پشاور FC ہیڈ کوارٹر پر حملہ سکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار

 

 

 

پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کو سیکیورٹی اداروں کی سنگین ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار تینوں خودکش بمبار شہر کی مختلف مصروف سڑکوں، چوکوں اور ناکوں سے گزرتے ہوئے بنا روکے اپنے ٹارگٹ یعنی ایف سی ہیڈ کوارٹر کے مین گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اتنے حساس علاقے میں جگہ جگہ سیکیورٹی چیک پوسٹس کی موجودگی کے باوجود تینوں حملہ آور شہر میں داخل کیسے ہوئے، انہوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلہ بغیر کسی چیکنگ کے کس طرح طے کر لیا۔

 

اس حملے میں چار ایف سی اہلکار اور سات شہری زخمی ہوئے جن میں ایک پی اے ایف کا اہلکار اور ایک سکول ٹیچر بھی شامل ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق خودکش حملہ آوروں کا اصل ہدف ایف سی کی گراؤنڈ میں پریڈ کرنے والے اہلکار تھے۔ یاد رہے کہ دھماکے کے وقت گراؤنڈ میں سینکڑوں اہلکار موجود تھے۔ حملے کے بعد مختلف مقامات کی فوٹیجز اکٹھی کر کے ایک تفصیلی ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں حملہ آور ایک ہی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر ایف سی ہیڈ کوارٹرز کی طرف آتے ہیں۔

 

فوٹیج کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر الٹی سمت یعنی رانگ سائیڈ سے سفر کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے مختلف رنگ کی چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ ہیڈکوارٹرز کے قریب پہنچ کر انہوں نے موٹر سائیکل روکی اور کچھ دیر آپس میں بات چیت کرتے رہے۔ اس کے بعد ایک حملہ آور وہاں سے الگ ہو گیا جب کہ دو حملہ آور بند دکانوں کے سامنے موٹر سائیکل کھڑی کر کے وہیں رک گئے۔ تیسرا حملہ آور سڑک کنارے رکا رہا اور بار بار چادر درست کرتا ہوا نظر آیا۔ کچھ دیر بعد یہی حملہ آور پیدل چل کر مین گیٹ تک پہنچا اور پھر ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد دھوئیں کے بادل ویڈیو میں دکھائی دیتے ہیں۔

 

دھماکے کے فوراً بعد باقی دو حملہ آور گیٹ کے اندر داخل ہوئے اور وہاں ایک کمرے کے قریب انہیں فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حملے کے وقت ہیڈکوارٹر کے اندر پریڈ جاری تھی، لیکن دھماکے کے بعد اہلکار فوراً اندر چلے گئے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسی دوران ایک بکتر بند گاڑی موقع پر پہنچی اور حملہ آوروں پر فائرنگ شروع کر دی چنانچہ حملہ آور پارکنگ ایریا کی طرف دوڑ گئے۔ اس دوران ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اسی دروازے کے قریب دوسرا دھماکہ ہوا جہاں سے وہ داخل ہوئے تھے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں عسکریت پسندوں نے حملوں کا طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ حملے کے لیے دو یا تین خودکش بمبار ایک ساتھ بھیجتے ہیں۔ ایک حملہ آور ابتدائی دھماکہ کرتا ہے جب کہ باقی اندر گھس کر زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی طریقہ حال ہی میں کیڈٹ کالج وانا اور ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں پر حملوں میں بھی اپنایا گیا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ تین افغان شہری نہ صرف پشاور شہر میں داخل ہوئے بلکہ ایک ہی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر حساس ترین مقام یعنی ایف سی ہیڈکوارٹر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، حالانکہ شہر میں جگہ جگہ ناکے اور چوکیاں قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوٹیجز میں حملہ آور پیدل چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر کہیں کوئی ویجیلینس نظر نہیں آئی، جبکہ انہیں حملے سے پہلے ہی روکا جا سکتا تھا۔

 

ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے کی فوٹیجز سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئی ہیں جن میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور کیسے ہیڈکوارٹر کے سامنے اور پھر گیٹ تک پہنچتے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تینوں حملہ آور پشاور کے علاقے صدر پہنچے تھے۔ ایک حملہ آور چادر اوڑھے بی آر ٹی اسٹیشن کے قریب سے گزرتا ہوا گیٹ کے دائیں کنارے پہنچا اور وہیں خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جب کہ پیدل داخل ہونے کا راستہ گیٹ کے بائیں جانب واقع ہے۔

 

بائیں جانب موجود اسی پیدل راستے سے باقی دونوں حملہ آور اندر داخل ہوئے۔ ایف سی حکام نے بتایا کہ گیٹ پر تعینات دو اہلکار دھماکے میں جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اہلکار جس کا کام انٹری چیکنگ تھا، اس پر حملہ آوروں نے فائرنگ کی۔ دونوں حملہ آور اندر جا کر پارکنگ ایریا کی طرف گئے جہاں اے پی سی اور چھت پر موجود اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال لی تھی۔ حکام کے مطابق ایک حملہ آور کو اہلکاروں نے نشانہ بنایا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دوسرا بھی وہیں مارا گیا۔

اڈیالہ جیل میں عمران کی موت کی افواہوں کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟

ایف سی ہیڈکوارٹر کی چھت پر موجود اہلکاروں نے حملہ آوروں کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔ پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ حملہ آور پریڈ میں موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانا یا بیرک میں گھس کر انہیں یرغمال بنانا چاہتے تھے۔ اگرچہ عسکریت پسندوں نے اس حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرت ہوئے وقت کا انتخاب کیا، راستے کا تعین کیا اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی حکمت عملی بنائی لیکن ایف سی ہیڈکوارٹر میں موجود اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف حملہ روک دیا بلکہ اندر داخل ہونے والے دونوں خودکش حملہ آوروں کو بھی چند ہی منٹوں میں ہلاک کر دیا۔

 

Back to top button