بحرینی سرمایہ کار آئیں، حکومت مکمل سہولت دے گی،شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ حکومت انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔

منامہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹیجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے۔ ان کے مطابق دورۂ بحرین کا بنیادی مقصد معاشی شعبوں میں نئی راہیں ہموار کرنا ہے، جبکہ زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں مشترکہ تعاون وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ شناخت سرحدوں کی پابند نہیں۔ گزشتہ مالی سال میں بحرین میں پاکستانی کمیونٹی نے 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجیں۔ انہوں نے بحرینی قیادت کی پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور کمیونٹی سے کہا کہ وہ بحرین کے بھی بہترین سفیر بنیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بحرین مالیاتی استحکام، انسانی ترقی اور جدید معیشت کی بہترین مثال ہے۔ پاکستان اس تجربے سے سیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس افرادی قوت، اسٹریٹیجک محلِ وقوع اور ابھرتی ہوئی منڈی ہے، جبکہ بحرین مالیاتی مہارت اور عالمی تجربے کا حامل ہے، اس لیے دونوں ملک مل کر شاندار کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ “میں بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے، شراکت داری کرنے اور مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ہم انہیں سرمایہ کاری، کاروباری تعاون اور جوائنٹ وینچرز کے لیے مکمل سہولیات فراہم کریں گے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی قوت موجود ہے— 60 فیصد آبادی 15 سے 30 برس کے درمیان ہے—اور یہ طبقہ ایک چیلنج ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم موقع بھی ہے۔ نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جارہا ہے، اور بحرینی اداروں کے ساتھ مل کر نئی شراکت داری کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، جو دوطرفہ معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

Back to top button