فرعون ہو یا ہلاکو ہو، فیض حمید ہو یا عمران، احتساب سب کا ہو گا

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ فیض حمید کی گرفتاری اور کورٹ مارشل سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کتنا ہی طاقتور فرعون اور ہلاکو کیوں نہ ہو، اس کا احتساب ہو کر رہتا ہے اور وہ اس سے بچ نہیں سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ زیادتی اور نا انصافی کرنے والے کئیوں کا یہیں احتساب ہو جائے گا اور کئی اگلے جہاں میں جواب دہ ہونگے۔ وی بتاتے ہیں کہ اپنے دور میں نا انصافیاں کرنے اور ظلم ڈھانے والے جنرل فیض حمید نے جنرل قمر باجوہ اور عمران خان کے ساتھ مل کر اگلے 12 برس تک اقتدار سے چمٹے رہنے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔

فیض حمید کا کورٹ مارشل: مزید 3 ریٹائرڈ فوجی افسران کو تحویل میں لے لیا گیا، آئی ایس پی آر

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج بتاتے ہیں کہ جب عمران خان کے دور حکومت میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی جوڑی پورے جوبن پر تھی تو  میں نے ’’12سالہ پائیدار ترقی کا منصوبہ‘‘ نامی کالم میں جنرل باجوہ کے چھ سالہ دور کے بعد جنرل فیض کے چھ سالہ دور کو ملا کر کل 12سالہ دور کی منصوبہ بندی کی تفصیل بیان کی تھی۔ گویا ان سب کے اگلے 12 برس تک اقتدار سے فیض یاب ہونے کے عزائم واضح تھے اور اس بارے منصوبہ بندی بھی مکمل تھی مگر قدرت کے آگے کس کی چلتی ہے، عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے شروع ہونے والے واقعات نے اس ساری منصوبہ بندی کو ناک آئوٹ کر دیا اور آج معاملہ فیض حمید کے کورٹ مارشل تک جا پہنچا ہے، یعنی کہاں بادشاہی کی تیاریاں تھیں اور کہاں بات کال کوٹھڑی تک جا پہنچی۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ انہیں جنرل فیض حمید سے ملنے کا تجسس بہت تھا مگر یہ ملاقات تب ممکن ہوئی جب میڈیا کے مشکل ترین حالات میں اسلام آباد آئی ایس آئی کے دفتر میں جنگ اور جیو کے ادارتی ذمہ داران کی طلبی ہوئی۔ میں بھی اس ٹیم میں شامل تھا، مارگلہ ہلز کے دامن میں پارلیمان ہائوس والی سڑک پر واقع اس دفتر کے کانفرنس روم میں ہم سب لائن حاضر تھے۔ ابھی ہم کرسیوں پر سیدھے ہو رہے تھے کہ جنرل فیض حمید تشریف لے آئے اور ہیڈ چیئر پر براجمان ہو گئے۔ شاید انکی جانب سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ اس میٹنگ میں باس وہ خود ہیں حالانکہ ماضی میں اس طرح کی ملاقاتوں کا آداب اور قرینہ یہ ہوا کرتا تھا کہ فریق آمنے سامنے بیٹھ کر برابری اور احترام کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ حالانکہ بالادستی تو طاقتور کو ہی حاصل ہوتی تھی لیکن وضع داری میں ظاہر یہی کیا جاتا تھا کہ دونوں فریق برابر ہیں لیکن جنرل پاشوں، جنرل ظہیروں اور فیضوں نے اس وضعداری کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ سابق ڈی جی ائی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ اور انکے فوراً بعد آنے والے فوجی ترجمان جنرل آصف غفور کے ادوار میں ماضی کی وضع داری اور آداب بھلا کر 3 اور 40 سال کا صحافتی تجربہ رکھنے والے ایڈیٹرز کو لیفٹین، کپتان اور کرنل فون کر کے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیا کرتے تھے، عاصم سلیم باجوہ اور آصف غفور نے اپنے ادوار میں صحافیوں، ایڈیٹر حضرات اور میڈیا مالکان کی ذلت کا پورا اہتمام کئے رکھا۔ آج اگر میڈیا کا گلا گھونٹا جا چکا ہے تو اس کا آغاز جنرل عاصم باجوہ نے منظم سائنسی طریقے سے کیا، ان کے فوراً بعد آصف غفور نے اسے نئی بلندیوں تک پہنچایا، ان جرنیلوں کے ادوار میں میڈیا سے وہ وہ مطالبات کئے جاتے تھے جو پورے 70 سال میں کبھی سنے نہیں گئے تھے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خیر ذکر تو جنرل فیض سے ملاقات کا ہو رہا تھا جو خود بھی ان ادوار میں اہم ترئن عہدوں پر فائز رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنگ اور جیو کے وفد کی فیض حمید سے ملاقات کا آغاز ایک لمبے چوڑے بریگیڈیئر صاحب نے کیا اور کہا کہ آج کے جنگ نے حکومت کے خلاف ایک شہ سرخی جمائی ہے حالانکہ کسی اور اخبار نے ایسا نہیں کیا۔ جواب میں ہمارے ادارے کے سربراہ نے تحمل سے الزام سنا اور سامنے پڑے چار اخبارات میں لگی وہی شہ سرخی دکھا دی، دوسری جانب خاموشی چھا گئی الزام ہی غلط تھا، فیض حمید کایاں تو تھے سمجھ گئے کہ ٹیبل ٹاک اور دلائل کی بنیاد پر جیتنا ممکن نہیں اور یوں ہمارے باس کا بازو پکڑ کر اندر لے گئے، یہ تو علم نہیں کہ اندر کیا ہوا لیکن بظاہر خوشگوار ملاقات کے بعد بھی برف مکمل طور پر نہ پگھل سکی۔ بعد ازاں فیض حمید کے ہی دور میں ہمارے ادارے کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر جیل بھیج دیا گیا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید ہوں یا ان جیسے دیگر جرنیل ہوں، وہ سب آئین پر لئے گئے حلف کی مسلسل خلاف ورزی کرتے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد ہی سے سیاسی اور ذاتی مخالفوں کو رگیدنے کا عمل شروع ہو گیا اور یہ ابھی تک رکا نہیں، سب سے پہلے کمیونسٹ غدار قرار پائے اور پھر 50سال تک ان کا پیچھا کیا جاتا رہا۔ جیلیں، قیدیں اور سزائیں ان کا مقدر ٹھہرائیں، تھوڑا سا عرصہ جماعت اسلامی بھی زیر عتاب رہی پھر بنگالی اور عوامی لیگ ہدف پر آ گئے۔ مشرقی بازوکی علیحدگی کے بعد پیپلز پارٹی سے چن چن کر بدلے لئے گئے۔ نون بھی سالہا سال نشانے پر رہی، آج کل تحریک انصاف اس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ہر دور کا جنرل فیض حمید، اپنے آئینی اور محکمانہ دائرہ کار سے باہر نکل کر اپنے سیاسی اور ذاتی حریفوں کو گراتا رہا ہے۔ جنرل فیض حمید پر جو چارج شیٹ لگی ہے اس میں انکی ڈیوٹی کے دوران ہونے والی سرکاری سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی الزام نہیں لیکن یہ تو سب کو علم ہے کہ وہ قانون، آئین یا روایات کا احترام کم ہی کرتے تھے چھکے مار کر اپنا کام نکلواتے تھے انہوں نے اتنے چھکے مارے کہ میڈیا، سیاست دانوں اور عوام سب کے چھکے چھڑا دیئے اب خود چھکے کی زد میں آ چکے ہیں۔

Back to top button