لاہور میں انسانوں کے بعد ATM مشینیں بھی لوٹی جانے لگیں

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد اب ایک ایسا انوکھا گینگ متحرک ہے جس نے اے ٹی ایم مشینوں کو بھی لوٹنا شروع کردیا ہے۔لاہور میں ڈکیتیاں، چوریاں تو عام بات ہے لیکن اب اسکی جدید شکل تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ اے ٹی ایم چور گینگ بینکوں کی سیکیورٹی کو چونا لگاتے ہوئے جدید ڈیوائسز کی مدد سے کروڑوں روپے لوٹ چکا ہے اور ابھی تک پولیس کی گرفت سے بچا ہوا ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم لاہور سرکل میں درج شکایات کے مطابق فروری 2022 میں 14 عدد اے ٹی ایم مشینوں میں سے ایک کروڑ روپے سے زائد رقم چوری کر لی گئی اور ملزمان اب تک نا معلوم ہیں۔اس معاملے کی تفتیش کرنے والے ایک افسر شکیل نےبتایا کہ یہ کام ایک ہی گینگ کا ہے۔ اس کیس میں کسی صارف کے اے ٹی ایم کی معلومات چُرا کر ان کو استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ڈیٹا کیبلز کو کاٹ کر کسی جدید ڈیوائس سے جوڑ کر اور ہیک کر کے سسٹم سے پیسے نکالے جا رہے ہیں۔

تفتیشی افسر کے مطابق کئی اے ٹی ایمز پر کیمرے خراب ہوتے ہیں اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ ہیکرز نے پہلے اچھے طریقے سے ریکی کی اور اس کے بعد مختلف اے ٹی ایمز کو نشانہ بنایا تاہم کچھ مشینوں کے اندر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کام کر رہے تھے، ان کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور اس حوالے سے ٹیمیں ملزموں کی شناخت کر رہی ہیں، اس بارے نادرا اور دیگر اداروں سے بھی معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

علی وزیر کی رہائی کے لیے PTM کے دھرنے میں شدت

ترجمان ایف آئی اے نے اردو نیوز کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سائبر کرائم ونگ اس معاملے پر تحقیقات کر رہا ہے، اس لیے اس وقت میڈیا کے ساتھ زیادہ معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ ملزموں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا، ایف آئی اے حکام کے مطابق ملک میں ہر سال الیکٹرانک بینکنگ جرائم کے اوسطاً دو ہزار کیسز سامنے آتے ہیں، ان میں لوگوں کی بینک اکاؤنٹس سے متعلق معلومات کو استعمال کرتے ہوئے پیسے نکلوانا سرفہرست ہے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہیکرز نے براہ راست سسٹم کو ہیک کیا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق اس کیس میں ہیکرز نے لوگوں کے اکاؤنٹس سے پیسے نہیں نکالے بلکہ مشینوں کو الیکٹرانک طریقے سے کھولا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اس میں بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام مشینیں نئی تھیں، حال ہی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے بینکوں کو اے ٹی ایم مشینز کو اپ گریڈ کرنے، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز اپ گریڈ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، تقریباً تمام بینکوں نے اپنے نظام اپ گریڈ کر لیے ہیں، اور یہی اچنبھے کی بات ہے کہ ایک ہی کمپنی کی مشینوں کو کھولا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام پاکستانی بینکوں کو اپنے نظام اپ گریڈ کرنے اور اے ٹی ایم مشینز کو نئے بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنے کی ہدایات سال 2020 سے کر رکھی ہیں، نئی اے ٹی ایم مشینز میں لاگن انگوٹھے کے نشان سے بھی کیا جا سکتا ہے اور کارڈ کو ٹچ کر کے بھی پیسے نکالے جا سکتے ہیں۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کے مطابق جن بینک کیمروں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز پر تحقیق کی جا رہی ہے، اس میں بھی ایک مشکل یہ ہے کہ ملزموں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، اسلیے سیف سٹی اٹھارٹی سے بھی مدد لی جا رہی ہے تاکہ بینکوں تک پہنچتے وقت ان ملزموں کی نقل و حرکت کی فوٹیج تلاش کر کے ان کی شناخت کی جا سکے۔

Back to top button