عمران کی جانشینی کی دوڑ میں علیمہ کے ہاتھوں بشری کو شکست

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانشینی کی دوڑ میں بظاہر علیمہ خان نے اپنی تیسری بھابھی بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کو شکست دے ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 26 نومبر کے لانگ مارچ کے دوران بشری کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں نہ صرف عمران خان کی سٹریٹ پاور ختم ہو گئی بلکہ پنکی پیرنی کا سیاسی کیریئر بھی ختم ہو گیا۔ چنانچہ اب بشری بی بی جیل میں ہیں اور علیمہ خان تحریک انصاف چلا رہی ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہماری سیاست کے رنگ نرالے ہیں، وہ سیاسی جماعت جو دو بڑے سیاسی خاندانوں کی وراثت ختم کرنے کیلئے میدان میں آئی تھیں، آج اس میں بھی وراثت کی جنگ جاری ہے۔ نیرنگئی سیاست دیکھیے کہ عمران خان کا جانشین کوئی ورکر نہیں بلکہ انکی اہلیہ یا انکی باجی ہوں گی، اگرچہ اب تک ان دو بیبیوں کو پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا مگر وہ اس قدر طاقت ور ہیں کہ پارٹی کے جس بڑے سے بڑے لیڈر کو چاہیں، دو فقرے بول کر صفر کر دیتی ہیں۔ یہ دونوں زبان دراز اور بد لحاظ بیبیاں جسے چاہیں عزت دیتی ہیں اور جسے چاہے ذلیل کر دیتی ہیں۔

انکے مطابق حالات و قرائن بتا رہے ہیں کہ خان کی جانشینی کی دوڑ میں علیمہ باجی اپنی تیسری بھابھی بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ علیمہ باجی کا اوورسیز تنظیموں اور مالدار لوگوں سے بہت گہرا تعلق بن چکا ہے، ایک وقت تھا جب خان کی باجیوں کو بشریٰ بی بی کے سامنے چپ کرا دیا جاتا تھا، علیمہ باجی خان کے قریب تو بہت ہیں تاہم وہ انہیں ڈانٹ کر بھی اپنی بات منوا لیا کرتا تھا۔ تب بشریٰ بی بی کے سیاسی فیصلے مانے جاتے تھے اور ان کی روحانیت اور فراست کے سامنے سب زیر تھے۔ پھر نومبر آ گیا جب بشری بی بی کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا لانگ مارچ 26 نومبر کی رات انجام کا شکار ہوا۔

اس لانگ مارچ کی ناکامی کا ولن اگرچہ گنڈا پور کو قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن چونکہ یہ بشری بی بی کا پاور شو تھا اور آخری لمحے میں مذاکرات سے انکار بھی انہوں نے کیا، لہذا یہ ناکامی بشری کے گلے پڑ گئی اور انہیں لے ڈوبی، نومبر کا لانگ مارچ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ اسکی ناکامی سے عمران خان کی سٹریٹ پاور اور احتجاجی سیاست کا بھی خاتمہ ہو گیا اور اب ان کے ورکرز سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

آج کل بشری بی بی اپنی تمام تر روحانی پیشن گوئیوں اور سیاسی فراست سمیت لانگ جیل میں بند ہیں اور علیمہ خان دندناتی پھر رہی ہیں۔ سلائی مشینوں کے بزنس سے شہرت حاصل کرنے والی علیمہ ہی عمران کیلئے وکیلوں کا انتظام کرتی ہیں، بیرون ملک موجود پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے بھی وہی پیغام رسانی کرتی ہیں۔ اس سے پہلے یہ سارے کام بشری بی بی کر رہی تھیں اور انہی کا سکہ چلتا تھا۔ 26 نومبر کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل پہنچ جانے والی بشریٰ بی بی اب اکثر عدالتی پیشیوں کے دوران جلال میں آ جاتی رہیں۔ ایک روز تو وہ اتنا ذیادہ غصہ ہوئیں کہ عمران خان کے منع کرنے کے باوجود جج کو کھری کھری سنا ڈالیں۔

