آسٹریلین حملہ آور پاکستانی کی بجائے بھارتی شہری نکلے

بھارتی سوشل میڈیا کی جانب سے سڈنی کے بونڈائی ساحل پر منعقد ہونے والی یہودیوں کی تقریب پر دہشت گرد حملے میں ملوث باپ بیٹے کو پاکستانی ظاہر کرنے کی کوشش تب الٹی پڑ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ دونوں حملہ آوروں نے حال ہی میں فلپائن کا سفر کیا تھا اور باپ ساجد اکرم نے اس دوران بھارتی پاسپورٹ استعمال کیا۔ یعنی باپ کا اصل ملک بھارت تھا اور اسکے پاس آسٹریلیا کی شہریت بھی تھی۔ فلپائنی حکام نے بتایا ہے کہ دونوں باپ بیٹے نے فلپائن میں قیام کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت حاصل کی تھی۔
دونوں حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ساجد جائے وقوعہ پر ہی مارا گیا تھا جبکہ نوید کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا جس کی حالت تشویشناک ہے۔ ساجد اور نوید اکرم کی قومیت کے حوالے سے بحث حملے کے فوراً بعد شروع ہو گئی تھی اور بھارتی سوشل میڈیا نے دونوں باپ بیٹے کو پاکستانی قرار دے دیا تھا۔ تاہم منیلا میں فلپائنی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ 50 سالہ ساجد اکرم نے حال ہی میں انڈین جبکہ ان کے بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔ یعنی باپ کا تعلق بھارت سے تھا اور اسکے بیٹے کی پیدائش آسٹریلیا میں ہوئی تھی۔
نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر میل لیون نے ان دونوں افراد کے فلپائن کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس دورے کا اصل مقصد کیا تھا اور فلپائن میں انھوں نے کن مقامات کا دورہ کیا۔ منیلا میں فلپائنی حکام نے بتایا ہے کہ دونوں حملہ آور یکم نومبر 2025 کو فلپائن پہنچے تھے اور 28 نومبر کو ملک سے روانہ ہوئے تھے۔ آسٹریلوی ٹی وی اے بی سی نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ساجد اور نوید اکرم ’عسکری تربیت‘ لینے کے لیے فلپائن گئے تھے۔ دونوں نے فلپائن کے جنوبی شہر ڈاواو کو اپنی حتمی منزل بتایا تھا۔
یاد رہے کہ ڈاواو فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈانو پر واقع ہے۔ اس جزیرے کے وسطی اور جنوب مغربی حصوں میں اسلامی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم سے ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اس ابہام کو دور کر سکتے ہیں کہ حملہ آور کا تعلق کس ملک سے تھا۔ تاہم آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ معاملات تفتیش کا حصہ ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ میں مارا جانے والا 50 سالہ حملہ آور ساجد اکرم 1998 میں بیرونِ ملک سے سٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔ یعنی وہ 26 برس پہلے انڈیا سے آسٹریلیا پہنچا تھا۔
آسٹریلوی وزیر ٹونی برک کا کہنا ہے کہ 2001 میں ساجد نے پارٹنر ویزا حاصل کیا تھا۔ دراصل ساجد اکرم کو تین بار ریزیڈنٹ ریٹرن ویزے جاری کیے گئے تھے۔ دوسرا حملہ آور یعنی ساجد کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم زیرِ حراست ہے اور ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ ٹونی برک کے مطابق نوید اکرم آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا اور اسکے پاس آسٹریلیا کی پیدائشی شہریت تھی۔ بی بی سی نے 24 سالہ حملہ آور نوید اکرم کی تصویر کی تصدیق کی ہے جس میں اسے حملے کے وقت بندوق پکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر میں وہ پیدل گزرنے والوں کے لیے بنائے گئے ایک پُل پر کھڑا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کوما سے باہر اگیا ہے اور اب ہوش میں ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں باپ بیٹا گھر والوں کو یہ بتا کر نکلے تھے کہ وہ مچھلیاں پکڑنے جا رہے ہیں۔
