ایران پر حملہ: مودی کا دورۂ اسرائیل تنقید کی زد میں

ایران پر حملے سے قبل بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل پر عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دورے کی ٹائمنگ نے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مودی نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی، جس پر بعض بین الاقوامی مبصرین نے دعویٰ کیا کہ یہ دورہ اسرائیل کی متنازع حکومت کے لیے سیاسی سہارا فراہم کرنے والا ثابت ہوا۔

امریکی تجزیہ کار ڈوگلس میک گریگور نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ بھارتی بندرگاہوں کو استعمال کر رہی ہے، تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

پاکستان نے افغانستان کی بگرام ایئر بیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا، نیویارک ٹائمز کی تصدیق

ادھر بھارتی اپوزیشن جماعتیں، بشمول کانگریس، نے دورے کو روایتی بھارتی خارجہ پالیسی سے انحراف قرار دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنا اور اسرائیل سے قربت بھارت کی غیر جانبدار ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔

کچھ سیاسی مبصرین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ دورہ چابہار بندرگاہ اور کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ اڈانی گروپ اسرائیل کی حیفہ اور ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری رکھتا ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ قومی مفادات اور کاروباری تعلقات میں کس کو ترجیح دی گئی۔

ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز پرمکمل کنٹرول اور10 سے…

بھارتی حکومت کی جانب سے ابھی تک ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر اس دورے پر بحث جاری ہے۔

Back to top button