پنجاب میں بسنت کی اجازت لوگوں کے قتل کا لائسنس قرار

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ وزیر اعلی مریم نواز کی جانب سے پنجاب میں بسنت منانے کا فیصلہ معصوم بچوں کے قتل کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔ انکے مطابق مریم نواز پنجاب کی خوشیاں لوٹانا چاہتی ہیں مگر بسنت کی خوشی میں جو صدمے سہنے پڑیں گے ان کا انہیں ادراک نہیں۔

اپنے سیاسی تجزیے میں عمار مسعود مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محترم وزیرِ اعلیٰ صاحبہ! ہو سکتا ہے کہ آپ کا بسنت منانے کا رنگین لباس بھی کسی ڈیزائنر کے ہاں تیار ہو گیا ہو، ہو سکتا ہے وزیرِ اعلیٰ کی ٹک ٹاک بنانے والوں نے فریحہ پرویز کے گانے ’پتنگ باز سجنا‘ کا بھی انتخاب کر لیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ پرانے لاہور کی چھتوں پر ابھی سے بکنگ ہو گئی ہو، پکوان بنانے والوں کو لمبے آرڈر دے دیے گئے ہوں۔ مگر وزیرِ اعلیٰ کو یاد رکھنا ہو گا کہ ان خوشیوں کی قیمت لاہور کو درجنوں زندگیوں کی صورت میں دینا ہو گی۔

 

انکا کہنا ہے کہ کون نہیں چاہتا کہ اس دیس کی رونقیں بحال ہوں؟ کون خوشیاں منانے سے منکر ہے؟ کس کا دل نہیں چاہتا کہ یہاں کھیل، میلے، تہوار، تقریبات اور جشن ہوں؟ عمار مسعود کہتے ہیں کہ لاہور میں بسنت کی روایت مغلیہ دور سے جڑی ہوئی ہے۔ مغلوں کے دور میں اس تہوار کا کمال اہتمام ہوتا۔ زرد لباس پہنے جاتے، موسیقی کا انتظام ہوتا، پکوان چڑھتے۔ کسی نے اس کو ثقافت کہا، کسی نے تہذیب کا نام دیا، کسی نے زندگی کی علامت سمجھا، کسی نے بہار کی آمد کا اذن بتایا اور کسی نے سردیوں کے اختتام کا جشن کہا۔ یہ تہوار پرانا ہے۔ اس کی جڑیں اس سرزمین میں صدیوں سے ہیں، لیکن اب بسنت اور لاہور کے ملاپ کے معنی بہت خونچکاں ہیں۔

 

عمار یاد دلاتے ہیں کہ لاہور میں بسنت منانے پر مدت سے پابندی عائد ہے۔ جنرل مشرف نے میاں یوسف صلاح الدین کے اصرار پر بسنت کی بحالی کی کوشش کی، مگر ایک دو سال میں اتنے حادثے ہوئے کہ وہ بھی پیچھے ہٹ گئے۔ دوسری جانب شہباز شریف ہمیشہ سے اس پر پابندی کے حق میں رہے۔ اب مریم نواز نے فروری میں اس تہوار کو منانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ پورے صوبے میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دھاتی ڈور پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ پتنگ اڑانے کے لیے جگہ مخصوص کی جا رہی ہے۔

 

اعلان کیا گیا ہے کہ بسنت صرف 3 دن منائی جائے گی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے دوران لوگوں کو حادثوں سے بچانے کے لیے قانون بنائے جا رہے ہیں۔ عوام کو ان قوانین کی خلاف ورزی پر سزاؤں سے ڈرایا جا رہا ہے۔ پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دھاتی ڈور بنانے والوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ٹی وی پر لوگوں کو انتباہ کرنے کے لیے اشتہار چلائے جا رہے ہیں لیکن کیا یہ اقدامات بسنت کو محفوظ بنا پائیں گے؟ بظاہر ایسا نہیں لگتا۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ مریم نواز کی یقیناً یہ خواہش ہو گی کہ ان کے دورِ اقتدار میں جہاں پنجاب کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں وہاں پنجاب کے تہواروں کو بھی زندہ کیا جائے۔ وہ لاہور کے عوام کی چھینی مسرتیں لوٹانا چاہتی ہیں، مگر لاہور اور بسنت ایک سنگین معاملہ ہے۔ لاہوری جشن منانا جانتے ہیں، خوشیاں منانا ان کی سرشت میں ہے۔ وہ جگتوں پر ہنسنا جانتے ہیں۔ وہ کھیل تماشے سے لطف اندوز ہونا جانتے ہیں۔ وہ فنکاروں کے فن سے حظ اٹھانا جانتے ہیں۔ وہ کھانوں کے شوقین، وہ تہواروں کے دل دادہ، رونق میلے والے لوگ ہیں۔ لاہوری ہنسنے ہنسانے والے لوگ ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لاہوریوں کو سب کام آتے ہیں مگر بسنت منانا نہیں آتا۔ یہ تہوار ان کے لیے کھیل نہیں، خونی کھیل بن چکا ہے۔ یہ اب تہوار نہیں رہا، یہ نشہ بن چکا ہے، عذاب بن چکا ہے، نسلوں کو برباد  کر چکا ہے۔ کتنے جوانوں کو مفلوج کر چکا ہے۔

