باجوہ ڈاکٹرائن فارغ، حافظ ڈاکٹرائن کے تحت کشمیر پالیسی تبدیل

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کشمیر ڈاکٹرائن کے برعکس نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نئے ڈاکٹرائن کے تحت کافی عرصے بعد 5 فروری 2025 کو یوم کشمیر ایک مرتبہ پھر سے بھرپور طریقے سے منایا گیا ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کے سابقہ دور کی ٹھنڈی ٹھار کشمیر پالیسی کو ریورس کر دیا گیا ہے اور اب اس حوالے سے قدرے سخت اور جارحانہ رویہ اپنایا جائے گا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ انگریزی روزنامہ دی نیوز میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ باجوہ دور کے برعکس اس برس کشمیر ڈے پر ریاست، حکومت اور غیر ریاستی عناصر اپنے ہندوستان مخالف جذبات کے اظہار کے لیے ایک صفحے پر نظ آئے جو کہ ایک بڑی پالیسی چینج کا اظہار تھا۔ انکا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی زیر قیادت 2018 میں ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی کے بعد سے، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے قدر نرم پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ اس دوران اپوزیشن کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا کہ جنرل باجوہ نے عمران خان دور حکومت میں مل جل کر بھارت کے ساتھ کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے مودی حکومت کو بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلوانے والا آرٹیکل 370 ختم کرنے کی جرات ہوئی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران دور میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہندوستان کی مودی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خود مختاری کی تنسیخ کے بعد بھی اپنا مصالحتی موقف برقرار رکھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی آڑ میں کشمیر کی آزادی کے لیے متحرک پاکستانی جہادی تنظیموں پر بھی پابندیاں لگوا دیں اور ان کے اثاثے منجمد کروا دیے۔ شاید باجوہ ڈاکٹرائن کا بنیادی مقصد بھارت کے ساتھ تناؤ ختم کر کے مفاہمت کی فضا پیدا کرنا تھا۔ تاہم، جنرل عاصم منیر کے ارمی چیف بننے کے بعد سے شاید ریاست کے اندر یہ شدید احساس شدت اختیار کر گیا تھا کہ جنرل باجوہ کی بھارت کے ساتھ اپنائی گئی 6 برس طویل نرم پالیسی کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ الٹا بھارت کے کشمیر اور پاکستان مخالف اقدامات نے معاملات کو سلجھانے کی بجائے اور بھی الجھا دیا، سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بھارت اس حد تک آگے چلا گیا کہ اس نے باجوہ دور میں پاکستانی سرزمین پر کرائے کے قاتلوں کے ہاتھوں 20 جہادیوں کو مروا دیا۔ جنرل باجوہ کے دور میں ہی لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کی لاہور والی رہائش گاہ بھی ایک خودکش حملے کا نشانہ بنی۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا مقصد بھارت کے ساتھ امن قائم کرنا، پاکستانی معیشت کو بہتر کرنا، اور پاکستان کو دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات سے بچا کر ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر بنانا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ پاکستان بدستور معاشی دباؤ میں ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات خراب تر ہوئے ہیں، اور پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام بھی برقرار ہے۔
چنانچہ مبصرین اب جنرل عاصم منیر کے دور میں پاکستان کی کشمیر پالیسی میں ایک اہم تبدیلی دیکھ رہے ہیں: پانچ فروری 2025 کو یوم کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا بنیادی مقصد بھی جنرل عاصم منیر کے نئے کشمیر ڈاکٹرائن کو اجاگر کرنا تھا۔ اس روز ریاستی اور حکومتی اداروں کی جذباتی تقاریر، اور بھارت مخالف بیان بازی نے بھارت کے حوالے سے باجوہ دور میں اپنایا گیا معذرت خواہانہ لہجہ ترک کر کے جارحانہ کشمیر پالیسی اپنانے کا اشارہ دیا ہے۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ حافظ ڈاکٹرائن پاکستان کے اندرونی معاشی استحکام پر زور دیتا ہے۔ اسی لیے عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ موجودہ نظام میں خلل ڈالنے سے گریز کریں، تا کہ ملکی معیشت کو ترقی اور استحکام حاصل ہو۔ موجودہ فوجی قیادت نے پچھلے دور کے برعکس پاکستان کے اقتصادی استحکام میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، موجودہ فوجی قیادت ملک کے وسیع تر مفاد میں تاجروں، صنعت کاروں اور خلیجی ممالک کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے رابطے میں ہے۔ سہیل وڑائج کے مطابق اگرچہ جنرل حافظ عاصم منیر اور ان کے پیشرو جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستانی سیاست پر ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں، لیکن عاصم منیر اپنے کیریئر، نظریات اور بین الاقوامی اپروچ میں جنرل باجوہ سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طاقتوں نے اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات سرانجام دینے والے جنرل باجوہ کو بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ ویسے بھی جنرل باجوہ کے امریکہ اور کینیڈا میں مضبوط رابطے تھے جنہوں نے پاکستان کی پرو کشمیر پالیسی کو متاثر کیا۔ جنرل باجوہ کی اس پالیسی نے مغرب کو خوش کیا لیکن اس سے بھارت کو پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کی ہمت مل گئی۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے برعکس جنرل عاصم منیر کو اپنی ذات کی نمائش کرنے اور خود کو بڑھاوا دینے کا شوق نہیں ہے۔ وہ خاموشی سے پیچھے رہ کر معاملات چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ایک روایتی فوجی افسر کی طرح پاکستان کی نظریاتی اساس پر یقین رکھتے ہیں اور امریکہ کی بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سٹریٹجک محاذوں پر کام کرنے کو ترجیح ہیں۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمومی طور پر ناقابل اعتبار سمجھے جانے والے جنرل باجوہ کے برعکس جنرل عاصم منیر کی اپنے ملک اور ادارے سے واضح وفاداری نے انہیں اپنے اردگرد کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے واقعے سے پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ حافظ محمد سعید اور دیگر جہادی تنظیموں کو جہاد کشمیر میں حصہ ڈالنے پر امادہ کرتی تھی لیکن جنرل باجوہ کے دور میں نئے باجوہ ڈاکٹرائن کے تحت یہ سلسلہ تقریبا ختم ہو گیا۔
دوسری طرف پاکستانی فوجی قیادت کی جانب سے کشمیر پر نرم پالیسی اپنانے کے باوجود ہندوستان نے مثبت جواب دینے کی بجائے پاکستان مخالف بلوچ اور طالبان گروپوں کی مدد شروع کر دی جس سے یہاں دہشت گردی کے واقعات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔ چنانچہ موجودہ فوجی قیادت نے بین الاقوامی دباؤ میں آ کر جنرل باجوہ کی طرف سے اختیار کی گئی کشمیر پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ حافظ ڈاکٹرائن نے باجوہ ڈاکٹرائن کو فارغ کر دیا ہے۔
صدر زرداری کے دورہ چین سے امریکہ کو کیا پیغام دیا گیا ہے ؟
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت اپنائے گئے مقبوضہ کشمیر کے نئے بیانیے نے پاکستانیوں، کشمیریوں اور جہادیوں کو تو خوش کیا ہے لیکن اس سے اہم بین الاقوامی چیلنجز سامنے آئیں گے۔ بھارت کے ساتھ ایک اور جنگ پاکستان کے معاشی اور تزویراتی مسائل کو مزید بڑھا دے گی۔ لہٰذا سیانا طریقہ یہی ہو گا کہ کشمیر اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی صرف اخلاقی حمایت کی جائے اور جہادیوں کی حوصلہ شکنی کی پالیسی برقرار رکھی جائے۔
