بگن جانیوالےامدادی قافلے پرحملہ، ایک اہلکار شہید،6دہشتگردہلاک

ضلع کُرم کےلیے ٹل کینٹ سےجانےوالے امدادی قافلے پر دہشتگردوں نے ،ایک اہلکار شہید ہوگیا جبکہ جوابی کارروائی میں6 حملہ آورمارے گئے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کرم کے مطابق کرم سے بگن جانے والے تیسرے امدادی قافلے پر دہشتگردوں نے راکٹوں سے حملہ کیا اور فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق حملےسےقافلے میں شامل3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جب کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں6 دہشت گرد مارے گئے اور 10زخمی بھی ہوئے۔

کرم  کیلئےتیسرےقافلے کے پہلے مرحلےمیں35 مال بردارگاڑیاں روانہ کی گئی تھیں جن میں دوائیں، سبزیاں، پھل اورکھانے پینے کی دیگر چیزیں شامل تھیں  جب کہ قافلے کی سکیورٹی کیلئےپولیس، ایف سی اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات تھی۔

دوسری جانب کرم سے مریضوں کی منتقلی کیلئےہیلی کاپٹرسروس10 روز سے بند ہے اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر میرحسین جان نےبتایا کہ دوائیں لانے اور مریضوں کی منتقلی کیلئے ہیلی کاپٹرسروس10روز سےبندہے،ہیلی کاپٹرسروس کے لیے ضلعی انتظامیہ کولیٹر بھیجا ہوا ہے۔

ایم ایس نےمزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ سے74 مریضوں کی منتقلی کی درخواست کی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں سڑک سےمریضوں کو منتقل کرنےکےآثار نہیں لگتے۔

وزیرمذہبی امورکے پی نےدعویٰ کیا تھا کہ ضلع کُرم کیلئےہیلی کاپٹر  سروس بدستور جاری ہے۔

سینئر پولیس افسر صہیب گل نےتصدیق کہ حملے کے بعد 21 ٹرک علاقے سے پیچھے ہٹ گئے جبکہ دیگر پھنسےہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد 2 دیگر مقامات پر شدید فائرنگ شروع ہوئی، جو اب بھی جاری ہے، صہیب گل نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں کچھ ٹرکوں میں آگ بھی لگ گئی۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے امن معاہدے کے بعد ضلع کرم میں مورچوں کی مسماری کا عمل شروع کے حوالے سے بتایا تھا۔

Back to top button