پی ٹی آئی کی خارجہ امور اور بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹیاں تحلیل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی کور اورسیاسی کمیٹیوں میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے، اوراعلیٰ پارٹی قیادت کے درمیان ان باڈیوں سےشہباز گل جیسےمتنازع شخصیات کو نکالنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔

پارٹی کےاندرونی ذرائع کےمطابق، مجوزہ تبدیلیوں پر پارٹی کے قید میں موجود بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کی جائے گی،جن کی منظوری کسی بھی بڑی تنظیمی تبدیلی کے لیے ناگزیرہے۔

ایک متعلقہ پیشرفت میں، پی ٹی آئی نے حال ہی میں اپنی خارجہ امور اوربین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کو باقاعدہ طور پر تحلیل کر دیا ہے۔یہ کمیٹی رواں سال 28 جنوری کو قائم کی گئی تھی، جس میں نمایاں شخصیات جیسے کہ زلفی بخاری، سجاد برکی، شہباز گل، اورعاطف خان شامل تھے۔

تحلیل کا اعلان بیرسٹرگوہر خان کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعےکیا گیا،جو عمران خان کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔

ذرائع بتاتےہیں کہ یہ اقدام امریکا میں مقیم پی ٹی آئی کے کچھ نمایاں کارکنوں کی جانب سے عمران خان تک پہنچائی گئی تشویش کےبعد کیا گیا۔

خیال ہےکہ ان کارکنوں نے، خاص طور پر پی ٹی آئی کی اوورسیز شاخوں کےاندر کمیٹی کی سمت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بےچینی کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی کی امریکا شاخ خاص طور پر پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے اپنے رویے پرمنقسم نظر آتی ہے جبکہ کچھ اراکین فوج اور اس کی قیادت کے خلاف جارحانہ مؤقف اپنائے ہوئے ہیں، وہیں دیگر اب مکالمے اور مفاہمت کی وکالت کر رہے ہیں۔

یہ داخلی دراڑ اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب امریکا میں مقیم ڈاکٹروں اورتاجروں کا ایک گروہ حال ہی میں اسلام آباد آیا، جہاں انہوں نےمبینہ طور پر ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے علاوہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے بھی ملاقات کی۔

ان کی کوششوں کو،جو پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان تعلقات کی مرمت کےطور پر دیکھی جا رہی تھیں، پارٹی کی ڈائیسپورا میں موجود سخت گیر عناصر کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

 

Back to top button