ایران اور سعودیہ میں توازن: پاکستان کا سب سے بڑا امتحان

 

 

 

امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد ایران اور عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرق وسطی کو ایک پیچیدہ بحران میں دھکیل دیا ہے بلکہ پاکستان کو بھی کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے، اسلام آباد کے لیے سب سے بڑا اور مشکل سفارتی امتحان یہ ہے کہ اس نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

 

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کو خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیانات میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ تاہم سعودی بیان میں مشترکہ کوششوں کے جائزے کا ذکر کیا گیا، جسے بعض مبصرین موجودہ بحران کے تناظر میں ایک اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

 

وزیراعظم کے ترجمان کی جانب سے پہلے دیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ضرورت پڑنے سے پہلے بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اس بیان نے پاکستان کے ممکنہ جھکاؤ کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی اور خطے میں مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا۔

دوسری جانب پاکستان نے ایران کے ساتھ رابطے بھی برقرار رکھے ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان متعدد ٹیلیفونک رابطے ہوئے، جبکہ وزیراعظم نے بھی ایرانی صدر سے گفتگو کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر ایک طرف جانے کے بجائے رابطے کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے ایران پر ہونے والے حملوں کی سختی سے مذمت کی ہے اور خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسوس کے علاوہ ایران کے نئے سپریم کمانڈر مجتبی خامنہ ای کی تقرری کو بھی سراہا ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے تاکہ خطہ مزید تصادم کی طرف نہ بڑھے۔ تاہم اگر تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو عملی طور پر کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں اسرائیل کے مقاصد اور امریکی حکمتِ عملی بھی زیر بحث ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ کشیدگی ایک وسیع تر جغرافیائی و اسٹریٹجک مقابلے کا حصہ ہے، جس میں عسکری صلاحیتوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ایران کی قیادت اور اس کے سکیورٹی ادارے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایران اگرچہ وقتی طور پر دفاعی حکمتِ عملی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم مسلسل کشیدگی خطے کے ممالک کو اپنے تحفظات بڑھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کے حوالے سے فیصلے عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

 

پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی محنت کش کام کرتے ہیں، جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کی ضروریات اور دفاعی تعاون بھی خلیجی تعلقات سے جڑے ہوئے ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر جیسے منصوبے بھی علاقائی استحکام سے براہِ راست منسلک ہیں۔ کسی بھی وسیع جنگ یا کشیدگی کی صورت میں ان منصوبوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔

ایران پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ کو لینے کے دینے کیوں پڑ گئے؟

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی متوازن موقف اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ایک جانب اس نے بحرین کی قرارداد کی حمایت کی، جس میں خلیجی ممالک سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا، اور دوسری جانب روسی قرارداد کی بھی تائید کی، جس میں جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا گیا تھا۔ اسلام آباد کے مطابق دونوں مؤقف اس کی مجموعی پالیسی کے مطابق تھے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پاکستان ایک نازک سفارتی توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جسے بعض ماہرین محتاط یا جنگی سٹریٹیجی قرار دیتے ہیں۔ اسلام آباد بیک وقت سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات کو ترجیح دے رہا ہے جبکہ ایران کے ساتھ رابطوں کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ بحران میں پاکستان کی اصل طاقت کھلے سفارتی چینلز اور متوازن سفارت کاری میں ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو فیصلے مشکل ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال پاکستان کی کوشش علاقائی امن، مذاکرات اور استحکام کو فروغ دینا دکھائی دیتی ہے۔

 

Back to top button