مجتبی خامنہ ای کی لوکیشن اور حکمت عملی دونوں پر اسرار

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صدر ٹرمپ کے لیے اپنے والد سے بھی بڑا چیلنج بن کر ابھرے ہیں جنہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی امریکہ اور اسرائیل سے شہیدوں کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے ڈٹ کر امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کر دیا ہے کہ تمام خلیجی ریاستوں سے امریکی فوجی اڈے فوری ختم کیے جائیں ورنہ ان ممالک کے خلاف ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اور بھی تیزی لائی جائے گی۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کے لیے اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں سے آپریٹ کر رہے ہیں؟
یاد رہے کہ ایران پر ہونے والے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔
ایران کی نئی قیادت کے گرد اس وقت پراسراریت کی ایک فضا قائم ہے اور عالمی سطح پر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای دراصل کہاں موجود ہیں اور کس مقام سے ریاستی معاملات چلا رہے ہیں۔ خلیج فارس سے لے کر مغربی دارالحکومتوں تک سفارتی اور خفیہ ادارے اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ کس جگہ سے اپنی حکمتِ عملی مرتب کر رہا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر اب تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔ اپنی تقرری کے بعد سے وہ پسِ منظر میں رہ کر معاملات چلا رہے ہیں۔ ایرانی عوام کو پہلی مرتبہ ان کے خیالات کا اندازہ تب ہوا جب سرکاری ٹیلی وژن پر ان سے منسوب ایک طویل بیان نشر کیا گیا۔
اس دوران ان کا بطور سپریم لیڈر پہلا جمعہ اور یومِ القدس بھی آیا جو ایران میں ایک اہم مذہبی اور سیاسی دن سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں اس موقع پر ایران کے سپریم لیڈر عوامی اجتماعات میں شرکت کرتے اور خطاب کرتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر نہیں آئے جس کے باعث قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔
بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری مہم کے ابتدائی دنوں میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے تھے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان کا پاؤں فریکچر ہوا جبکہ بائیں آنکھ اور چہرے پر بھی چوٹیں آئیں۔ تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے زخمی ہونے یا علاج کے لیے روس منتقل ہونے کی خبریں محض افواہیں ہیں اور وہ اس وقت ایران ہی میں موجود ہیں۔ یہ وہی فضائی حملوں کی لہر تھی جس میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر ہلاک ہو گئے تھے۔ ان واقعات کے بعد ایران کے اندر قیادت اور طاقت کے توازن کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبی کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے منظر عام پر نہیں لایا جا رہا لیکن وہ تمام اہم فیصلے خود کر رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر معمولی روپوشی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کر دیا ہے۔ لیکن ایرانی میڈیا میں مجتبی کی پراسراریت کو ایک خوبی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مغربی سوشل میڈیا پر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں طنزیہ تصاویر اور تبصرے بھی گردش کر رہے ہیں۔ بعض تصاویر میں انہیں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے گتے کے ایک ڈھانچے کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جبکہ ان کے نامعلوم مقام کے بارے میں مختلف اندازوں اور مزاحیہ تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کی مستند ویڈیو تصاویر اس قدر کم ہیں کہ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ بعض اوقات مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بھی نشر کر رہے ہیں جن میں انہیں بڑے اجتماعات سے خطاب کرتے یا اپنے والد کے ساتھ اہم مواقع پر موجود دکھایا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں اس وقت اصل طاقت ریاستی اور عسکری اداروں کے پاس ہے۔ خاص طور پر سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی اس صورتحال میں مزید بااثر ہو گئی ہے اور مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی یا غیر موجودگی کے باوجود جنگی حکمت عملی اور علاقائی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران میں اب فیصلے کسی ایک شخصیت کے بجائے ایک طاقتور عسکری اور سکیورٹی حلقے کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ایران کی خارجہ پالیسی کو مزید سخت اور جارحانہ بنانے کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظر سے دوری صرف ممکنہ زخموں کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے حفاظتی منصوبے کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایران اس وقت ایک ایسی جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں خاموشی اور غیر یقینی کو بھی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
فی الحال صورتحال یہ ہے کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر سرکاری بیانات اور ویڈیوز میں تو موجود ہے مگر عملی طور پر وہ کہاں ہیں اور کس مقام سے ریاستی فیصلے کر رہے ہیں، یہ سوال ابھی تک دنیا کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کی اپنی پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو نشانہ بنانے کے عزائم ظاہر کیے ہیں، لیکن آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اقتدار سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں ابھی تک انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ لہذا اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ مجتبی خامنہ ای کی لوکیشن اور انکی جنگی حکمت عملی دونوں ہی امریکہ اور اسرائیل جیسے دشمنوں کے لیے ایک پراسرار معمہ بنی ہوئی ہیں۔
