تحریک انصاف پر پابندی اور KPK میں گورنر راج کا امکان

 

 

فوجی ترجمان کی دھواں دار پریس کانفرنس میں عمران خان کو پاگل اور ذہنی مریض قرار دینے کے بعد اسلام آباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ ممکنہ طور پر تحریک انصاف کو ملک دشمن جماعت قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

 

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس سے قبل بھی کئی پریس کانفرنسیں کی ہیں، تاہم جمعے کی پریس کانفرنس واضح طور پر ایک ہی شخص کے بارے میں تھی، اور وہ شخص عمران خان تھے۔ یہ پریس کانفرنس دراصل عمران خان کے اس ٹویٹ کے ردِعمل میں کی گئی جس میں انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ فوجی ترجمان نے عمران خان کے لیے جو سخت اور غیر معمولی زبان استعمال کی وہ ملکی سیاسی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں سنی گئی۔ انہوں نے عمران خان کو ریاست مخالف، خود پسند، اپنی ذات کا قیدی، ذہنی فریب کا شکار شخص قرار دیا، اور یہ تک کہا کہ ان میں ذہنی مریض کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔

 

اگرچہ فوجی ترجمان نے پوری پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا نام نہیں لیا، لیکن سننے اور دیکھنے والوں کے لیے ابتدا سے ہی یہ واضح تھا کہ گفتگو کا محور سابق وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران کسی بھی لمحے کوئی ابہام نہیں تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری انہی کی طرف اشارہ کر رہے تھے، خاص طور پر جب انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے جیل میں ملاقاتوں کا مقصد ’’ریاست مخالف بیانیہ‘‘ پھیلانا ہے۔

 

ترجمان کی پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی بہنوں کے انڈین ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز بھی دکھائے گئے، جبکہ ایک سلائیڈ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے نشر ہونے والے پیغامات بھارتی اور افغان اکاؤنٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر فروغ پاتے ہیں۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ اگر کوئی اپنی ذات، ذہنی فریب یا خود پسندی کی سوچ کے لیے مسلح افواج اور اس کی قیادت پر حملہ آور ہوتا ہے تو ہم بھی سختی سے اس کا مقابلہ کریں گے، اس بارے کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں میں نہیں تو کچھ نہیں۔ ان کے مطابق عمران کی سیاست اب ختم ہو چکی اور ان کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے وکلا اور خاندان کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ہر ملاقات کے دوران آئین و قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ریاست اور خاص طور پر فوجی قیادت کے خلاف بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی سیاست کا معیار یہ ہے کہ جب وہ اقتدار میں ہوں تو جمہوریت ہے، اور جب وہ نہ ہوں تو اسے آمریت قرار دیا جاتا ہے۔ ’’آپ کی سیاسی شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا‘‘—ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی آپریشن کے خلاف عوام کو بھڑکایا اور وہ مسلسل ایسے شدت پسند گروہوں سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں جو پاکستانی شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں اب جھوٹ اور فریب کا کاروبار مزید نہیں چل سکتا اور نہ ہی اس کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ اس بیانیے کو آگے پھیلایا جائے یا اس کی سہولت کاری کی جائے۔

 

پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا وہ تحریک انصاف پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس پر ترجمان نے جواب دیا کہ فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اور وہ صرف اپنا نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فوج کھلے عام اس لیے بات کر رہی ہے کہ عمران خان کی طرف سے فوج اور اس کی قیادت پر کھلے عام حملے کیے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ریاست ہم سے بالاتر ہے، یہ اس کا فیصلہ ہے، آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کیا کریں گے۔

 

سوشل میڈیا پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس پریس کانفرنس نے بڑی بحث چھیڑ دی۔ کسی نے اسے جارحانہ قرار دیا تو کسی نے اسے غیر معمولی سخت مؤقف سے تعبیر کیا۔ برطانیہ میں مقیم پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے اسے بے بنیاد اور احمقانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ پورا عمل سب کے وقت کا ضیاع تھا۔ پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ پریس کانفرنس کا موضوع: عمران خان۔۔۔ اختتام: ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

 

صحافی طلعت حسین نے کہا کہ اب اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں عمران خان اور ان کی پارٹی کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ان کے مطابق یہ لمحہ فیصلہ کن ہے کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کیا راستہ اختیار کرے گی۔ ایکس پر متعدد صارفین نے پریس کانفرنس کے دوران ترجمان کے لہجے اور الفاظ کے انتخاب پر اعتراض کیا۔صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے وہ کلپ شیئر کیا جس میں ترجمان کہتے ہیں: ’’آگے چلیں، میں ان کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا‘‘۔تب سکرین پر پی ٹی آئی رہنما مرزا شہزاد اکبر کا وی لاگ چل رہا تھا۔

Back to top button