اپوزیشن کو دیوارسےلگانےکی کوشش کامیاب نہیں ہو گی،آل پارٹیزکانفرنس

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں، اور موجودہ چیلنجز سے نکلنے کے لیے ایک جامع اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے دیگر سیاسی قائدین کے ہمراہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے مقامی ہوٹل میں اے پی سی کے انعقاد کی اجازت منسوخ کرائی، تاہم تمام رکاوٹوں کے باوجود کانفرنس کامیابی سے منعقد ہوئی۔ شرکاء نے اسلام آباد انتظامیہ کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں موجودہ آئینی، سیاسی اور معاشی صورتحال پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ملک میں اپوزیشن کو سیاسی میدان سے باہر رکھنے کی پالیسی قابلِ تشویش ہے، اور سیاسی انتقام کی ہر شکل کی مذمت کی گئی۔
مشترکہ اعلامیے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کو جیل میں رکھنے کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کے خلاف مقدمات کی جلد از جلد اور منصفانہ سماعت کی جائے۔
اعلامیے میں معاشی زوال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ کہا گیا کہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں، ملک میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد تک پہنچ چکی ہے، مہنگائی اور غربت میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے، اور تقریباً 45 فیصد عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
عدالتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کا منصب محض نمائشی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے ادارہ جاتی مداخلت پر آواز اٹھائی۔ اعلامیے میں ان جج صاحبان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی گئی۔
آخر میں 2024 کے عام انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے، ایک شفاف، آزاد اور خودمختار انتخابی عمل کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا گیا۔
