بھاٹی گیٹ واقعہ: فیک نیوز پر مریم نے عظمی کو کلین چٹ کیوں دی ؟

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعے نے جہاں انتظامی غفلت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، وہیں اس سانحے کو ابتدائی طور پر ’’فیک نیوز‘‘ قرار دئیے جانے کا معاملہ بھی سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اس معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس افسوسناک واقعے کو سب سے پہلے فیک نیوز کسی یوٹیوبر یا نجی ٹی وی چینل نے نہیں بلکہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے قرار دیا، جس کے بعد عوامی ردعمل میں غیر معمولی شدت دیکھنے میں آئی۔ بعد ازاں جب خاتون کی لاش برآمد ہوئی اور واقعے کی تصدیق ہو گئی تو تنقید مزید تیز ہو گئی، تاہم اب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے انہیں معصوم قرار دے کر عملاً کلین چٹ دے دی ہے۔ مریم نواز کے مطابق عظمیٰ بخاری کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں کیونکہ انہیں جو سرکاری معلومات فراہم کی گئیں، انہوں نے وہی آگے پہنچائیں۔ مریم نواز کے اس مؤقف کے بعد سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا محض ’’اطلاعات کی ترسیل‘‘ کے نام پر ایک آئینی عہدے پر فائز شخص غلط یا نامکمل معلومات عوام تک پہنچا کر اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟

دوسری جانب سوشل میڈیا پر عظمیٰ بخاری سے جھوٹا بیان داغنے پر استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ناقدین کے مطابق حقائق سامنے آنے کے بعد عظمیٰ بخاری کو پاکستان کے ایک بڑے صوبے کی نمائندگی کرنے کا کوئی حق باقی نہیں بچا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر ایک حکومتی عہدیدار غلط یا نامکمل معلومات عوام تک پہنچا دے تو کیا اسے محض ’’اطلاع آگے بڑھانے‘‘ کا جواز دے کر بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا لاہور میں گٹر میں گرنے والی ماں اور بچی کی خبر کو فیک نیوز کہنے پر بھی پیکا قانون حرکت میں آئے گا، یا فیک نیوز کا پیمانہ صرف ناقدین، صحافیوں،مخالف سوشل میڈیا صارفین اور عام شہریوں تک محدود رہے گا؟

خیال رہے کہ 24 سالہ سعدیہ اور اس کی 9 ماہ کی شیر خوار کمسن بیٹی ردا فاطمہ لاہور میں داتا دربار کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں، ابتدائی طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے اسے فیک نیوز قرار دیا گیا تھا وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ریسکیو رضاکاروں نے کام کرلیا ہے جس میں ایسے کسی واقعے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے اس واقعے کو فیک نیوز قرار دیا تھا تاہم اہل خانہ کے احتجاج پر وزیراعلیٰ نے نوٹس لے کر ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کی تو تین کلومیٹر دور سے سعدیہ نامی خاتون اور بچی کی لاش کئی گھنٹوں کے بعد برآمد ہوگئی تھیں۔ خاتون اور بچی کی لاشیں ملنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اس دلخراش واقعے اور حکومتی ابتدائی رد عمل پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کیونکہ سب سے پہلے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ہی ماں اور بچی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی اطلاعات کو بے بنیاد اور فیک نیوز قرار دیا تھا اور اس واقعے کی تردید کی تھی۔

عظمیٰ بخاری کے جھوٹے بیان بارے معروف اینکر اور صحافی اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ لاہور میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور اس کی بیٹی کی خبر اور اسے ابتداء میں فیک قرار دیا جانا قابلِ مذمت ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ کیا اس خبر پر بھی اتنا ہی واویلا اور تنقید ہوتی ہے جتنی یہ واقعہ کسی دوسرے صوبے میں ہونے پر ہوتی؟

رضوان غلزئی نے سوال اٹھایا کہ لاہور گٹر میں گرنے والی ماں اور بیٹی کی خبر کو فیک نیوز کہنے والوں پر پیکا لگے گا؟

صحافی ثاقب بشیر نے لکھا کہ پنجاب حکومت کو آج احساس ہو گا کہ بعض اوقات جان بوجھ کر نہیں بلکل ناسمجھی یا مکمل تصدیق سے پہلے بھی کوئی خبر شئیر ہو جاتی ہے ان پر تھوڑا تحمل دکھانا چاہیے۔ اب فیک نیوز پر دوسروں کے خلاف تو مقدمے کرتے ہیں آج خود کیا کریں گے ؟

ندا اطہر نے لکھا کہ لاہور میں یہ کونسا مین ہول تھا جس کا ڈھکن نہیں تھا اور کیوں نہیں تھا؟ علاقے کے ذمہ داران سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔ایک صارف نے سوال کیا کہ ایک عورت اپنی بچی کے ساتھ کھلے مین ہول میں گر کے مر گئی اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ فیک نیوز ہے، کیا اس کا بھی دفاع کرنا ہے؟مریم نواز خان نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ انسانی جانوں کا ضیاع انتظامی غفلت کی وجہ سے ہوا لیکن صرف اس لیے ماں اور بچے کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونا فیک نیوز قرار دینا کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے تھے اور اس کی خوب تشہیر کرنا اور پھر ڈٹ بھی جانا۔ یہاں پیکا نہیں لگتا؟ کوئی جوابدہی؟ تھوڑا سا احساس بھی باقی نہیں؟اسامہ زاہد نے کہا کہ وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے واقعہ فیک قرار دےدیا اب جبکہ خاتون کی لاش برآمد ہوچکی ہے کیا عظمی بخاری معافی مانگیں گی؟ یا استعفی دے کر گھر چلی جائیں گی۔ ایک اور صارف اکبر نے لکھا کہ ماں اور بیٹی کے گٹر میں گر کر جان کی بازی ہارنے کے اندوہناک واقعہ کو فیک نیوز قرار دینے پر عظمیٰ بخاری کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

بھاٹی گیٹ واقعہ،مریم نوازکا4افسران کی گرفتاری اوربرطرفی کاحکم

سوشل میڈیا پر شدیدعوامی رد عمل سامنے آنے کے بعد جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عظمیٰ بخاری کو معصوم قرار دے کر کلین چٹ دے دی ہے اور انھیں اس حوالے سے مکمل بری الذمہ قرار دے دیا ہے مریم نواز کے مطابق عظمیٰ بخاری کی کوئی غلطی نہیں کیونکہ انہیں وہی اطلاع دی جارہی تھی جو ہمیں بھی ملی اور انہوں نے اُسی کو آگے بیان کیا۔ وہیں دوسری جانب اب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھاٹی گیٹ واقعے پر متاثرہ خاندان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کئے پر نادم ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب، اپنی اور پوری حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندان سے معافی مانگتی ہیں۔ عظمیٰ بخاری کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے پروہ مستعفی ہونے کیلئے بھی تیار تھیں لیکن وزیر اعلی کا حکم تھا کہ میری غلطی نہیں ہے، تاہم وہ دلی طور پر دکھی اور شرمندہ ہیں اور معافی کی طلبگار ہیں۔

Back to top button