امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی ختم : سونا سستا ہونے کا امکان

افواہیں گرم ہیں کہ حکومت کی جانب سے سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی ختم ہونے کے بعد پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ ہونے والا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت کا ملکی درآمدات یا برآمدات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعین عالمی مارکیٹ کرتی ہے۔ اسی لیے سونے کی امپورٹ اور ایکسپورٹ پر پابندی کے خاتمے کو بنیاد بنا کر سونے کی قیمت میں اضافے یا کمی کی پیش گوئیاں کرنا درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی خبریں محض بے بنیاد افواہیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے 6 ماہ بعد ہی ایک بار پھر سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کی امپورٹ و ایکسپورٹ پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد جہاں ملک میں فارن ایکسچینج آئے گا وہیں قانونی راستے سے سونے کی تجارت بڑھنے سےحکومتی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ سونے کی تجارت کی بحالی سے ملکی جیولری انڈسٹری میں ایک بار پھر سرگرمی لوٹنے کی امید ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس مئی کے مہینے میں سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی لگائی گئی تھی اور وزارت تجارت نے سونے کی تجارت کو منظم کرنے والے قانونی ریگولیٹری آرڈر کو معطل کر دیا تھا جس کے بعد سے سونے کی درآمد و برآمد بند تھی۔ جس سے نہ صرف سونے اور زیورات کی قانونی تجارت متاثر ہورہی تھی بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا تھا۔ پابندی کے دوران سونے کی سپلائی محدود ہو گئی تھی، جس سے سونے کی قیمتیں آسمان کی بلندی کو چھوتی دکھائی دے رہی تھیں جیولری کی صنعت تقریباً ٹھپ ہو گئی تھی، اور برآمدی آرڈرز میں تعطل پیدا ہوا۔ تاہم اب حکومت نے اس پابندی کا خاتمہ کرتے ہوئے سخت شرائط کے ساتھ سابقہ ضوابط بحال کر دئیے ہیں اور تاکہ سونے کی تجارت میں شفافیت قائم رہے۔
تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے سونے کی امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟ ماہرین کے مطابق سونے کی باہمی تجارت پر پابندی کی بڑی وجہ ان عناصر کی مبینہ بےضابطگیاں تھیں جو سونا بیرون ملک بھیجنے کے بعد اسے 120 دن کے اندر زیورات کی شکل میں واپس برآمد نہیں کرتے تھے کیونکہ سونے کی برآمد کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ سونا لے جانے کے 120 دن کے اندر 50 فیصد مال سونے کی صورت میں اور 50 فیصد امریکی ڈالر کی صورت میں واپس آنا ضروری ہے۔ ’یہ تقاضے پورے نہ ہونے پر حکومت نے ایس آر او معطل کر دیا تھا، جس سے پورا شعبہ متاثر ہوا۔‘ تاہم اب سونے کی درآمد و برآمد بحال ہونے سے صنعت کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ اگر حکومت اس معاملے میں مزید پیچیدگیاں پیدا نہ کرے اور سونے کی درآمدات کے لیے ون ونڈو آپریشن کر دے تو اس سے مزید ریونیو پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کی زیورات کی تقریبا پانچ سے سات ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہے، انڈیا کی تقریباً 25 ارب کے قریب ہے جبکہ پاکستان کی جیولری کی ایکسپورٹ صفر ہے۔ تاہم اب درآمد و برآمد کی بحالی سے نہ صرف فارن ایکسچینج آئے گا بلکہ قانونی راستے سے تجارت بڑھے گی اور حکومتی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔ صدر صرافہ اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن لاہور کے مطابق ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے گی تو ہم پہلے چھ ماہ میں اپنی ایکسپورٹ کو پانچ کروڑ ڈالر تک لے جا سکتے ہیں جبکہ مزید آسانیوں کے ساتھ اگلے چھ ماہ میں ہم ایکسپورٹ کو 10 کروڑ ڈالر تک لے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سونے کی برآمدات کے بعد ڈھائی کروڑ ڈالر کا گولڈ جبکہ اڑھائی کروڑ امریکی ڈالر کی شکل میں واپس آئے گا جو حکومت کے لیے ایک اچھا فارن ایکسچینج ہوگا اسی طرح جیسے جیسے ہم وقت کے ساتھ ایکسپورٹ بڑھاتے جائیں گے ویسے ویسے حکومت کا فارن ایکسچینج بھی بڑھتا جائے گا۔’
واضح رہے کہ’پاکستان میں سونا پیدا نہیں ہوتا لیکن پاکستانی جیولری ساز اسے درآمد کے بعد اس کی ویلیو ایڈیشن کر کے واپس برآمد کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں میڈ ان پاکستان جیولری کی بہت قدر ہے، بے شک انڈیا پلین جیولری میں چھایا ہوا ہے لیکن جواہرات اور پتھر والے زیورات کی دنیا بھر میں جتنی ڈیمانڈ پاکستانی زیورات کی ہے وہ کسی اور ملک کی نہیں ہے۔’
سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی کے خاتمے کے بعد عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی زیربحث ہے کہ کیا پابندی ہٹنے سے سونے کی قیمت میں فرق آئے گا؟ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت کے اتار چڑھاؤ کا اس پابندی کے ہٹنے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، سونے کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے ساتھ چلتی ہے۔’ تاہم معاشی ماہر قیص اسلم کے مطابق سونے کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی کو ہٹانے سے سونا بیچنے والوں کو فائدہ حاصل ہوگا لیکن مجموعی طور پر پابندی کو ہٹانے سے سونے کی قیمت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