نوید کی والد ورینا نے بتایا ہے کہ اتوار کو حملے والے دن ان کی اپنے بیٹے سے بات ہوئی تھی۔ ورینا کے مطابق اس نے مجھے فون کیا اور کہا کہ میں ابھی تیرنے گیا تھا، اب میں کھانا کھانے جا رہا ہوں اور آج ہم گھر پر ہی رہیں گے کیونکہ یہاں بہت گرمی ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مل لینیون کا کہنا تھا کہ ساجد اکرم کو اسلحہ لائسنس 2023 میں جاری کیا گیا تھا ساجد نے پہلی مرتبہ اکتوبر 2015 میں اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست دی تھی جو کہ منظور بھی ہو گئی تھی۔ تاہم ساجد کی جانب سے لائسنس کے لیے درکار تصویر جمع نہ کروانے پر اس کی درخواست 2016 میں مسترد کر دی گئی اور اسے لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ ساجد اکرم نے 2020 میں ایک بار پھر لائسنس کے لیے اپلائی کیا جو کہ اسے 2023 میں جاری کیا گیا۔ ان کے مطابق، ساجد اکرم کے پاس اے/بی لائسنس تھا اور اس کی تحویل سے جو ہتھیار ملے ہیں وہ اس ہی لائسنس پر رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ پاس اسلحے کے چھ لائسنس تھے اور جائے وقوعہ سے بھی چھ ہی بندوقیں ملیں۔
آسٹریلیا کے سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی کے مطابق چھ برس قبل آسٹریلیا کی مقامی انٹیلیجنس ایجنسی نے بونڈائی ساحل پر حملہ آور نوید اکرم کے سڈنی میں داعش یعنی دولت اسلامیہ کے ایک سیل سے تعلق کا جائزہ لیا تھا۔ ایجنسی کہ انسداد دہشتگردی ٹیم کو پتہ چلا تھا کہ حملہ آور نے دولت اسلامیہ سے اپنی وفاداری ظاہر کی تھی۔ اب بونڈائی ساحل پر حملہ آور کی کار سے نام نہاد دولت اسلامیہ کے دو پرچم بھی ملے ہیں۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پرچم کار کے بونٹ پر ہے۔
وزیراعظم انتھونی البنیز نے تصدیق کی ہے کہ انکی ایجنسی نے اکتوبر 2019 کے دوران چھ ماہ تک نوید اکرم کے بارے میں تحقیقات کی تھیں مگر تب اسے خطرہ نہیں سمجھا گیا تھا۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ نوید اکرم مطاری نامی شخص سے قریبی رابطے میں تھا جو کہ داعش کا کمانڈر تھا اور حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ وہ بعد میں گرفتار ہو گیا تھا اور اسے سات سال قید کی سزا ہوئی تھی۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران پولیس کمشنر سے سوال کیا گیا کہ جب نوید اکرم کے متعلق حکام کو شبہہ تھا کہ اسکے شدت پسندوں سے رابطے ہیں تو اسکے والد کو گن لائسنس کیوں جاری کیا گیا، جواب میں کمشنر کا کہنا تھا کہ تب ساجد اکرم کی لائسنس درخواست کی جانچ کی گئی تھی اور اسے کلئیر کر کے لائسنس جاری کیا گیا تھا۔
بونڈی بیچ حملے کے بعد سڈنی میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی
آسٹریلوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکرم خاندان کے گھر کے قریب رہنے والی پڑوسن نے بتایا کہ وہ ’عجیب لوگ تھے۔ کسی کو ہیلو نہیں کہتے تھے۔‘ جب انھیں یہ علم ہوا کہ انھی کے پڑوسی حملہ آور تھے تو یہ ہمارے لیے خوفناک ہے۔ آسٹریلوی اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق نوید اینٹیں لگانے والا مزدور ہے جبکہ اس کا والد ساجد پھلوں کا کاروبار کرتا تھا۔ نوید اکرم کی نوکری قریب دو ماہ قبل ختم ہوئی تھی جب ان کی کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔ چند ماہ پہلے نوید کی باکسنگ کرتے ہوئے کلائی ٹوٹ گئی ہے اور ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ وہ 2026 تک کام نہیں کر سکے گا۔ چنانچہ اس نے اپنی تمام واجبات اور سالانہ چھٹی کی رقم مانگی جو آجر نے ادا کر دی۔
