میری کہانی!

تحریر : عطا ء الحق قاسمی

بشکریہ: روزنامہ جنگ

(گزشتہ سے پیوستہ)

15جنوری 1970ء کی ٹھٹھرتی ہوئی صبح کو مجھے اور مسعود کو امریکہ کےلئے روانہ ہونا تھا۔ میں نے اور مسعود نے سفر کے تمام انتظامات کرلئے تھے گھر میں ابا جی اور باجی ابھی سے اداس ہوگئے تھے اور وہ آخری لمحے تک روکنے کی کوشش کرتے رہے مگر میں اپنی ہٹ پر اڑا رہا۔ مسعود پر بھی بہت پریشر رہا تھا اسے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ایک مہینے کے اندر اندر تمہیں پسند کی نوکری دلا دی جائے گی گو اس کا کہنا تھا کہ اب وہ اس جھانسے میں نہیں آئیگا مگر اسکا رویہ ہمیشہ کی طرح تھا تاہم میں نے اسکی طرف جانا ترک کردیا تھا اور وہ میری طرف نہیں آتا تھا کیونکہ دونوں کے والدین اپنی اپنی جگہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے بیٹے کو خراب کرنیوالا دوسرا فریق ہے چنانچہ ہم دونوں باہر کہیں ملتے اور پھر ہمیشہ کی طرح گھنٹوں اداس راستوں پر بلامقصد گھومتے رہتے میں نے اپنا ہونڈا فروخت کردیا تھا حیدر آباد جا کر ضیاء بھائی جان سے بھی مل آیا تھا اور کچھ رقم بھی ان سے بٹور لی تھی ابا جی نے بھی آخری وقت میں اپنی ساری پونجی میرے حوالے کردی تھی اور اب صرف کوچ کا مرحلہ باقی رہ گیا تھا مگر سب کچھ ہو جانے کے باوجود دل کو یقین نہیں آتا تھا کہ ان دیکھے رستوں کا سفر قریب آ گیا ہے ۔ دو روز پیشتر میں نے مسعود کو فون کیا کہ میں برف خانے کے چوک میں ہمشیرہ سے ملنے جانا چاہتا ہوں سو وہ گاڑی لے کر ماڈل ٹائون پوسٹ آفس کے قریب پہنچ جائے۔ بیس پچیس منٹ میں وہ اپنی سفید فیٹ میں وہاں موجود تھا میں نے اگلا دروازہ کھولا اور نرم نرم سیٹ میں پھنس گیا۔ مسعود نے گاڑی گیئر میں ڈالی اور ماڈل ٹائون میں بس اسٹاپ پاکستانی چوک اور جے بلاک سے ہوتے ہوئے فیروز پور روڈ کی طرف ہولیا اچھرے کے قریب پہنچتے پہنچتے ٹریفک کی بے اعتدالیوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا اور ہر بار مسعود کے منہ سے مغلظات کا طوفان ابل پڑتا مگر مجھے آج نہ جانے یہ سب کچھ کیوں برا نہیں لگ رہا تھا میں بچوں کی طرح کھڑکی سے گردن باہر نکالے ڈھیروں تانگوں، گڈوں، سائیکلوں،اسکوٹروں، بھینسوں اور انسانوں کے بھنور کو محویت سے دیکھنے میں مصروف تھا نفسا نفسی کا وہ عالم تھا کہ لگتا تھا روز محشر کی ریہرسل ہو رہی ہے۔ دیواریں اشتہاروں اور تحریروں سے پُر تھیں، قوت مردی کی بحالی کیلئے سوزاک اور آتشک کے علاج کیلئے، خارش دور کرنے کیلئے اور قسمت کا حال وغیرہ جاننے کیلئے بے شمار پتے درج تھے اکثرجگہوں پر لکھا تھا دیکھو گدھا پیشاب کر رہا ہے۔ جہاں جلسوں کے اعلانات تھے ، جلسوں کی اپیل تھی، آمریت مردہ باد تھا، عرس تھے اور منٹو پارک میں شاہی دنگل کا اعلان درج تھا۔ ایک بارات گزر رہی تھی دولہا چہرے پر سہرا سجائے گھوڑے پر بیٹھا تھا اور ایک ننھا سا شہ بالا اسے پیچھے سے تھامے ہوئے تھا آگے آگے باجے والے تھے اور پیچھے باراتی گلوں میں موتیے کے ہار پہنے چلے جا رہے تھے۔ شمع سینما والی سڑک سے دس بارہ دیہاتی مردوں اور عورتوں کا ایک جلوس آتا دکھائی دیا وہ سب ننگے پائوں تھے انکے آگےڈھول والا تھا اور وہ ڈھول کی تال پر دیوانہ وار رقص کر رہے تھے غالباً ان کی منت پوری ہوئی تھی اور اب وہ شکرانے کے اظہار کیلئے داتا دربار جا رہے تھے۔