مقبوضہ کشمیر کو بھارتی ریاست بنانے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح بنانے اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کو پاکستان کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
اسلام آباد میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت خود کو جمہوری ملک کہتا ہے، تو اسے کشمیری عوام کو بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور بھارتی میڈیا کے مطابق مودی سرکار مقبوضہ وادی کو یونین ٹیریٹری کے طور پر مستقل شکل دینے کے لیے سرگرم ہے۔
"یہ کوششیں ناقابلِ قبول ہیں، بھارتی سپریم کورٹ کو بین الاقوامی تنازعات پر فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔”
یومِ استحصال کشمیر پر بھارتی اقدامات کے خلاف قرارداد منظور
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان پہلگام واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ دراصل بھارتی پروپیگنڈے کا حصہ تھا، بھارت نے جھوٹ بولا، لیکن اس بار ان کی قسمت خراب نکلی۔”
مزید برآں، اسحاق ڈار نے یومِ استحصال کشمیر کے دن ملک میں ہونے والے سیاسی احتجاج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "سال میں 365 دن ہوتے ہیں، احتجاج کسی اور دن بھی کیا جا سکتا تھا، آج کے دن احتجاج سے کیا پیغام بھارت کو دیا جا رہا ہے؟”
