بنگلہ دیش: BNP طلبا تنظیم کا الیکشن کمیشن کے خلاف دھرنا

بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی طلبا تنظیم نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنا دیا۔

یہ دھرنا جاتیاتابادی چھاترا دل (جے سی ڈی) کی جانب سے صبح تقریباً 11 بجے شروع ہوا، جس میں مظاہرین نے رات تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ احتجاج میں جے سی ڈی کے مرکزی صدر رقیب الاسلام رقیب، جنرل سیکریٹری ناصرالدین ناصر، دیگر سینیئر رہنما اور مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان شریک ہوئے۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے الیکشن کمیشن کے مرکزی دروازے کے سامنے رکاوٹیں قائم کی تھیں، تاہم مظاہرین نے ان کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر نعرے لگائے اور تقاریر کیں۔

میڈیا سے گفتگو میں جے سی ڈی کے جنرل سیکریٹری ناصرالدین ناصر نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص حلقہ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی ان کی تنظیم سخت مذمت کرتی ہے۔

ناصرالدین ناصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 13 ویں جاتیہ سنگساد (قومی پارلیمان) کے انتخابات کے لیے پوسٹل بیلٹ کے معاملے پر انتہائی جانبدارانہ اور مشکوک فیصلے کیے ہیں، جس سے کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک مخصوص سیاسی گروہ کے دباؤ میں آ کر ذمہ دارانہ اور منطقی فیصلے کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عجلت میں کیے گئے فیصلوں نے ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ اور خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ ناصر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پہلے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلبا یونین کے انتخابات سے متعلق ایک فیصلہ کیا، لیکن بعد میں سیاسی دباؤ کے باعث اس سے پیچھے ہٹ گیا، جو ایک غیر معمولی اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔

جے سی ڈی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا پُرامن احتجاج ہے، جس کا مقصد انتخابی عمل کی شفافیت اور اداروں کی خودمختاری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

تا حال، الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

Back to top button