 

عمار کے مطابق بسنت کے دوران ہونے والے نقصانات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب بسنت کی شام درجنوں سانحے لاہوریوں پر گزر جاتے ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ سرکاری طور پر بسنت کا آغاز نغموں ، پکوانوں  اور ’بو کاٹا‘ کے شور سے ہوتا ہے مگر انجام ہسپتالوں اور قبرستانوں میں ہوتا ہے۔ بسنت کی شام چینلوں پر یہ خبر کم چلتی ہے کہ کس صاحبِ حیثیت نے کہاں بسنت منائی؟ کلچر کتنا زندہ ہوا؟ ثقافت کتنی جاگی؟ تمدن نے کون سی کروٹیں لیں؟ بلکہ یہ خبر زیادہ چلتی ہے کہ کتنے بچے چھتوں سے گر گئے؟ کتنے جوانوں کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں؟ کتنے پتنگ کے تعاقب میں گاڑیوں تلے کچلے گئے؟ کتنے ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو گئے؟ کتنی گردنوں پر ایسی دھاتی ڈور پھر گئی کہ گردن ہی تن سے جدا ہو گئی۔

 

انکا کہنا ہے کہ مریم نواز پنجاب کی خوشیاں لوٹانا چاہتی ہیں مگر بسنت کی خوشی میں جو صدمے پوشیدہ ہوتے ہیں انہیں شاید اس کا ادراک نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کو یاد رکھنا ہو گا کہ ان خوشیوں کی قیمت لاہور کو درجنوں انسانی زندگیوں کی صورت میں ادا کرنا ہو گی۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایسا ہی ایک منظر اب بھی ان کی یادداشت میں ہے۔ ایک باپ نے چوتھی جماعت کی بچی کی گردن ہاتھ میں تھام رکھی تھی جو دھڑ سے جدا یو چکی تھی۔ بچی باپ کے ساتھ یونیفارم پہنے موٹر سائیکل پر آگے بیٹھی تھی۔ باپ بچی کو کوئی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کو احساس بھی نہیں ہوا کہ ایک لمحے میں دھاتی ڈور بچی کی گردن کے پار ہو گئی۔ باپ کی کہانی جاری تھی مگر بیٹی کی کہانی ختم ہو گئی تھی۔ باپ کو پتا تب چلا جب یونیفارم خون سے بھر گیا۔ بچی کا بدن ڈھلک گیا اور گردن باپ کے ہاتھ میں رہ گئی۔ یہ منظر میں نے خود دیکھا جس کے بعد کبھی بسنت جیدے خونی تہوار کی کبھی خواہش نہیں جاگی۔

 

ایسے میں عمار مسعود وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے استدعا کرتے ہیں کہ خوشیاں منانے کا کوئی اور طریقہ ایجاد کریں۔ مگر خدارا اس خونی تہوار کی بحالی سے پرہیز کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ اور آپ کی کابینہ پھر بھی بسنت منانے پر مصر ہیں تو خدا کے لیے بسنت کے دنوں میں ہسپتالوں کو الرٹ کر دیں، بلڈ بینکس میں خون کے عطیات دینے کا اعلان کروائیں، چھتوں سے گر کر معذور ہونے والوں کے لیے وہیل چیئرز کا بندوبست کروائیں اور قبرستانوں میں ڈور سے مر جانے والے بچوں کی لاشیں دفنانے کا انتظام کروائیں۔

پاکستان کو غزہ فوج بھیجنے سے پہلے 100 بار سوچنا کیوں چاہیے؟

عمار مسعود کے بقول لاہوری سب کچھ کر سکتے ہیں مگر بسنت منانے کا سلیقہ ان کو نہیں آتا۔ اس بات کو تسلیم کر لیں۔ اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ خلقِ خدا کو خوشیوں کے نام پر دکھ نہ دیں۔ خدارا بسنت کے نام پر بچوں کو قتل کرنے کا لائسنس نہ دیں۔ یاد رکھیں، جب تک لوگوں کو بسنت منانے کا سلیقہ آئے گا تب تک بہت سی زندگیوں کے چراغ آپکے فیصلے کی وجہ سے گل ہو چکے ہوں گے۔

Back to top button