5 اگست سر پر آن پہنچی لیکن احتجاجی تحریک کا ٹیمپو نہ بن پایا

عمران خان کی جانب سے اپنی قید کے دو سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج کی جو کال دی گئی ہے اس کے شروع ہونے میں چند روز باقی بچے ہیں لیکن ابھی تک نہ تو کہیں تحریک کا کوئی ٹیمپو بنتا نظر آیا ہے اور نہ ہی یہ فیصلہ ہو پایا ہے کہ انکے دونوں بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان احتجاج کی قیادت کے لیے پاکستان آئیں گے یا نہیں؟ پہلے علیمہ خان نے اعلان کیا تھا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ موجود ہیں لہذا انہیں یہاں آنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا لیکن اب یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ عمران کے بیٹوں کے پاس تو پاکستانی شہریت ہی نہیں اور انہیں ویزے اپلائی کرنا پڑے ہیں۔
پارٹی قیادت کی جانب سے 5 اگست کی احتجاجی تحریک کی تیاریاں کرنے کی بجائےگزشتہ دو ہفتے سے فوکس اسی سوال پر ہے کہ کیا خان کے دونوں صاحبزادے باب کی رہائی کے لیے احتجاج کا حصہ بننے کے لیے پاکستان آئیں گے یا نہیں؟ یاد رہے کہ ماضی میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے احتجاج کی جتنی بھی کالز دی گئی ہیں وہ بری طرح ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ احتجاج کی آخری کال 26 نومبر کو تب شرمناک انجام سے دوچار ہوئی جب پولیس ایکشن کے نتیجے میں بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور جوتیاں اٹھا کر اور اپنے ورکرز کو پیچھے چھوڑ کر ڈی چوک سے ایک ہی گاڑی میں ہے واپس پشاور فرار ہو گئے تھے۔ 26 نومبر کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلنے کی کال دے چکی ہے، اگرچہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ احتجاجی مارچ کا رخ اسلام آباد کی جانب ہوگا یا یہ صرف صوبوں کی حد تک ہوگا۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے تحریک انصاف کے منتخب اراکین پارلیمنٹ کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے 9 مئی کے کیسز میں سزائیں دے کر نااہل کیا جا رہا ہے اس کے بعد احتجاجی تحریک کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق یہ امکان بہت کم ہے کہ اس مرتبہ احتجاجی قافلے پشاور سے نکل کر اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ اب اسلام آباد کے لیے ایک فیڈرل سیکیورٹی فورس بھی بنا دی گئی ہے جو کہ مظاہرین سے نمٹنے کی بھر پور اہلیت رکھتی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ ہر صوبے میں پارٹی قیادت مقامی سطح پر ہی احتجاج کر کے پانچ اگست منا لے۔
احمد چٹھہ کی نشست این اے 66، احمد خان بھچر کی نشست پی پی 87 میانوالی اور میاں اظہر کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست این اے 129 پر انتخابات کا شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے، آنے والے دنوں میں 9 مئی سے متعلق درجنوں کیسز کے فیصلے آنے ابھی باقی ہیں جس کے نتیجے میں ایوانوں میں پی ٹی آئی کو مزید دھچکے لگ سکتے ہیں، ریاست کی 9 مئی سے متعلق مقدمات میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کیسز میں ملوث افراد کے لئے مشکلات بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو سزاؤں اور نا اہلیوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف اندرونی طور پر اختلافات اور سازشوں میں گھری ہوئی ہے۔ پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ یا تو جیلوں میں ہے یا پھر روپوش ہے، جو لوگ ایوانوں میں ہیں وہ بھی اپنی نشستوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، تحریک انصاف کا اپنا تنظیمی ڈھانچہ ختم ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود سیاست کا میدان خالی نہیں۔ ٹاک شوز ہوں، پریس کانفرنسز یا سوشل میڈیا تحریک انصاف کسی نہ کسی طرح حکومت کو انگیج رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب پارٹی کی سٹریٹ پاور ختم ہوتی جا رہی ہے اور لوگ احتجاج کی کالز پر باہر نکلنے کو تیار نظر نہیں آتے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی عمران خان سے وابستہ امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ عمران کے بیٹوں کو احتجاجی تحریک کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ خان کے حامیوں کو سڑکوں پر نکالا جا سکے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق جمائمہ اپنے بچوں کو احتجاج میں شرکت کے لیے پاکستان بھیجنے پر تیار نہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ ہوں، وزیر دفاع خواجہ آصف یا پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بانی پی ٹی آئی کے دونوں بیٹوں کی پاکستان آمد سے متعلق خبروں پر ایک کے بعد ایک رد عمل دے رہے ہیں، گزشتہ کئی روز سے تحریک انصاف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ قاسم اور سلیمان پاکستان آکر اپنے والد کی رہائی کیلئے احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ اس دوران وہ برطانیہ سے امریکا بھی گئے تاکہ اپنی والد کی رہائی کے لیے انکل سام سے ملاقات کر سکیں، لیکن ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ نہ ہو پائی۔
9 مئی کے حملے: سزاؤں میں تیزی کی وجہ 5 اگست ہے یا 8 اگست؟
اس کے بعد عمران خان نے جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ دیا کہ انکے بیٹے پاکستان نہیں آرہے، اور نہ کسی احتجاجی تحریک میں شریک ہوں گے، انکا کہنا تھا کہ احتجاجی تحریک پارٹی نے چلانی ہے جس کے لئے ہدایات دے دی گئی ہیں۔ لیکن پھر پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے یہ ٹوئیٹ کر دی کہ عمران خان کے بچوں کہ پاکستان نہ آنے کی خبر غلط ہے۔
ایسے میں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف 5 اگست کو واقعی کوئی بڑا شو کر سکے گی؟ بظاہر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پی ٹی آئی کی اپنی حکمت عملی بھی ایسی نہیں ہے کہ پانچ اگست کو وہ احتجاج کے ذریعے حکومت کے ناک میں دم کر سکے، پی ٹی آئی اپنے احتجاج سے متعلق تمام فیصلہ سازی تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم پر لے جا چکی ہے، محمود خان اچکزئی ، علامہ راجہ ناصر عباس، صاحبزادہ حامد رضا، سلمان اکرم راجہ ، عمرایوب اور علی امین گنڈا پور تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کی فیصلہ سازی میں شامل ہیں۔
لیکن اس فورم کا اپنا خیال یہ ہے کہ موجودہ تحریک میں کارکن باہر نکلنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی کے جیل جانے کے بعد سے تحریک انصاف کی قیادت کے رویے نے کارکنوں کو مایوس کیا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن تب تک باہر نہیں نکلیں گے جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو کہ لیڈر شپ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں ہے یا اسکے پاس اس حوالے سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل ہے۔
