بنگلہ دیشی الیکشن: طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے دہانے پر

بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات نے ملکی سیاست کا دھارا یکسر بدل دیا ہے۔ غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد پارٹی چیئرمین طارق رحمان اگلے وزیرِاعظم بننے جا رہے ہیں۔ اس پیش رفت پر صدر آصف علی زرداری نے سوشل میڈیا کے ذریعے طارق رحمان کو مبارک باد دی ہے، جسے خطے کی سفارتی حرکیات میں ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخابی نتیجہ صرف ایک جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی طویل اور کشیدہ سیاسی کشمکش کا نیا باب ہے، جس میں جلاوطنی، مقدمات، پابندیاں اور طاقت کی نئی صف بندیاں شامل ہیں۔
اس الیکشن کا سب سے اہم اور متنازع پہلو یہ رہا کہ بی این پی کی دیرینہ حریف جماعت شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کو بنگلہ دیشی الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دے دی تھا۔ لہذا سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی عدم موجودگی نے انتخابی میدان کو یکطرفہ بنا دیا تھا۔ مبصرین کے مطابق بی این پی کی بھاری اکثریت کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ سب سے بڑی حریف جماعت انتخابی عمل سے باہر تھی، جس کے باعث ووٹرز کے سامنے حقیقی معنوں میں کوئی بڑی متبادل قوت موجود نہ تھی۔ تاہم بی این پی کا مؤقف ہے کہ یہ کامیابی محض مخالف کی عدم شرکت کا نتیجہ نہیں بلکہ عوامی لیگ کے طویل اقتدار، معاشی دباؤ اور سیاسی پابندیوں کے خلاف عوامی ردعمل بھی ہے۔
یاد رہے کہ طارق رحمان کا سیاسی سفر بھی کم نشیب و فراز کا حامل نہیں رہا۔ وہ بنگلہ دیش کے سابق فوجی حکمران اور صدر ضیا الرحمان اور دو بار وزیرِاعظم رہنے والی خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں جو دو ماہ پہلے انتقال کر گئی تھیں۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے پارٹی تنظیم سازی میں فعال کردار ادا کیا اور 2001 کے انتخابات میں بی این پی کی کامیابی کے بعد ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھا۔ مخالفین کا الزام تھا کہ وہ جماعت کے مرکزی دفتر سے ایک متوازی طاقت کا مرکز چلا رہے تھے، تاہم بی این پی ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی۔2007 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں طارق رحمان کو کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا اور انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے۔ بعد ازاں وہ 2008 میں رہا ہو کر لندن منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے تقریباً 17 سال سیاسی پناہ کے تحت قیام کیا۔
بی این پی کے مطابق یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ تھے، جبکہ عوامی لیگ انہیں بدعنوانی اور 2004 کے دستی بم حملے جیسے سنگین مقدمات سے جوڑتی رہی۔ بعد میں سیاسی حالات کی تبدیلی کے بعد ان مقدمات میں انہیں ریلیف ملا اور وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ دسمبر 2925 میں ڈھاکہ واپسی پر پارٹی کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اپنی والدہ خالدہ ضیا کے انتقال کے چند روز بعد انہیں باضابطہ طور پر بی این پی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا تھا، اگرچہ وہ 2018 سے لندن میں قائم مقام چیئرمین کے طور پر پارٹی کی قیادت کر رہے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی پارٹی کو متحد رکھا اور تنظیمی ڈھانچے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ بطور چیئرمین انہوں نے انتخابی مہم کا آغاز سلہٹ سے کیا اور خود کو آزادی کی جنگ کے ورثے اور معتدل جمہوریت کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا۔ بی این پی کی حکمتِ عملی واضح تھی کہ طارق رحمان کو جماعت کا واحد اور ناگزیر رہنما بنا کر پیش کیا جائے۔ تعلیمی قابلیت اور ماضی کے کیسز کے حوالے سے مخالفین نے سوالات اٹھائے، تاہم پارٹی نے اسے منفی پروپیگنڈا قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی کی حکومت کو داخلی سطح پر معاشی دباؤ، مہنگائی، زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر اور برآمدات میں سست روی جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کی الیکشن میں عدم شرکت کے باعث انتخابی عمل کی ساکھ پر بحث جاری رہے گی، اور امکان ہے کہ اپوزیشن کی سیاست سڑکوں یا عدالتی محاذ پر منتقل ہو جائے گی۔ ایسے میں طارق رحمان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ محاذ آرائی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں یا سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی استحکام اور معاشی بحالی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی قیادت کا اصل امتحان اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خارجہ محاذ پر یہ انتخابی نتیجہ خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماضی میں عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات غیر معمولی طور پر قریبی رہے، جبکہ اسلام آباد سے روابط سرد مہری کا شکار رہے۔ اس تناظر میں بی این پی کی کامیابی کو بعض حلقے نئی دہلی کے لیے سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ شیخ حسینہ واجد جلاوطنی کے دوران بھارت میں مقیم رہی ہیں اور انہیں عمومی طور پر بھارت نواز اور پاکستان مخالف پالیسیوں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ نتائج نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک غیر متوقع پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ بنگلہ دیش کی آئندہ حکومت خارجہ پالیسی میں توازن یا نئی سمت اختیار کر سکتی ہے۔
بنگلہ دیش الیکشن: بی این پی نے دو تہائی اکثریت سے میدان مار لیا
اس دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے بھی نئی توقعات جنم لے رہی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کی فوری مبارک باد کو خیرسگالی کے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تجارت، دفاعی تعاون، علاقائی فورمز اور عوامی سطح کے روابط میں بہتری کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ 1971 کی جنگ اور اس کے بعد کے تاریخی بیانیے دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ اگر طارق رحمان کی حکومت عملی سفارت کاری، معاشی مفادات اور علاقائی تعاون کو ترجیح دیتی ہے تو جنوبی ایشیا میں ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس میں ڈھاکہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ بی این پی کی کامیابی صرف اقتدار کی تبدیلی ثابت ہوتی ہے یا خطے کی جغرافیائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
