بشری بی بی کی اجارہ داری: اپنا ڈرائیور سینیٹ کا امیدوار بنا دیا

 

 

 

عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا ڈرائیور پی ٹی آئی کا سینیٹ کا امیدار بن گیا۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کی خالی سینیٹ نشست پر بشریٰ بی بی کے ڈرائیور غلام بادشاہ کو بطور کورنگ امیدوار سامنے لانے کے فیصلے نے پارٹی میں اختلافات اور تنقید کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کا یہ اقدام ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح میرٹ اور اہلیت کی بجائے ذاتی تعلقات اور قربت کو ٹکٹ کے حصول کا معیار بنا رہی ہے، جس سے پارٹی کے نظریاتی موقف اور عوامی اعتماد پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

 

خیال رہے کہ مراد سعید کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی سینیٹ کی سیٹ کیلئے ٹکٹ کا اجراء گزشتہ کئی روز سے پی ٹی آئی کیلئے درد سر بنا ہوا تھا۔ اس حوالے سے مختلف گروپوں کے مابین اختلافات کھل کر سامنے آ رہے تھے تاہم اب پی ٹی آئی نے سینیٹ کی خالی نشست پر عرفان سلیم کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے تاہم عرفان سلیم کے کورنگ امیدواروں کے نام سامنے آںے پر پی ٹی آئی کی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ عرفان سلیم کے کورنگ امیدواروں میں غلام بادشاہ کا نام بھی شامل ہے جو کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا ڈرائیور ہے، یوں پی ٹی آئی نے عملی طور پر بشریٰ بی بی کے ڈرائیور کو بھی سینیٹ کا امیدوار بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ کے ٹکٹ کے اجراء کے حوالے سے پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں سخت اختلافات دیکھنے میں آئے ۔ذرائع کے مطابق سینٹ امیدوار کیلئے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر نے اخوانزادہ حسین یوسفزئی کا نام تجویزکیا تاہم پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ نے اخوانزادہ حسین یوسفزئی کا نام مسترد کرکے عرفان سلیم کا نام فائنل کر دیا حالانکہ عرفان سلیم بھی9مئی کے کئی مقدمات نامزد ہیں اور پولیس کو مطلوب ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندرونی اختلافات اس وقت مزید واضح ہوگئے جب بیرسٹرگوہر اور سلمان اکرم راجہ نے اخوانزادہ حسین یوسفزئی کا نام بطورکورننگ امیدوار لانے پر اتفاق کیا۔ بیرسٹرگوہر نے تو اتحادیوں سے اخوانزادہ حسین یوسفزئی کوکورنگ امیدوار کے طور پر شامل کرنے کا وعدہ بھی کیا، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اخوانزادہ حسین یوسفزئی کی بجائے بشریٰ بی بی کے ڈرائیور غلام بادشاہ کا نام بطور کورنگ امیدوار شامل کروادیا۔ بشریٰ بی بی کے ڈرائیورکو بطورکورنگ امیدوارلانے پر نہ صرف پی ٹی آئی رہنما سراپا احتجاج ہیں بلکہ پارٹی ورکرز بھی سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ڈرائیور کا نام بطور سینیٹ امیدوار سامنے آنا، کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

رانا ثنا اللہ کی جگہ حمزہ شہباز پنجاب نون لیگ کے صدر

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ محض ایک تقرری نہیں بلکہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایک ڈرائیور کو بھی سینیٹ جیسے اہم ایوان کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں میرٹ کے بجائے ذاتی قربت اور وفاداری کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلے نہ صرف پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوامی تاثر پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔ ناقدین کے بقول جب سیاسی جماعتیں خود اپنے اصولوں پر قائم نہ رہیں تو وہ عوام سے میرٹ اور شفافیت کی توقع کیسے کر سکتی ہیں؟”

 

دوسری جانب کچھ حلقوں کا مؤقف ہے کہ کورنگ امیدوار کی حیثیت علامتی ہوتی ہے، اس کا حتمی انتخاب سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا، اس لئے غلام بادشاہ کو بطور کورنگ امیدوار سامنے لانے پر اعتراضات بے بنیاد ہیں تاہم ناقدین کے مطابق کورنگ امیدوار کی علامتی حیثیت ہونے کے باوجود یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ پر برقرار رہتا ہے کہ ایسے ناموں کو زیر غور کیوں لایا جاتا ہے، خاص طور پر جب پارٹی کے اندر تجربہ کار اور نظریاتی کارکن موجود ہوں۔ مبصرین کے مطابق سینیٹ کی ٹکٹ کی تقسیم کا معاملہ پی ٹی آئی کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔ اگر پارٹی قیادت اس پر وضاحت نہیں دیتی اور شفافیت کو یقینی نہیں بناتی تو یہ تاثر مزید مضبوط ہو سکتا ہے کہ سیاست میں میرٹ کے بجائے تعلقات اور قربت کو فوقیت حاصل ہے۔ ایسے میں نہ صرف پارٹی کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی متزلزل ہو سکتا ہے۔

 

Back to top button