اب ہم مزنگ چونگی اور ہسپتا ل سے ہوتے ہوئے گوالمنڈی میں داخل ہوگئے تھے جہاں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا اور ریڑھیوں اور چھابڑیوں کی بہتات تھی ۔ ایروز سینما کے دروازے پر گامی چھولوں والا اپنی پرات انگیٹھی پر دھرے بیٹھا تھا اور اس کے گرد گاہکوں کی بھیڑ لگی تھی۔ گنڈیری پیڑے، کڑ کڑ بولدیاں مکھڑے کھولدیاں ریوڑیاں ، پیٹھی والے لڈو گرم اور ایسی بہت سی صدائیں گڈمڈ ہو کر سنائی دے رہی تھیں ایک پہلوان نما شخص دھوتی کو ’’منی سکرٹ‘‘ بنائے بکرے کو ہانکے چلا جا رہا تھا اس نے بکرے کو گوٹے کناری والے رنگین ڈوپٹے سے ڈھانپا ہوا تھا ایک کٹی ہوئی پتنگ فضا میں ڈول رہی تھی اور اسے لوٹنے کے لئے بچے اور کئی بڑے دکانوں سے نکل نکل کر عین سڑک کے بیچ میں جمع ہوگئے تھے۔ حلوائی کی دکان پر رنگ برنگی مٹھائیاں نیچے سے اوپر کی طرف تھالوں میں سجی ہوئی تھیں اور وہ چوکی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا ۔ برابر والی دکان قصاب کی تھی۔ ایک کنڈے کیساتھ ایک بکرا لٹکا ہوا تھا اور قصائی اپنے گندے پائوں اور بڑھے ہوئے ناخنوں والی انگلیوں میں چھری پھنسائے گاہکوں کے لئے گوشت کاٹ رہا تھا ۔ امرتسری باقر خانیوں اور کلچوں کی دکان پر ایک بڑے سارے کڑاہے میں ایک لڑکا کھڑا اچھل اچھل کر پائوں سے میدہ گوندھ رہا تھا۔ ایک ریڑھے میں اناج سے بھری ہوئی بوریاں لدی ہوئی تھیں اور ایک فاقہ زدہ شخص اس میں جتا کھینچے جا رہا تھا۔مسعود نے میری رہنمائی پر برف خانے کے چوک سے دائیں جانب گاڑی موڑی اور میں اسے نرالے کی دکان کے قریب کھڑا ہونے کا کہہ کر برابر والی گلی میں چلا گیا۔ نکڑ پر ایک بوڑھا شخص سگریٹ بیچ رہا تھا اور گاہک سے وصول شدہ سکوں کو ایک آنکھ میچ کر دوسری سے بغور دیکھنے میں مصروف تھا ایک تھڑے پر دھوتی میں ملبوس ایک شخص بیٹھا تھا اور اس کا ایک ہاتھ خارش کیلئے نہایت قابل اعتراض حالت میں متحرک تھا ۔ ذرا آگے ایک سترہ اٹھارہ سال کا لڑکا بڑے پیار سے اپنے بوڑھے باپ کے سر میں تیل لگا رہا تھا کھڑکیوں کے دریچے کھلتے اور بند ہوتے تھے اور ان میں گلاب کے پھول ذرا سی جھلک دکھا کر اوجھل ہو جاتے تھے، سامنے سے تیکے نقوش کااور متناسب جسم والی ایک لڑکی ناک پر پٹکا باندھے اور سر پر گندگی کی ٹوکری اٹھائے چلی آ رہی تھی۔ پاس سے گزرتے ہوئے نوجوان نے اسے دیکھ کر ایک آنکھ میچی اور بے سُری آواز میں ایک فلمی گیت کے بول دہرانے لگا۔ ایک مکان کے باہر سراج کھسرا سر پر اوڑھنی لئے اور مصنوعی جوبن پر تنگ چولی چڑھائے پائوں میں گھنگرو باندھ رہا تھا اس کے ساتھ ایک طبلچی اور ہار مونیم والا تھا ابھی وہ سُر تال ٹھیک کرہی رہے تھے کہ اوپر سے کسی نے کھڑکی کھولی اور گردن باہر نکال کر افسردہ لہجے میں کہا اللہ کے بندوں لڑکا نہیں لڑکی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس نے کھڑکی بند کردی۔

میری کہانی؟

سراج نے گھنگرو اتار دئیے اور اللہ اسکے نصیب اچھے کرے کی دعا دیتے ہوئے سر جھکا کر چپکے سے آگے بڑھ گیا۔ (جاری ہے)

Back to top button