بیماری کی آڑ میں عمران کو جیل سے نکالنے کی کوشش ناکام

تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی آنکھ کی خرابی کو بنیاد بنا کر فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالنے اور سابق وزیر اعظم کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کروانے کی کوشش بالآخر ناکام ہو گئی ہے۔ عمران خان کی تازہ میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں ان کی پارٹی کا بیانیہ مبالغہ آمیز ثابت ہوا ہے۔ خود عمران خان کے ذاتی معالجین اور ان کے وکلا بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ خان کی بینائی کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں تھا جتنا کہ بتایا جا رہا تھا۔

یاد رہے کہ عمران خان کی آنکھ کی خرابی کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف اور ان کے اہلِ خانہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کی صحت شدید خراب ہے، لہٰذا انہیں اڈیالہ جیل سے بنی گالہ رہائش گاہ منتقل کر کے علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم حکومت نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایک سزا یافتہ قیدی کو محض آنکھ کے نسبتاً معمولی مسئلے پر گھر منتقل کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔ حکام کے مطابق جب ضرورت پیش آئی تو عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز ہسپتال بھی منتقل کیا گیا اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ان کی آنکھ کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عمران کی آنکھ کا مسئلہ نارمل ہے چونکہ 70 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو اکثر یہ مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت عمران کی رہائی کیوں نہیں چاہتی؟

سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے میں تحریک امصاف کا اصل ہدف عمران کے لیے طبی سہولت کی فراہمی نہیں بلکہ فیصلہ سازوں پر سیاسی دباؤ ڈالنا تھا۔ پارٹی کی کوشش تھی کہ بیماری کو بنیاد بنا کر خان کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا کی جائے، عوامی جذبات کو ابھارا جائے اور فیصلہ ساز حلقوں کو رہائی کے لیے آمادہ کیا جائے۔ تاہم نہ تو ریاستی اداروں نے کسی قسم کا دباؤ قبول کیا اور نہ ہی عوامی سطح پر وہ ردعمل سامنے آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

کیا علیمہ خان کپتان سے پارٹی چھیننے کی سازش کر رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق بانی تحریک انصاف کی صحت پر سیاست ضرور ہوئی، مگر ان کے علاج کی ذمہ داری بہرحال حکومت کی ہی ہے کیونکہ وہ ریاست کی تحویل میں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق جب تک عدالت قیدی کی ضمانت نہ دے، اس کا علاج حکومت کی نگرانی میں ہی ہونا چاہیے۔ لیکن اصل سوال سیاست کا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف نے اس معاملے پر دو طرح کا دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کی، پہلا سیاسی اور دوسرا عوامی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے اور انکے علاج میں کوتاہی برتی جا رہی ہے۔ اسی بنیاد پر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی گئی اور پریس کلبوں کے باہر مظاہروں کا اعلان کیا گیا۔ تاہم عملی صورتحال اس دعوے کے برعکس نظر آئی۔ پنجاب بھر میں کہیں بھی مؤثر احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگرچہ تحریک انصاف کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ صوبائی حکومت احتجاج کی اجازت نہیں دیتی، مگر مبصرین کے نزدیک احتجاجی سیاست میں حکومتی رکاوٹیں کوئی غیر معمولی امر نہیں ہوتیں۔ اصل سوال خیبر پختونخوا کا تھا، جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور انتظامیہ بھی اس کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ پشاور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں محدود تعداد میں کارکن شریک ہوئے۔ چند سو افراد سے زیادہ کی شرکت کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی 85 فیصد بینائی متاثر ہونے کا تاثر عوام نے قبول کیا ہوتا تو ہزاروں افراد سڑکوں پر ہوتے۔

پی ٹی آئی کے مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں کی جنگ میں شدت آ گئی

اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر دھرنے میں بھی عوام کے بجائے زیادہ تر ارکانِ اسمبلی اور پارٹی عہدیداران موجود تھے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے سڑکیں بند کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اس کال کا کوئی خاص اثر نہ ہوا، جبکہ خیبرپختونخوا میں چند اہم شاہراہوں کو بند کیا گیا، جن میں صوابی انٹرچینج اور جی ٹی روڈ شامل تھیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق ان مقامات پر بھی بڑی عوامی شرکت دیکھنے میں نہیں آئی اور زیادہ تر کارکنان ہی موجود تھے۔

عدالتی مداخلت کے بعد سڑکیں کھول دی گئیں اور کاروباری طبقے نے بھی بندشوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور متوقع عوامی دباؤ پیدا نہ ہو سکا۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ عمران خان کی بیماری کی آڑ میں انہیں جیل سے نکالنے کی جو کوشش کی گئی تھی، وہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ نہ ریاستی اداروں نے لچک دکھائی، نہ عدالتی سطح پر کوئی فوری ریلیف ملا اور نہ ہی عوامی سطح پر بھرپور تحریک اٹھی۔

Back to top button