پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں بمباری

 

 

 

افغانستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کی جانب سے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کے اگلے ہی روز افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے افغان سرزمین پر پاکستانی فضائیہ کی جانب سے بمباری کا الزام عائد کر دیا۔ افغان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ اس بمباری سے 10 افغان شہری مارے گئے لہذا پاکستان کو اس کارروائی کا مناسب وقت پر بھر پور جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستانی فوجی ترجمان نے ان الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چھپ کر حملہ نہیں کرتا اور جب حملہ کرے گا تو ساری دنیا جان جائے گی۔

 

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ “امارتِ اسلامیہ پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی اس خلاف ورزی کو جرم سمجھتی ہے اور اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اپنی فضائی حدود، سرزمین اور عوام کا دفاع ہر ریاست کا جائز حق ہے، اور افغان حکومت پاکستانی حملے کا مناسب وقت پر مناسب جواب دے گی۔”

 

ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ “پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ہماری خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم کسی بھی ملک کو اپنی حدود میں اس طرح کی حرکت کی اجازت نہیں دے سکتے۔” ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی حملہ خوست کی ضلع گربزو کے علاقے مغلگے میں کیا گیا جہاں ولایت خان نامی شہری کے گھر پر بمباری میں ایک خاتون اور 9 بچے ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق کنڑ اور پکتیکا میں بھی حملے کیے گئے جن میں چار افراد زخمی ہوئے۔

 

یہ الزامات پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر تین خودکش حملہ آوروں کے حملے کے اگلے روز سامنے آئے۔ یاد رہے اس فدائین حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے تین اہلکار شہید اور 9 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے مرکزی دروازے پر دھماکہ کیا جبکہ دو حملہ آور اندر داخل ہونے کی کوشش میں مارے گئے۔ تینوں حملہ اّوروں کی لاشوں کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر کی گئی ہے اور ان کے نام بھی پتہ چل گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان حملہ آوروں کا تعلق تحریک طالبان کے سے وابستہ جہادی گروپ جماعت الاحرار سے ہے جو کہ افغانستان سے آپریٹ کرتی ہے۔

 

ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغان حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوئی کارروائی چھپا کر نہیں کرتا۔ اگر ہم کارروائی کرتے ہیں تو اعلان کرنے کے بعد کرتے ہیں۔ لہذا افغان حکومت کے ترجمان کی جانب سے لگایا جانے والا یہ الزام درست نہیں کہ ہم نے افغانستان کے اندر کوئی خفیہ حملہ کیا ہے۔ انہوں نے طالبان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو ریاست کی طرح سوچنا چاہیے، نان سٹیٹ ایکٹر کی طرح نہیں۔ ہم ریاست ہیں، اور ریاست کی طرح ردعمل دیتے ہیں۔

 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم پر افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے بھی ہوں اور ہم افغانستان کے ساتھ تجارت بھی جاری رکھیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم افغان عوام کے خلاف نہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

 

یاد رہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد پاک افغان دو طرفہ سرحدی تجارت عارضی طور پر معطل ہے۔ پاکستانی فیصلہ سازوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال سے محفوظ نہیں بناتا، پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت جاری رکھنا ممکن نہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں تیزی کے بعد بھی پاکستانی فضائیہ نے افغان سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے طالبان نیٹ ورک کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان براہ راست امن مذاکرات شروع ہوئے جنکے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا نفاذ ہوا، جو اب تک برقرار ہے۔ تاہم افغان طالبان حکومت کے تازہ الزامات کے بعد یہ سیز فائر نئے دباؤ کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

27ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹرز کو مارنے کی دھمکی

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان پر حملے کر رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں میں ہلاکتوں کے بعد قطر کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی، مگر ترکی میں ہونے والے مذاکرات تب ناکامی کا شکار ہو گئے جب افغان حکومت نے تحریک طالبان کے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کرنے کی گارنٹی دینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ پاکستان میں دہشتگردی کے تازہ واقعات کے بعد دونوں ممالک میں پائی جانے والی بے اعتمادی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

Back to top button