بھٹو کا عدالتی قتل: کونسا جج غصے میں تھا اور کون سا دباؤ میں؟

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے وفاق پاکستان کی جانب سے دائر کردہ بھٹو ریفرنس میں اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے والے بینچ کے سربراہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے خود ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ جنرل ضیاء الحق کے شدید دباؤ کے تحت دیا تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق جسٹس نسیم حسن شاہ کا یہ اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھٹو کے خلاف دیا گیا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا ’عدالتی قتل‘ تھا جس کا مداوا بھی ممکن نہیں۔
اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس محمد علی مظہر نے اس اصول پر زور دیا کہ جج صاحبان نہ تو خوشامد سے متاثر ہوں، نہ کسی فریق کے خلاف بغض یا عناد کو اپنے فیصلوں پر حاوی ہونے دیں اور نہ ہی کیس کی سماعت کے دوران اشتعال یا بے صبری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی ایک مقدس فریضہ اور امانت ہے، جس کے لیے تحمل، بردباری اور ذہنی سکون ناگزیر ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے یاد دلایا کہ 6 مارچ 2024 کو، 44 سال سے زائد عرصے بعد، سپریم کورٹ نے اس تاریخی ناانصافی کو تسلیم کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب احمد رضا قصوری کے قتل کیس میں نہ صرف ٹرائل غیر منصفانہ تھا بلکہ اپیل کے مرحلے پر بھی آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے متفقہ طور پر قرار دیا تھا کہ اس مقدمے میں ڈیو پروسس کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں، جنہیں پیپلز پارٹی اور قانونی ماہرین طویل عرصے سے ایک عدالتی غلطی قرار دیتے رہے ہیں۔
اپنے فیصلے میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی جج کسی فریق یا وکیل کے طرزِ عمل پر بے جا طور پر برہم ہو جائے اور اپنا ضبط کھو بیٹھے تو قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق جج کا کام خود دلائل دینا نہیں بلکہ وکلا کو مکمل موقع فراہم کرنا اور تحمل کے ساتھ تمام نکات سننا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے والے لاہور ہائی کورٹ کے بینچ کے سربراہ جسٹس مولوی مشتاق حسین بھٹو سے ذاتی عداوت رکھتے تھے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سزائے موت کے خلاف اپیلوں میں عموماً وکلا براہِ راست سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے موکل کی مکمل بریت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، جو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپیلیٹ عدالت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ سزا کو برقرار رکھے، ختم کرے یا اس میں ترمیم کرے، تاہم بھٹو کیس میں واضح تعصب اور قدرتی انصاف کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود انہیں دی گئی سزائے موت برقرار رکھی گئی۔
جسٹس محمد علی مظہر کے مطابق معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اپیلیٹ عدالت نے ایسے عوامل پر بھی غور نہیں کیا جو ریکارڈ پر موجود تھے اور جن کی بنیاد پر یا تو بھٹو کی بریت ممکن تھی یا کم از کم سزائے موت کو عمر قید میں بدلا جا سکتا تھا۔ ان کے بقول یہ غفلت ظالمانہ اور ناقابلِ معافی تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آصف علی زرداری کی جانب سے دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آنے میں 13 سال کی تاخیر ہوئی۔ انکے مطابق اس تاخیر کا کوئی معقول جواز نہیں۔ ان کے مطابق یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ سوالات طے ہونے کے باوجود اس ریفرنس کو طویل عرصے تک سرد خانے میں کیوں رکھا گیا اور فوری سماعت کیوں شروع نہ کی گئی۔
محکمہ موسمیات نےبارشوں اور برفباری کی پیش گوئی کر دی
اپنے فیصلے میں جسٹس محمد علی مظہر نے مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ کے ان ٹی وی اور اخباری انٹرویوز کا حوالہ بھی دیا جو انہوں نے بعد ازاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دیے تھے، جن میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل پر فیصلہ دباؤ اور جبر کے ماحول میں کیا گیا۔ جسٹس مظہر کے مطابق یہ اعتراف کسی بھی صاحبِ عقل اور سمجھدار شخص کے لیے اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے کافی ہے کہ یہ فیصلہ ایک عدالتی قتل تھا۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ ان کا بھٹو کیس کے حوالے سے زیر دباؤ ہونے کا اعتراف عدالتی حلف کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگرچہ یہ انکشافات تاخیر سے سامنے آئے، تاہم ان سے نہ صرف اس مقدمے میں موجود تعصبات بے نقاب ہوئے بلکہ پورے عدالتی عمل پر پڑا پردہ بھی چاک ہو گیا اور یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ ٹرائل اور سزا کے تمام مراحل میں منصفانہ سماعت کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہوئی، جس میں عدلیہ کے بعض ارکان بھی شریک تھے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والے ٹرائل اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں متعدد قانونی نقائص اور جانبداریوں کی نشاندہی کی اور بالآخر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ تمام کارروائی آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ سماعت اور ڈیو پروسس کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتی تھی، جو بعد ازاں آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ایک علیحدہ اور بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیے گئے۔
