بلوچستان کے 12 شہروں پر حملے، سکیورٹی ادارے ناکام کیوں ہوئے؟

 

 

 

بلوچستان کے 12 بڑے شہروں میں ایک ہی روز بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے ہونے والے منظم دہشت گرد حملوں میں 200 سے زائد افراد کی موت کو فوجی اور سیاسی قیادت کے لیے ایک کھلا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے جس نے ریاستی رٹ کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ ان حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ دہشتگرد جب اور جہاں چاہیں، ریاست پاکستان کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ہمہ گیر حملوں نے نہ صرف صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ ریاستی اداروں کی انٹیلیجنس ناکامی کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ایک ہی وقت میں مسلح افراد داخل ہوئے، انہوں نے خودکش حملے کیے، چن چن کر مخصوص افراد کو نشانہ بنایا، پولیس اہلکاروں اور سول افسران کو قتل کیا، بینک لوٹے، پولیس سٹیشنز اور فوجی تنصیبات کو تباہ کیا اور پھر فرار ہو گئے۔ تاہم 31 جنوری کو پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس نوعیت کے منظم حملے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے اندر بھی کیے گئے، جس کے بعد شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کرنا پڑا۔

 

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو عمومی طور پر بلوچستان کا نسبتاً محفوظ شہر تصور کیا جاتا رہا ہے۔ شہر اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی چیک پوسٹس کے ذریعے حفاظتی حصار قائم ہے جبکہ شہر کے اندر بھی حساس مقامات پر پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مستقل چیک پوسٹس موجود ہیں۔ اس کے باوجود دارالحکومت کے اندر اتنے بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں کا ہونا سکیورٹی اداروں کے انتظامات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 شہروں میں بیک وقت ہونے والے دہشت گرد حملے ریاستی اداروں کے ناقابلِ معافی انٹیلیجنس فیلیئر کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر خواتین اور مرد دہشت گردوں کے حملے مقامی سہولت کاری اور پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں تھے۔

 

حکومتِ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 شہروں میں ہونے والے ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دوران اب تک 130 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ 18 سویلینز اور 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کی بھی سرکاری تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم غیر ملکی میڈیا کے دعوے اس سے مختلف ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 31 جنوری کو ہونے والے حملوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ جوابی کارروائیوں میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد کے حوالے سے بھی پاکستانی حکام کے دعوؤں پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

پولیس حکام کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر ہونے والے حملے میں میر شاہد گل سمیت سات افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ان کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ گوادر میں ہونے والے ایک حملے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 11 افراد کو قتل کیا گیا، جن میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پسنی، گوادر، خاران، نوشکی اور مچھ میں بھی منظم حملے کیے گئے، تاہم ان کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔

 

بی بی سی کے مطابق کوئٹہ میں 31 جنوری کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا، جہاں دہشت گردوں نے سریاب روڈ، ہزار گنجی اور ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک جیسے حساس علاقوں کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 خطرناک قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن میں بی ایل اے کے جنگجو بھی شامل تھے، ادھر نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کے گھر پر حملے کے دوران انہیں یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

حکام کا دعوی ہے کہ انہیں رہا کروا لیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو پائی۔ بلوچستان کے ساحلی ضلع پسنی میں ایک خاتون خودکش حملہ آور کی جانب سے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دفتر پر حملے کی بھی اطلاع موصول ہوئی، تاہم اس حوالے سے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

 

بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اگست 2024 میں بھی اسی نوعیت کے منظم حملے کیے گئے تھے جن کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے دہشت گردوں کی جانب سے ریاست پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ حملہ آور جب چاہیں اور جہاں چاہیں، آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔

بلوچستان کے سیینئر تجزیہ کار دوست محمد بریچ کے مطابق اتنے منظم حملے مقامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں، اور ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج مقامی آبادی کے دل و دماغ جیتنا ہے۔ ان کے مطابق اگر ان حملوں کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے جوابی عسکری آپریشن کیے گئے تو عوامی شکایات میں اضافہ ہو گا، جبکہ گوریلا جنگ میں اصل کامیابی عام آدمی کی حمایت حاصل کرنا ہوتی ہے۔

بلوچستان میں گرینڈ فوجی آپریشن کا مطالبہ زور کیوں پکڑنے لگا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے اس خطے میں موجود قیمتی معدنیات اور عالمی طاقتوں، بالخصوص چین اور امریکہ، کی دلچسپی کے تناظر میں بھی ایک پیغام ہیں کہ بلوچستان کے وسائل تک رسائی مقامی حالات کو نظرانداز کر کے ممکن نہیں۔

دفاعی ماہرین متفق نظر آتے ہیں کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے محض سکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ مقامی مسائل کو مقامی تناظر میں سمجھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر جامع حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

Back to top button