خبردار! بیوی کو گھورنا اور گالی دینابھی ایک جرم ہے

برسوں سے “گھر کی بات” کہہ کر نظر انداز کیے جانے والے شوہروں کے پرتشدد اور ہراساں کرنے والے رویوں کو اب حکومت نے باقاعدہ قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم قرار دے دیا ہے۔ اس لیے محتاط رہیں کیونکہ اپنی بیوی کو گھورنا، گالی دینا، اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا یا طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی، اب نجی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایسا کوئی بھی پاگل پن آپ کو سیدھاجیل تک پہنچا سکتا ہے۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قانون کی منظوری کے بعد ایسے تمام رویے نہ صرف جرم ٹھہرائے گئے ہیں بلکہ ان جرائم کی پاداش میں آپ کو جیل اور جرمانہ دونوں بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی‘ قابل سزا جرم کیوں ہے؟ حکومت کو اس قانون کو متعارف کروانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

خیال رہے کہ پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں منظور ہونے والے ڈومیسٹک وائیلنس ایکٹ 2026 کا اطلاق اسلام آباد کی حدود میں ہو گا۔ اس قانون کے تحت گھریلو تشدد کے مرتکب افراد کو کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نئے قانون کی سب سے زیادہ زیرِ بحث شق وہ ہے جس کے تحت طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی کو نفسیاتی اور زبانی تشدد کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم قانون محض طلاق کا ذکر کرنے کو جرم قرار نہیں دیتا بلکہ واضح کرتا ہے کہ اگر پاگل پن، بانجھ پن یا کردار سے متعلق بے بنیاد الزامات لگا کر بار بار طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دی جائے اور اس کا مقصد شریکِ حیات کو خوفزدہ کرنا یا ذہنی دباؤ میں رکھنا ہو تو یہ عمل جرم شمار ہو گا۔

انسانی حقوق کی کارکن فوزیہ وقار کے مطابق پاکستان کے سماجی تناظر میں طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی ایک ایسی تلوار رہی ہے جو برسوں سے عورت کے سر پر لٹکتی رہی ہے۔ ان کے بقول یہ دھمکی عورت کے اندر مستقل عدم تحفظ پیدا کرتی ہے اور اسے تشدد برداشت کرنے یا اپنی مرضی کے خلاف فیصلے قبول کرنے پر مجبور کر سکتی ہے، اسی لیے قانون نے اسے نفسیاتی تشدد تسلیم کیا ہے۔

اسلام آباد کے لیے بنائے گئے اس قانون میں گھریلو تشدد کی تعریف کو صرف جسمانی یا جنسی تشدد تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس میں نفسیاتی اور زبانی تشدد کے جدید پہلو بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں مرضی کے خلاف کسی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا یا تعاقب کرنا، حد سے زیادہ حسد کا اظہار، شریکِ حیات کی تضحیک، بے عزتی یا کردار کشی، جسمانی نقصان کی دھمکیاں دینا اور جان بوجھ کر کفالت چھوڑ دینا شامل ہے۔

مشترکہ اجلاس میں منظور کئے گئے قانون میں صاحب استطاعت ہوتے ہوئے بیوی کو زبردستی جوائنٹ فیملی یا ساس سسر کے ساتھ رکھنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔ فوزیہ وقار کے مطابق گھریلو تشدد کے نئے قانون میں وہ شق بھی درست اور ضروری ہے جس کے تحت بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم یہ قانون خودکار طور پر کسی شوہر کو مجرم قرار نہیں دیتا بلکہ ہر کیس میں حالات کا جائزہ لیا جائے گا، مثلاً یہ دیکھا جائے گا کہ کیا خاتون کو واقعی کسی قسم کے تشدد کا سامنا ہے، کیا وہ ساس یا دیگر رشتہ داروں کے ہاتھوں ہراساں ہو رہی ہیں اور کیا شوہر کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ بیوی کو اس صورتحال سے بچانے کے لیے علیحدہ رکھ سکے۔

دوسری جانب حکام کے مطابق ایسے نفسیاتی رویے اکثر جسمانی یا جنسی تشدد کی بنیاد بنتے ہیں، اسی لیے ان کی بروقت نشاندہی اور سزا ضروری قرار دی گئی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے ناقدین “غیر معمولی” قرار دیتے ہیں لیکن ماہرین کے نزدیک یہ جدید دور کے مسائل کا قانونی جواب ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ یہ قانون صرف خواتین کو فائدہ دیتا ہے، تاہم قانون کی شقوں کے مطابق اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں خواتین کے ساتھ ساتھ مرد، بچے، خواجہ سرا، معذور افراد اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ یعنی قانون کا مقصد صنفی برتری نہیں بلکہ گھریلو رشتوں میں موجود کمزور فرد کا تحفظ ہے۔

پاکستان میں وزرائے اعظم سے زیادہ اپوزیشن لیڈر کیوں بدلتے ہیں؟

اسی طرح بعض شقوں پر یہ اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ہر شکایت پر خودکار طور پر سزا نہیں دی جائے گی بلکہ حالات، نیت اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر اسلام آباد میں نافذ ہونے والا گھریلو تشدد کا یہ نیا قانون ریاست کی جانب سے یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ خوف، دھمکی اور ذہنی اذیت پر مبنی رویے بھی تشدد کے زمرے میں آتے ہیں۔ طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی کو جرم قرار دینا اس لیے ضروری سمجھا گیا کیونکہ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسا نفسیاتی دباؤ ہے جو کسی کی صحت، عزت اور زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

Back to top button