کوئٹہ ریلوے اسٹیشن حملہ : بلوچستان حکومت کا 3 روزہ سوگ منانے کا اعلان

کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر ہونےوالے خودکش دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صوبائی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا۔
بلوچستان حکومت کے اعلامیہ کےمطابق صوبہ بھر میں 11 سے13 نومبر تک سوگ منایا جائےگا،تینوں روز تمام سرکاری عمارتوں پر نصب قومی پرچم سرنگوں رہےگا۔
خودکش حملےبعد سکیورٹی صورت حال سے متعلق اجلاس کےبعد تبادلہ خیال کرتےہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھاکہ دہشت گردوں کا سر پوری قوت سےکچلنے کا فیصلہ کیاگیا ہے،بلوچستان سے دہشتگردی کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کےہمراہ سکیورٹی صورت حال پر اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سےصوبائی حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر ضروری وسائل کی فراہمی کا بھی اعلان کیاگیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کاکہنا تھاکہ وفاقی حکومت کے تعاون سے پولیس اور لیویز کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کےاقدامات کریں گے۔
خیال رہےکہ گزشتہ روز ایس ایچ او ریلوے کی مدعیت میں سی ٹی ڈی تھانے میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکےکا مقدمہ نامعلوم افراد کےخلاف درج کر لیا گیاتھا۔
سی ٹی ڈی حکام کےمطابق مقدمےمیں قتل،اقدام قتل،انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں،خودکش حملے میں27 افراد شہید اور 62 افراد زخمی ہوئےتھے۔
سی ٹی ڈی حکام کاکہنا تھا کہ خودکش حملہ آور نےمسافروں کےدرمیان پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑایا، خودکش حملہ آور نے8 سے 10 کلو دھماکا خیز مواد کا بیگ باندھا ہوا تھا، خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا ٹیسٹ کےلیے فارنزک لیب بھجوائے جائیں گے،خودکش حملہ آور کی شناخت کےلیے نادرا سے بھی مدد لی جائےگی۔
ریلوے حکام کےمطابق جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کےلیے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ دھماکا ہو گیا،دھماکا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کےقریب ہوا۔
کوئٹہ دھماکہ،دہشت گردوں کوپوری طاقت سےکچلنے کا فیصلہ
کمشنر کوئٹہ محمد حمزہ شفقات نے بھی تصدیق کی تھی کہ ریلوے اسٹیشن پر دھماکا خودکش تھا،حملہ قانون نافد کرنےوالے ادارے پر تھا،شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا،خودکش حملے میں شہید اور زخمی افراد کاتعلق بلوچستان اور ملک کے مختلف شہروں سےہے۔
