باجوہ، عمران اور فیض حمید نے طالبان کو پاکستان میں بسانے کا فیصلہ کیا تھا : خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے دہشت گرد کو امریکا کے حوالے کیا تو کیا ہوا، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ، عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید نے طالبان کو پاکستان میں بسانے کا فیصلہ کیا تھا۔ فیض حمید تو گرفتار ہے، جنرل باجوہ سے تو پوچھا جائےکہ اس نے ان دہشت گردوں کو کیوں بسایا ؟۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم نے شروع نہیں کی تھی،مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں کی تھی،امریکا نے دہشت گردی کا نام لے کر عراق، لیبیا اور افغانستان میں جنگ لڑی،ہم دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہیں۔
مرکزی رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ دہشت گردی پوری دنیا کا مسئلہ ہےجس کو مل کر حل کرنا ہوگا، دہشت گردی روکنے میں ناکامی جانچنے کےلیے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کی انکوائری ہونی چاہیے۔
عمران خان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھنے سےمتعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پہلے خطوط بازی پاکستان میں ہوتی تھی اب اسے بین الاقوامی درجہ دے دیا ہے، پہلے جو خطوط کا حشر ہوا تھا ان خطوط کا بھی وہی حشر ہو گا،میں کسی کو مشورہ نہیں دیتا، وہ مشورے سے بہت بالاتر ہیں،ان لوگوں کو جادو منتر کے مشورے ہوسکتے ہیں،کوئی اور بات نہیں ہوسکتی۔
پاکستان میں دہشتگردی میں 45 فیصد اضافہ، رپورٹ جاری
خواجہ آصف نے کہاکہ مفاہمت کی سیاست وہاں ہوتی ہے جہاں دوسرا فریق حملہ آور نہ ہو،میں اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی یا ان کی طرف سےبات نہیں کررہا، اگر مفاہمت نہیں ہورہی تو پھر آپ کو مزاحمت کی سیاست کرنی چاہیے۔
وزیر دفاع کاکہنا تھاکہ دہشت گردی کی ذمہ داری خیبرپختونخوا حکومت بھی تو اٹھائے، خیبرپختونخوا عمران خان کے اقتدار کی جنگ لڑرہا ہے، خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کر رہی۔
ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ،عمران خان اور جنرل (ر) فیض حمید نے طالبان کو پاکستان میں بسانے کا فیصلہ کیا،یہ تینوں کا مشترکہ فیصلہ تھا،اسمبلی کی کارروائی میں میرا مؤقف موجود ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ فیض حمید تو گرفتار ہے، جنرل باجوہ سے تو پوچھا جائےکہ اس نے ان دہشت گردوں کو کیوں بسایا ؟۔
