بلوچستان حکومت نے39دہشتگردوں کےسروں کی قیمت مقرر کردی

بلوچستان حکومت کا بڑا اقدام،39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر، ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان کردیا۔

حکومتِ بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے نام، تصاویر اور کوائف اخبارات میں شائع کر دیے ہیں۔

کوئٹہ سے شائع ہونے والے بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر نصف صفحے کے اشتہار میں ان افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

اشتہار میں شامل افراد کے نام، عرفیت، مستقل اور عارضی پتے اور تصاویر جاری کی گئی ہیں، جبکہ ان کے بارے میں مستند اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے سے لے کر 25 کروڑ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ 25، 25 کروڑ روپے انعام بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب عرف کامریڈ بشیر اور مجید بریگیڈ کے کمانڈر رحمان گل عرف استاد مرید کے لیے رکھا گیا ہے۔ دونوں کا تعلق ضلع نوشکی سے بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل ان دونوں کے سروں کی قیمت بالترتیب 20 لاکھ اور 10 لاکھ روپے مقرر تھی، جس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

فہرست میں شامل دیگر اہم ناموں میں ندیم عرف قمبر اور میر سفیر احمد عرف جیئند بلوچ شامل ہیں، جن کے لیے 15، 15 کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری اشتہار کے مطابق میر سفیر احمد کا تعلق مستونگ کے علاقے کردگاپ سے ہے، جبکہ ان کی موجودہ رہائش افغانستان کے شہر قندھار اور ایک دوسرے ملک میں ظاہر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہرنائی سے تعلق رکھنے والے ہیبتان کا عارضی پتہ بھی افغانستان درج کیا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ علیحدگی پسند رہنماؤں حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کی رقم نسبتاً کم، یعنی 10، 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

اشتہار میں واضح کیا گیا ہے کہ فراہم کی جانے والی مستند اور درست معلومات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اطلاع دینے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دو ہیلپ لائن نمبرز 1719 اور 1213 بھی جاری کیے گئے ہیں۔

 

Back to top button