عدم اعتماد پر آئین شکنی، بلاول کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

تحریک عدم اعتماد پر آئین شکنی پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے. میڈیا ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد 14 دنوں کے اندر پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بلانا آئین شکنی ہے جس کے خلاف ہم سپریم کورٹ میں جائیں گے. وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بزدل کپتان عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ جو کپتان جیتنے والا ہو وہ بھاگتا نہیں ہے. بلاول بھٹو نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ عدم اعتماد پیش ہونے کے 14 دنوں میں اسپیکرکو اجلاس بلانا ہوتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد سے متعلق آئین شکنی پر ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ واضح کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے متفقہ فیصلے کے تحت چلیں گے. انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہارے ہوئے شخص کو یا کسی اور شخص کو عوام کی قسمت سے کھیلنے نہیں دیں گے.

بلاول نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان جمہوری عمل سے بھاگنے کی کوشش میں ہیں، وزیر اعظم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ادارے نیوٹرل نہ رہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک میں آئینی بحران پیدا کیا جائے. انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے، اگر کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام نہ کرے تو اس پر تنقید ہونی چاہیے جبکہ وزیراعظم نے نیوٹرل کو جانورکہنے کے بعد آج تک اس پر معافی نہیں مانگی. واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کی بجائے 25 مارچ کو طلب کرنے کے فیصلے کو اپوزیشن جماعتوں نے آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے.

تحریک عدم اعتماد پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اسمبلی اجلاس 21 کی بجائے 25 مارچ کو طلب کر لیا ہے جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسپیکر کی جانب اجلاس تاخیر سے بلانا آئین شکنی کے زمرے میں آتا ہے. میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خارجہ نے اسمبلی ہال اور اس کی لابیوں کی تزئین و آرائش کے لیے فروری کے آخر میں سی ڈی اے کی جانب سے کام شروع کیا گیا.

منحرف ممبران اسمبلی واپس آ جائیں معاف کر دوں گا

رواں ماہ کی 8 تاریخ کو ریکوزیشن موصول ہونے پر سینیٹ ہال کے لیے سینیٹ سیکرٹیریٹ سے رابطہ کیا گیا اور یوں سینیٹ ہال کی تزئین و آرائش کی وجہ سے ہال دستیاب نہ ہو سکا، بعد ازاں چیئرمین سی ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو اسمبلی اجلاس کے لیے موزوں جگہ کا بندوبست کرنے کے لیے کہا گیا تو اس پر انہوں نے تحریری طور پر مناسب جگہ کی عدم دستیابی کے بارے میں اگاہ کیا. بتایا گیا ہے اس ساری صورت حال کے پیش نظر 24 مارچ سے پہلے اسمبلی کا اجلاس منعقد کرانا ممکن نہ تھا اس لیے 25 مارچ کو اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا ہے.

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اجلاس بلانے میں تاخیر پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماوں نے اسے واضح طور پر آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے. وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ن لیگ کے رہنماؤں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں اجلاس میں تاخیر پر سخت موقف اپنایا. اس ضمن میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو آئین توڑے گا، چاہے اسپیکر ہو یا وزیراعظم انہیں آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا پڑے گا. سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک آئینی حق ہے اور بنیادی طور پر یہ حق آئین میں اسی لیے رکھا گیا ہے کہ نالائق حکومت کو ہٹایا جا سکے.

ان کا مزید کہنا تھا کہ کنٹینر کی سیاست کا وقت ختم ہو چکا ہے. خواجہ سعد رفیق نے بھی ٹوئیٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر کو غیر قانونی اور غیر آئینی عمل قرار دیا. پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد 14 روز کے اندر اندر اجلاس بلانا ضروری تھا. پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمداللہ کا بھی کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے 21 کی بجائے 25 مارچ کو اسمبلی اجلاس طلب کرکے آئین سے بغاوت کی ہے.

Back to top button