بشری کو غیر سیاسی ملاقاتوں کی اجازت: عمران پر پابندی برقرار

 

 

 

ایک جانب اڈیالہ جیل میں قید عمران خان پر اپنے رشتہ داروں اور پارٹی لیڈرز سے ملاقاتوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کو اپنے پہلے شوہر کے بچوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم یہ اجازت بھی اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے کہ ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

 

معلوم ہوا ہے کہ 4 نومبر 2025 کے بعد پہلی مرتبہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی، جن میں انکی بیٹی اور بھابھیاں شامل تھیں۔ اس ملاقات کی اجازت اس واضح شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ اسے کسی بھی طرح کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا اور ملاقاتیوں کے ذریعے کسی طرح کی سیاسی پیغام رسانی نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ممکن بنائی گئی جب گزشتہ دو ماہ سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں صرف آپس میں ملاقات کی اجازت حاصل تھی اور دونوں کو کسی بھی قسم کے اہلِ خانہ، رشتہ داروں یا پارٹی رہنماؤں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔

 

حکام کی جانب سے یہ پابندی اس الزام کے بعد عائد کی گئی تھی کہ عمران خان اپنی جیل ملاقاتوں کو سیاسی پیغام رسانی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں توشہ خانہ کرپشن ریفرنس میں مجرم قرار پانے کے بعد 14، 14 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے بعد سے دونوں کو سخت جیل ضوابط کے تحت رکھا گیا ہے، جبکہ ملاقاتوں، پیغامات اور قانونی ٹیم تک رسائی کے معاملات کو بھی کڑی نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کو رشتہ داروں سے ملاقات کی حالیہ اجازت بیرسٹر محمد علی سیف کی کوششوں سے ممکن بنائی گئی، جو عمران خان اور ان کی اہلیہ کی قانونی سہولت کاری کے حوالے سے بیک چینل سطح پر متحرک رہے ہیں۔

 

بتایا جاتا ہے کہ یہ پیش رفت تب ہوئی جب بشریٰ بی بی کی جانب سے ابتدائی طور پر یہ عندیہ دیا گیا کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ذریعے سے معاملات میں نرمی پیدا ہو سکے تو اسے آزمایا جانا چاہیے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران خان نے خود بیرسٹر محمد علی سیف کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے روابط کو استعمال کرتے ہوئے تحریکِ انصاف اور عسکری قیادت کے درمیان کسی ممکنہ مفاہمتی راستے کی تلاش کریں۔ تاہم، بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی اور اس کے ساتھ یہ شرط سختی سے نافذ کی گئی کہ ملاقات کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں ہو گی۔

 

عمران خان کی تیسری اہلیہ کو رشتہ داروں سے ملاقات سے قبل واضح طور پر ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ نہ تو کوئی سیاسی پیغام بھیجیں گی اور نہ ہی کوئی پیغام وصول کریں گی، چنانچہ بشری بی بی کی اپنی بیٹیوں اور بھابھیوں سے ملاقات کے دوران ان شرائط کی مکمل پاسداری کی گئی۔ اگرچہ کسی سیاسی موضوع پر گفتگو نہیں ہوئی، تاہم بشریٰ  نے ذاتی نوعیت کی شکایت کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی اور عمران کی مسلسل قید کے باوجود تحریکِ انصاف کی جانب سے ان کیلئے کوئی مؤثر اور عملی کوشش سامنے نہیں آ سکی۔

 

باخبر حلقوں کے مطابق، اس ملاقات کو کسی وسیع تر سیاسی رابطے یا مفاہمتی عمل کا حصہ قرار نہیں دیا جا رہا بلکہ اسے محدود، مشروط اور مخصوص انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی سہولت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم بشریٰ بی بی کو یہ بات بھی واضح طور پر بتا دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں ان ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو ان پر بھی وہی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی جو اس وقت عمران خان پر نافذ ہیں۔ اس کے برعکس، عمران خان کے معاملے میں تاحال کسی نرمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ذرائع کے مطابق، اہلِ خانہ کے ساتھ ان کی آخری ملاقات، جس میں ان کی بہن بھی شامل تھیں، تحریکِ انصاف کی قیادت، بالخصوص بیرسٹر گوہر علی خان کی مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہو سکی تھی۔ تاہم یہ ملاقات تب متنازع بن گئی جب عمران خان کے ایسے بیانات میڈیا تک پہنچے، جن میں چیف آف آرمی سٹاف پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے انہیں ایک ذہنی مریض قرار دیا گیا۔ ان بیانات کو عسکری حکام نے ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے یہ کیس بنایا کہ جیل ملاقاتوں کو سیاسی پیغام رسانی کیلئے استعمال کیا گیا، جس کے بعد عمران خان پر عائد پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔ حکام نےواضح کیا ہے کہ جیل میں دی جانے والی کسی بھی سہولت کو سیاسی رابطے، بیانات یا ہدایات کی ترسیل کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بڑھک باز سہیل آفریدی اچانک مفاہمتی کیوں ہو گئے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق، عمران اور بشریٰ کے معاملات میں اختیار کیا گیا مختلف طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی ادارے جیل ملاقاتوں کے ذریعے سامنے آنے والے کسی بھی ممکنہ سیاسی بیانیے کے حوالے سے غیر معمولی حد تک محتاط ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

Back to top button