بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کی موت، پولیس کا گندا کردار بے نقاب

لاہور کے تاریخی بھاٹی گیٹ کے قریب ایک کھلے مین ہول نے صرف دو زندگیاں ہی نہیں نگلیں بلکہ اس اندوہناک سانحے نے حکومتی نظام اور پولیس کے تفتیشی عمل کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی۔ 17 گھنٹے پر محیط طویل سرچ آپریشن، متضاد بیانات، پولیس حراست اور تشدد کے الزامات کے ساتھ ساتھ ایک چونکا دینے والے انکشاف نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بیٹی سمیت جان کی بازی ہارنے والی سعدیہ کے غم زدہ والد کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے بعد ابتدا میں خاتون کے قتل کے الزامات عائد کرنے والی پولیس نے، میڈیا میں شور مچنے پر، ان سے خالی کاغذوں پر انگوٹھے لگوالئے انھیں تاحال معلوم نہیں کہ پولیس ان صفحات پر کیا تحریر کرنے والی ہے۔
بدھ کے روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون سعدیہ اور اس کی کمسن بیٹی کھلے مین ہول میں گر گئیں۔ ابتدائی طور پر واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات میں تضاد پایا گیا، جس کی وجہ سے معاملہ مشکوک بنتا چلا گیا۔ تاہم ریسکیو اداروں نے 17 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد دونوں کی لاشیں برآمد کیں، جس کے بعد پنجاب حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام حرکت میں آگئے۔ واقعے کے بعد سعدیہ کے والد ساجد حسین کی مدعیت میں تھانہ بھاٹی گیٹ میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 کے تحت غیر ارادی قتل کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔ جس میں پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو نامزد کیا گیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ مین ہول کو مناسب طریقے سے بند نہیں کیا گیا اور حفاظتی اقدامات میں سنگین غفلت برتی گئی تھی جس کی وجہ سے دو قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
تاہم معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب ساجد حسین نے انکشاف کیا کہ واقعے کے بعد پولیس افسران ان کے پاس آئے اور ایک خالی کاغذ پر انگوٹھے لگوائے گئے۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ ایف آئی آر میں ایک نام کی تصحیح درکار ہے، اسی لیے انگوٹھے لیے جا رہے ہیں۔ ساجد حسین کا کہنا ہے کہ ان سے پانچ کاغذوں پر انگوٹھے لگوائے گئے، جبکہ وہ اس وقت شدید صدمے اور غم کی حالت میں تھے اس لئے انھوں نے زیادہ بحث مباحثے کی بجائے خاموشی سے سادہ کاغذات پر دستخط کر دئیے۔ تاہم لاہور پولیس کا خالی کاغذوں پر انگوٹھے لگوانے کے معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہنا ہے کہ سادہ کاغذوں پر درخواست دہندہ کے انگھوٹھے کسی کو ریلیف دینے کیلئے نہیں بلکہ ایف آئی آر میں نام کی تصحیح کے لیے لئے گئے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق ایف آئی آر میں درج سیفٹی آفیسر کے نام میں غلطی ہو گئی تھی جسے درست کرنے کے لیے یہ کارروائی کی گئی ہے،
دوسری جانب سعدیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ کا پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ واقعے کے فوراً بعد تھانے اطلاع دینے گئے تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق ایس پی اور ایس ایچ او زین عباس نے ان پر تشدد کیا اور دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی اہلیہ اور بچی کے قتل کا اعتراف کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بارہا پولیس کو بتایا کہ وہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے مین ہول میں گرتے دیکھ چکے ہیں، مگر پولیس ان کی بات ماننے کو تیار نہ تھی۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس نے ان کا موبائل فون ضبط کر لیا اور ان کے کزن کو بھی حراست میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا سعدیہ کے ساتھ موجود تھا اور ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی گھریلو تنازع نہیں تھا۔ ’ہم سیر کے لیے آئے تھے تاہم اس حادثے کا شکار ہو گئے، غلام مرتضیٰ کے مطابق اب میرے بچوں کی ماں واپس نہیں آ سکتی۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
بھاٹی گیٹ واقعہ: فیک نیوز پر مریم نے عظمی کو کلین چٹ کیوں دی ؟
پولیس پر تشدد اور ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا ہے جبکہ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا۔ لاہور پولیس کے مطابق ایس پی سٹی سمیت دیگر افسران کے کردار کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کو آزادانہ تحقیقات کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف اندوہناک سانحہ رونما ہونے کے بعد انتظامی سطح پر بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جبکہ واسا کے افسر عثمان بابر کو نہ صرف ملازمت سے فارغ کیا گیا بلکہ مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے جبکہ پروجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کو گرفتار کر کے تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعے کو ’قتل کے مترادف غفلت‘ قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے مالی امداد دینے اور غلام مرتضیٰ کو روزگار کے لیے ٹیکسی فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ لاہور پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق بھاٹی گیٹ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو شہری سہولتوں، ریاستی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔
