اوور سیز پاکستانیوں کیلئے بری خبر ، کاروں کی امپورٹ پر پابندی

وفاقی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے پرسنل بیگیج سکیم کے تحت گاڑیاں درآمد کرنے کی سہولت ختم کر دی ہے، جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ سکیم کے تحت گاڑیوں کی امپورٹ پالیسی بھی مزید سخت کر دی ہے۔ جس کے بعد چھوٹی جاپانی گاڑیوں کی امپورٹ بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ حکومتی اقدامات کے بعد سمندر پار پاکستانیوں کیلئے گاڑیوں کی امپورٹ مزید مشکل ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس نئی حکومتی پالیسی کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بیرون ملک سے زرمبادلہ بھیجنے والے شہریوں کو ملک کا قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے اور انہیں مختلف مراعات دی جاتی ہیں، لیکن پاکستان میں اس کے برعکس اوورسیز پاکستانیوں کو بوجھ سمجھتے ہوئے سہولیات دینے کی بجائے پہلے سے موجود مراعات بھی واپس لی جا رہی ہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے گاڑیوں کی درآمد سے متعلق تین اہم سہولیات بیگیج سکیم، گفٹ سکیم اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیم موجود تھیں، جنہیں اب حکومت کی جانب سے ختم یا مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بیگیج سکیم کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن واپسی پر اپنی ذاتی استعمال کی گاڑی لانے کی اجازت تھی، جس کیلئے شرط یہ تھی کہ گاڑی بیرونِ ملک ان کے نام پر کچھ عرصہ پہلے سے رجسٹرڈ ہو۔ اس طریقے سے ملک میں گاڑی لانے پر بھی بھاری ڈیوٹی عائد تھی، مگر درآمد کا طریقہ نسبتاً آسان تھا۔ تاہم یہ سکیم اب ختم کر دی گئی ہے، تاہم اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے اپنے قریبی رشتہ داروں کو گاڑی بطور تحفہ دینے کے لیے رائج گفٹ اسکیم بدستور برقرار ہے۔ اسی طرح ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیم اُن پاکستانیوں کے لیے متعارف کرائی گئی تھی جو طویل عرصہ بیرونِ ملک قیام کے بعد مستقل طور پر وطن واپس آتے ہیں اور اپنی ذاتی استعمال کی گاڑی ساتھ لانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ انہیں اب بھی گاڑی درآمد کرنے کی اجازت ہے، تاہم اس مقصد کے لیے عائد شرائط کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس کے باعث اس سہولت سے فائدہ اٹھانا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کیلئےگاڑیوں کی درآمدات کے حوالے سے ملک میں رائج تینوں سکیموں میں ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوتا تھا، مگر طریقہ کار نسبتاً آسان تھا۔ تاہم نئی حکومتی پالیسی کے بعد بیگیج سکیم کو تو یکسرختم کر دیا گیا ہے جبکہ گفٹ سکیم اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیم کو اتنا سخت بنا دیا گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گاڑیاں درآمد کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے بیرونِ ملک سے گاڑی لانے کی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے درآمد کرنے کی درمیانی مدت کو دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا ہے، پہلے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کم از کم دو سال رہائش کے بعد گاڑی پاکستان لا سکتے تھے، لیکن اب اس مدت کو تین سال کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ درآمد کی گئی گاڑی ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام پر منتقل نہیں کی جا سکے گی۔ دوسری جانب گفٹ سکیم کے تحت دو گاڑیاں درآمد کرنے کے درمیان وقفے کو بڑھا کر 700 سے 850 دن کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سمندر پار پاکستانی اس گفٹ سکیم کے تحت ایک گاڑی منگواتا ہے تو دوسری گاڑی منگوانے سے پہلے اسے 850 دن انتظار کرنا ہوگا۔
اوورسیز پاکستانی گاڑیوں کی درآمدی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے پر سراپا احتجاج ہیں جبکہ پاکستانی آٹو مارکیٹ سے وابستہ تاجر اور ماہرین اس حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ گاڑیاں خریدنے والے متوسط طبقے کو اس سے کیا فرق پڑے گا؟ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے استعمال شدہ امپورٹڈ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی سے متوسط طبقہ براہِ راست متاثر ہو گا، کیونکہ بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس سکیموں کے تحت زیادہ تر سستی 660 سی سی جاپانی گاڑیاں آتی تھیں جو قیمت، فیچرز اور فیول ایوریج کے لحاظ سے عوام میں مقبول تھیں۔ حکومتی پابندیوں کے بعد ان گاڑیوں کے درآمدات رکنے سے 20 سے 30 لاکھ میں معیاری گاڑی کا آپشن ختم ہو جائے گا اور قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کے ٹیکس نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وفاقی حکومت نے نئے کرنسی نوٹ لانے کا فیصلہ کیوں کر لیا
دوسری جانب بعض دیگر ماہرین کے مطابق حکومتی پابندی مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی اور کمپنیوں کو چھوٹی گاڑیوں میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ ماضی میں سمندرپار پاکستانیوں کے لیے موجود تینوں سکیموں کے غلط استعمال کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت کی نئی پالیسی سے گرے ایریا کم ہوگا اور ٹیکس چوری کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ ماہرین کے مطابق نئی حکومتی پالیسی سے اوورسیز پاکستانی متاثر نہیں ہونگے کیونکہ ان کیلئے دو سکیمیں اب بھی برقرار ہیں اور وہ انہی کے تحت گاڑیاں درآمد کر سکیں گے۔ اس طرح اب مارکیٹ میں گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کا آپشن بھی موجود ہے، اور جو لوگ جلدی میں گاڑی درآمد کرنا چاہتے ہیں وہ کمرشل امپورٹ کے تحت گاڑی لے سکتے ہیں
