اسلام آباد: امام بارگاہ میں دھماکا، 15 افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی

اسلام آباد کےعلاقےترلائی میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے 15 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ متعدد  زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ جبکہ آئی جی اسلام آباد نے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ زخمی افراد ابھی بھی جائے وقوع پر موجود ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، اور زخمیوں کو فوری طور پر پمز اور پولی کلینک منتقل کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے متعدد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اس کے ساتھ ہی اسپتالوں میں مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

WhatsApp Image 2026 02 06 at 14.16.48

ترجمان ضلع انتظامیہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس ذرائع کنے نے بتایا کہ کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ ‎‎وزیر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔ ‎طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ‎حکومت زخمی مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی، اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی اور کہا کہ دھماکے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود علاج معالجے کی نگرانی کرنے کا حکم دیا۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست ایسے عناصر کے خلاف پوری قوت سے کارروائی جاری رکھے گی۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید رنج کا اظہار کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔صدر آصف علی زرداری نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ قوم اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ریاست شرپسند عناصر کے خلاف پوری قوت سے کارروائی جاری رکھے گی۔

Back to top button