی کونسل نے روس کی رکنیت معطل کر دی
اطہر متین نے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا تھا اور وہ سنہ 2005 سے صحافت سے منسلک تھے۔ انھوں نے سما سے قبل آج ٹی وی اور اے آر وائی نیوز کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ اس وقت وہ سما میں سینیئر پروڈیوسر تھے۔اطہر متین کے ساتھ ماضی میں کام کرنے والے صحافی فیض اللہ خان کا کہنا ہے کہ اطہر متین نیوز روم کے شور شرابے، چیخنے چلانے والے ماحول میں بھی ایک ٹھنڈے مزاج کے کم گو انسان اور انتہائی پروفیشنل صحافی تھے۔ان کے مطابق ’اے آر وائی اور سما دونوں میں کام کرتے وقت اپنی رپورٹس کے سلسلے میں ان سے رابطہ رہتا تھا۔
سنجے سادھوانی اطہر متین کے ساتھ سما میں کام کر رہے تھے، ان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ ہنستا مسکراتا، ہر چھوٹے بڑے سے عزت سے پیش آنے والا شخص تھا اور انتہائی پروفیشنل پروڈیوسر تھے، سیکھنے اور سکھانے میں کوئی کمتری نہیں سمجھتے تھے، کراچی میں گذشتہ چند ماہ میں سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں موبائل، موٹرسائیکل اور اے ٹی ایم سے نکلنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران مزاحمت پر جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔
پولیس اور شہریوں کے درمیان تعاون کے لیے بنائے گئے ادارے ’سٹیزن پولیس لیژان‘ کمیٹی کی جنوری میں جاری کی گئی 13 ماہ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں گن پوائنٹ پر کل 4,453 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ رواں سال جنوری میں مزید 419 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں۔اسی طرح گذشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں سے 46,388 موٹر سائیکلیں بھی چوری ہوئیں جبکہ گزشتہ ماہ میں 3,908 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں، سی پی ایل سی کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک شہر میں 25,188 موبائل فون چھینے گئے جبکہ رواں سال جنوری 2022 میں مزید 2,499 موبائل فون چھینے گئے۔
کراچی پولیس کے سربراہ کا پچھلے دنوں ہی تبادلہ کیا گیا۔ نئے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے اپنی اولین ترجیحات میں سٹریٹ کرائم کی روک تھام گنوائی ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے ہائیکورٹ میں ایک مقدمے میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سٹریٹ کرائم کے حوالے سے ہماری پالیسی واضح ہے کہ سٹریٹ کریمنلز کا پرانا ریکارڈ چیک کرنا چاہیے، ان کی شناخت کرنی چاہیے، اچھے کیس بنانے چاہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسی بستیاں جہاں یہ سٹریٹ کریمنلز رہتے ہیں، وہاں انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائی کرنی چاہئے۔
بقول ان کے سٹریٹ کرائم کی ایک وجہ بے روزگاری بڑھنا بھی بتائی جاتی ہے، اس کے علاوہ منشیات استعمال کرنے والے بھی سٹریٹ کرائم میں ملوث ہوتے ہیں کیونکہ ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہوتا اور وہ اس طرح کرائم کرکے اپنی منشیات کا بندوبست کرتے ہیں۔
