بھارتی قومی ترانہ باچاخان یونیورسٹی کے طلبا کے گلے کیسے پڑا؟

 

 

 

محض مذاق میں گایا گیا بھارت کا قومی ترانہ اور جے ہند کے نعرے باچا خان یونیورسٹی کے چار طلباء کے گلے پڑ گئے، یونیورسٹی انتظامیہ نے نہ صرف اس واقعہ میں ملوث طلبہ کا تعلیمی کیریئر ختم کر دیا بلکہ ان کے آئندہ یونیورسٹی میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ صرف ایک وائرل ویڈیو کی بنیاد پر طلبہ کے اخراج کے فیصلے نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ایک طرف بعض سوشل میڈیا صارفین یونیورسٹی کے فیصلے کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں وہیں دوسری جانب ناقدین اسے ظلم قرار دے رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ طلبہ کو صفائی کا موقع دیے بغیر انہیں یونیورسٹی سے کیوں نکالا گیا۔ ناقدین کے مطابق، کسی بھی کارروائی سے پہلے طلبہ کا مؤقف سننا اور حقائق کا جائزہ لینا لازمی تھا۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے صرف عوامی دباؤ کی وجہ سے چار طلباء کا تعلیمی مستقبل ہمیشہ کیلئے تاریک کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ باچا خان یونیورسٹی میں یہ واقعہ 11 فروری کو شام چار بجے کے بعد پیش آیا، جب کیمپس میں یوتھ فیسٹیول کے پہلے دن کا اختتام ہوا۔ وائرل ویڈیو میں فارمیسی کے طالب علم جبران ریاض کو انڈیا کا ترانہ گاتے ہوئے اور کچھ دیگر طلبہ کو ان کے ساتھ کھڑے دیکھاجا سکتا ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی کی ڈسیپلینری کمیٹی نے 13 فروری کو میٹنگ کی اور چار طلبہ جبران ریاض، سید کاتب شاہ، بشیر خان اور مراد خان کو یونیورسٹی سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان طلبہ نے بدامنی پھیلانے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی نیت سے انڈیا کا ترانہ گایا، واقعے کو ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ چاروں طلبہ کو ہاسٹل کے کمرے خالی کرنے کا بھی حکم دیا گیا جبکہ ان کے آئندہ یونیورسٹی میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

 

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کے بعد اس واقعہ میں ملوث طلباء اپنی صفائیاں پیش کرتے اور معافیاں مانگتے دکھائی دئیے، بھارتی ترانہ گانے والے جبران ریاض نے وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد ایک اور ویڈیو میں معافی مانگی اور کہا کہ یہ محض مذاق تھا۔ انہوں نے وضاحت کی: "یوتھ فیسٹیول پر تمام سٹوڈنٹس اکھٹے ہوئے تھے، جس طرح مذاق میں ہم انڈیا کے گانے گاتے یا سنتے ہیں، میں نے بھی اسی طرح سے بھارتی ترانہ گایا۔ تاہم مجھے آئیڈیا نہیں تھا کہ اس سے اتنا بڑا مسئلہ ہو جائے گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا اپنا ملک ہے، ہم اس کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتے اور انڈیا ہمارا دشمن ہے۔ میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں مجھے معاف کیا جائے”

 

مراد خان نے بھی اپنی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے بعد ہمیں بلا کر صرف بتایا گیا کہ آپ لوگ ایک ویڈیو میں آئے ہیں۔ ہمیں صفائی دینے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، اور نوٹیفکیشن سے ہی ہمیں یونیورسٹی سے نکالنے کا علم ہوا۔ مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ اتنی بڑی سزا ہو گی۔ جب ترانہ ختم ہوا تو میں نے بس جے ہند کے نعرے کا جواب دیا تھا۔”

پنجاب میں جعلی پولیس مقابلے: عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

بھارتی قومی ترانہ گانے کی پاداش میں چار طلبا کے باچا خان یونیورسٹی سے اخراج کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے  ایک طرف کچھ صارفین یونیورسٹی کے سخت اقدام کا دفاع کر رہے ہیں اور اسے قومی وقار کے تحفظ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تو دوسری طرف ناقدین اسے ظلم اور غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق صرف ایک وائرل ویڈیو کی بنیاد پر طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کرنا درست نہیں تھا۔ یونیورسٹی کو کسی بھی کارروائی سے پہلے طلبہ کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور وضاحت دینے کا موقع دینا چاہیے تھا۔ ناقدین کے بقول یوتھ فیسٹیول جیسی تقریبات میں مزاح اور تفریح کا عنصر لازمی ہوتا ہے۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے میں سختی برتی، جس سے طلبہ کا تعلیمی کیریئر متاثر ہوا اور ان کے مستقبل کے دروازے بند ہو گئے۔ تحریک انصاف اور دیگر سیاسی حلقوں کے بعض افراد بھی اس فیصلے کو سخت اور متعصبانہ کارروائی قراردے رہے ہیں جبکہ بعض کا موقف ہے کہ ایسے اقدامات ملک کے وقار اور قومی اتحاد کے لیے ضروری ہیں۔

 

Back to top button