بلوچستان: عید کے خطبوں سے بلوچ قوم پرستوں کے خطاب

 

 

 

بلوچ قوم پرست تنظیموں کی جانب سے مسلسل حملوں کی زد میں رہنے والے بلوچستان میں گزرتے وقت کے ساتھ ریاست کی رٹ کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے جس کا ایک بڑا ثبوت اس مرتبہ عید الفطر کے اجتماعات پر امام صاحبان کے خطبوں کی بجائے مسلح بلوچ قوم پرستوں کے خطابات کی صورت میں ملا۔

 

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے بلوچستان میں عیدالفطر کے موقع پر نقاب پوش مسلح بلوچ عسکریت پسندوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں انہیں عید کے اجتماعات سے خطاب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں ریاستی رٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایک غیر معمولی اور نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان میں قوم پرست عسکریت پسندوں کی عوامی مقامات پر موجودگی اور کارروائیوں کا سلسلہ 2024 سے جاری ہے۔

 

لیکن ایسی سرگرمیاں زیادہ تر بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں رپورٹ ہو رہی ہیں، جن میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، شہری حدود میں داخل ہو کر کئی گھنٹوں تک موجود رہنا اور مقامی لوگوں سے براہ راست بات چیت شامل ہے۔ اگرچہ ان واقعات نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ صوبے میں ریاست کی عملداری برقرار ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی سخت ہونے کے باعث عسکریت پسند کسی بڑے شہری مرکز میں داخل نہیں ہو سکے بلکہ دور افتادہ علاقوں میں چند مختصر کارروائیاں کر کے ویڈیوز بنانے کے بعد فرار ہو گئے۔

 

تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں تین مختلف مقامات پر مسلح افراد کو عید کے اجتماعات سے خطاب کرتے دیکھا گیا، جن میں دو مقامات پر براہوی جبکہ ایک پر بلوچی زبان استعمال کی گئی۔ یہ واقعات بلوچستان کے اضلاع مستونگ، خاران اور کچھی کے علاقوں میں پیش آئے۔ مستونگ کی تحصیل کردگاپ میں ایک کھلے میدان میں ہونے والے عید اجتماع سے ایک مسلح بلوچ قوم پرست نقاب پوش نے خطاب کیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے چھ مسلح افراد گاڑیوں میں آئے جبکہ دیگر افراد نے اطراف میں پوزیشنز سنبھال رکھی تھیں۔ نماز اور خطبے کے بعد ایک مسلح شخص نے تقریباً 20 سے 25 منٹ خطاب کیا اور بعد ازاں تمام افراد وہاں سے چلے گئے۔

 

اسی طرح ضلع خاران کے علاقے لجّے میں ایک مسجد کے اندر ایک نقاب پوش شخص نے منبر پر کھڑے ہو کر براہوی زبان میں خطاب کیا، جبکہ ضلع کچھی کے ایک علاقے میں ایک مسلح شخص کو کھلے چہرے کے ساتھ بلوچی زبان میں اجتماع سے خطاب کرتے دیکھا گیا۔ مقامی آبادی کے مطابق یہ تمام علاقے پہلے بھی بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں لیکن عید الفطر کے اجتماعات سے ان لوگوں نے پہلی مرتبہ خطاب کیا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ برس مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا تھا جبکہ کوئٹہ سے تفتان جانے والی شاہراہ پر بھی کئی خونی حملے رپورٹ ہوئے تھے۔

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں ملوث افراد کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال کے دوران کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشنز میں سینکڑوں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند مختصر کارروائیوں کے بعد فرار ہو جاتے ہیں اور اکثر عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

دوسری جانب سکیورٹی ماہرین اور سابق پولیس افسران اس صورتحال کو محض سکیورٹی مسئلہ قرار دینے کے بجائے سماجی و سیاسی پہلوؤں پر بھی زور دے رہے ہیں۔ سابق ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ کے مطابق مقامی آبادی سے مؤثر رابطے کے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں اور کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینا ہوگا۔

اگلے ہفتے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

دفاعی ماہرین کے مطابق اس برس عید کے اجتماعات سے بلوچ عسکریت پسندوں کا خطاب ان کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ گروہ بلوچستان کے مذہبی رجحان رکھنے والے طبقے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اب تک ان سے فاصلہ رکھتا آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں ایسی انوکھی کارروائیوں کا مقصد اپنی موجودگی کو نمایاں کرنا ہو سکتا ہے، لیکن یہ عناصر زیادہ دیر کسی مقام پر ٹھہرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے اور عید کے موقع پر بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ تاہم ان حالیہ واقعات نے ایک بار پھر بلوچستان میں سکیورٹی، ریاستی عملداری اور مقامی سطح پر اعتماد کی بحالی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

 

Back to top button