ناکام انقلاب کی قیادت کرنے والی بشری مفرور ہیں یا گرفتار ہو چکی ہیں؟

تحریک انصاف کے ناکام انقلاب کی قیادت کرنے والی بشری بی بی عرف پنکی پیرنی 26 نومبر کی رات اسلام آباد کے ڈی چوک میں رینجرز کا آپریشن شروع ہوتے ہی فرار ہو جانے کے بعد سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں اور یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپی ہوئی ہیں یا انہیں حراست میں کیا جا چکا ہے۔دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بشری بی بی کامیابی سے اپنے کارکنان کو اسلام آباد کی سڑکوں پر بے یار و مددگار چھوڑنے کے بعد علی مین گنڈاپور کے ہمراہ فرار ہو کر مانسہرہ پہنچ چکی ہیں اور جلد منظر عام پر آ جائیں گی۔
یاد رہے کہ بشری بی بی نے ڈی چوک میں دھرنا دینے اور عمران خان کی رہائی تک واپس نا جانے کا اعلان کیا تھا، انکا کہنا تھا کہ وہ اپنے پٹھان بھائیوں کے ہمراہ خون کے آخری قطرے تک جنگ لڑیں گی اور انکے غیرت مند ورکرز ڈٹ کر انکا ساتھ دیں گے۔ تاہم جیسے ہی رینجرز نے آپریشن کلین اپ شروع کیا، بشری بی بی اور علی امین نے سب سے پہلے راہ فرار اختیار کی جس کے بعد انکے ہزاروں ورکرز نے بھی جوتیاں اٹھا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔
رینجرز آپریشن کے نتیجے میں انقلاب کا جھٹکا ہو جانے کے بعد سے بشری بی گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہیں اور ابھی تک واضح نہیں ہو پایا کہ وہ کہاں پر ہیں۔ رات بھر ٹی وی چینلز پر یہ خبریں چلتی رہیں کہ بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور ایک ہی کی گاڑی میں فرار ہوئے تھے اور اب پولیس کی گاڑیاں ان کا پیچھا کر رہی ہیں تاکہ انہیں گرفتار کیا جا سکے۔ اس دوران یہ خبر بھی چلتی رہی کہ اب گاڑی کا رخ خیبر پختون خواہ ہاؤس کی جانب مڑ چکا ہے، پھر خبر آئی کہ گاڑی روک لی گئی ہے اور دونوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے، لیکن اس کہانی کا اینٹی کلائمیکس تب ہوا جب یہ پتہ چلا کہ گاڑی میں صرف ڈرائیور موجود یے جبکہ بشری اور گنڈاپور فرار ہو چکے ہیں۔
بعدزاں ٹی وی چینلز پر یہ خبر چلنا شروع ہو گئی کہ بشری بی بی اور گنڈاپور خیبر پختون خواہ کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ لیکن جب صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ علی امین گنڈاپور مانسہرہ پہنچ چکے ہیں اور بشری کا اب تک کوئی پتہ نہیں۔ اس کے بعد عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے بشریٰ بی بی کے اغوا کیے جانے کے خدشات ظاہر کر دیے۔
ایک بیان میں مریم ریاض وٹو نے کہا کہ انکو معلوم ہوا ہے کہ بشریٰ بی بی کو زبردستی اغوا کر کے لے جایا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ بشریٰ بی بی خیبرپختونخوا پہنچ گئی ہوتیں اور خیریت سے ہوتیں تو وہ ضرور اہنی فیملی سےرابطہ کرتیں۔
اسلام آباد پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بشری بی بی اور علی گنڈاپور نے رینجرز کا اپریشن شروع ہوتے ہی ایک ہی گاڑی میں فرار ہونے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں دونوں علیحدہ ہو گے۔ انکے مطانق اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ بشری بی بی گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد میں ہی کہیں چھپی ہوں۔ پولیس ذرائع کے مطابق 26 نومبر کی رات علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی بلیو ایریا میں کلثوم پلازہ کےقریب اپنی گاڑیوں میں موجود تھے اور پی ٹی آئی مظاہرین کی قلیل تعداد انکے ساتھ تھی۔ لیکن جیسے ہی رینجرز کا اپریشن شروع ہوا تو یہ تمام لوگ فرار ہو گئے۔
رات گئے اے آر وائی نیوز پر چلنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کی گاڑیوں نے کافی دیر تک اس گاڑی کا پیچھا کیا جس میں مبینہ طور پر علی امین اور بشری دونوں موجود تھے اور پھر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اب ان دونوں پر 4 رینجرز اہلکاروں کے قتل کا کیس بھی چلے گا۔ تاہم دوسری جانب جیو ٹی وی نے یہ خبر چلا دی کہ بشری بی بی کی گاڑی پیر سہاوا کے راستے خیبر پختون خواہ میں داخل ہو گئی ہے اور ان کی گرفتاری کی خبر غیر مصدقہ ہے۔ لیکن اب تک بشری بی بی کے خیبر پختون خواہ پہنچنے کی تصدیق نہیں ہو پائی جبکہ علی امین گنڈاپور کی مانسہرہ پہنچنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں علیحدہ علیحدہ گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل رینجرز اور پولیس کے دستوں نے ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے شرپسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا شروع کیا تھا جس کے دوران آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران فائرنگ کرنیوالے پی ٹی آئی مظاہرین کو جوابی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس سے کئی شرپسند زخمی بھی ہوئے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بشریٰ بی بی اور علی گنڈاپور کی قیادت میں 10 ہزار سے زائد مظاہرین ڈی چوک تک پہنچ گئے تھے اور ریڈزون میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔جس کے بعد رینجرز اور پولیس کے ذریعےکریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔
مذاکرات کیوں نہیں کیے؟رہنما تحریک انصاف احتجاج پر سوالات اٹھاتے ہوئے پھٹ پڑے
خیال رہے کہ آپریشن سے 2 گھنٹے پہلے وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دھرنا مظاہرین یا ان کی قیادت سے مذاکرات نہیں ہوں گے اور ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