تاہم بقول سہیل وڑائچ، اس وقت عمران خان جادوگرنی کہلانے والی اپنی تیسری اہلیہ کے اتنا زیادہ زیر اثر ہیں کہ وہ نہ صرف لوگوں کے سامنے ان کے غصے کو برداشت کر لیتے ہیں بلکہ ان کی بد زبانی ہر بھی کوئی ردعمل نہیں دیتے۔ دوسری طرف علیمہ سمیت ان کا اپنی بہنوں پر مکمل کنٹرول ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے بھی علیمہ باجی کو ڈانٹ ڈپٹ کر اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ بانی تحریک انصاف کو مسلسل ملنے والوں کا خیال ہے کہ پہلے بشریٰ بھابی چھائی ہوئی تھیں مگر اب علیمہ باجی چھائی ہوئی ہیں کیونکہ نومبر کے لانگ مارچ سے متعلقہ تمام غلط فیصلوں نے بشریٰ کا سیاسی کیریئر ختم کر دیا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران اور انکی اہلیہ کیخلاف کرپشن کیس کی کارروائی سننے والے ایک سیاسی قیدی نے بتایا کہ خان کا بشریٰ سے رویہ حد درجہ احترام اور احتیاط کا ہوتا ہے۔ تاہم حیران کن امر یہ ہےکہ بشریٰ کا رویہ حکومت کے خلاف خان کی نسبت زیادہ جارحانہ ہوتا ہے جبکہ وہ انہیں ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے نومبر کے لانگ مارچ سے پہلے جب بشریٰ ابھی جیل میں تھیں تو بانی اور پنکی دونوں کی متفقہ رائے تھی کہ لوگ باہر تحریک چلانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی قیادت خوف کی وجہ سے اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ اس دوران بشریٰ کو جیل سے رہا تو خان کو ریلیف دینے کے لئے کیا گیا تھا لیکن موصوفہ نے الٹا پشاور میں ڈیرے ڈال کر اسلام آباد پر چڑھائی کا پروگرام بنا لیا۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ بشریٰ  نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اگر لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ گیا تو پھر کسی صورت حکومت عمران کی رہائی نہیں روک پائے گی کیونکہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور ریاست بے بس ہو جائے گی۔ چنانچہ بشریٰ نے کلثوم نواز کی طرح سیاسی ادا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے شوہر کو جیل سے نکلوا سکیں، تاہم 26 نومبر کی رات اپنی جوتیاں اور تکیے اٹھا کر فرار ہونے کے فیصلے نے ان کا سیاسی کیریئر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔ بعدازاں علی امںن گنڈا پور اور سلمان اکرم راجہ دونوں ہی بشریٰ بی بی کے رویے سے شاکی رہے۔ سلمان اکرم راجہ نے تو ان کی جھاڑ کھانے کے بعد استعفیٰ بھی دے دیا تھا جو بانی نے خود واپس کروایا۔ گنڈا پور بھی بشریٰ بی بی کے سخت رویے سے نالاں رہے۔ یہ وہ چند وجوہات تھیں جن سے بشریٰ سیاسی منظر نامے سے ہٹ کر پس منظر میں چلی گئیں اور عمران کی مردانہ شکل باجی علیمہ خان سیاسی افق پر چھا گئیں۔

عمران خان سے ہمیں ملنے نہیں دیا گیا، دوسرے کیسے مل رہے ہیں؟ : علیمہ خان

سہیل وڑائچ کے بقول سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عمران کی پسند ناپسند اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے، آج کل ہر معاملہ علیمہ باجی نے سنبھالا ہوا ہے، لیکن کل کو یک لخت ان سے سب کچھ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ خان کے مزاج اور اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی مسلسل قید کے باوجود بانی ان پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔تحریک انصاف میں سب سے تجربہ کار پارلیمنٹرین ہونے کے باوجود سیاسی امور پر ان سے سرے سے کوئی مشورہ ہی نہیں کیا جاتا، انہیں تو پارٹی لیڈر شپ میں سے کوئی بھی بڑا نام ملنے نہیں جاتا۔ایک طرف علیمہ باجی کی گڈی چڑھی ہوئی ہے تو دوسری طرف سلمان اکرم راجہ بھی بہت مضبوط ہوتے نظر آ رہے ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آج کے یہ بڑے کل بھی بڑے ہی رییں گی یا بانی کی نظر کرم ان کی بجائے کسی اور کو بڑا بنا دے گی ۔

Back to top button