کاغذ کے بحران سے کتابوں، کاپیوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

کاغذ کی قیمت تین گنا بڑھنے سے کتابیں اور کاپیاں طلبا کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، 800 والی کتاب اب 2000 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ 100 روپے والی کاپی 300 روپے میں بک رہی ہے۔
درآمدی کاغذ اور کتابوں کے کنٹینر رکنے اور نئی ایل سی کھلنے میں مشکلات کی وجہ سے اے اور او لیول سمیت میڈیکل اور دیگر شعبوں کے طلبا کو اس سال ستمبر میں نئی کتابیں ملنے کے حوالے سے سوالیہ نشان پیدا ہو چکا ہے۔
جو کاپی پچھلے سال 100 روپے کی تھی اب مارکیٹ میں 300 کی ہو چکی ہے، یہ بحران دراصل ہے کیا اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟ صرف ایک سال کے دوران کاغذ کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہوا جس کی سب سے بڑی وجہ روپے کی گرتی ہوئی قدر اوردرآمدی اشیا پر پابندی ہے۔
سابق وائس چیئرمین آل پاکستان پیپرز مرچنٹس ایسوسی ایشن خامس سعید بٹ نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان میں کاغذ کی پروڈکشن اس کی ضرورت سے کم ہے، دوسرا وہ غیر معیاری ہے۔
مارکیٹ میں اس کا توازن کاغذ درآمد کر کے برقرار رکھا جاتا تھا لیکن پچھلے چھ ماہ سے نئی ایل سی نہیں کھل رہیں اور ہمارے سینکڑوں کنٹینر رکے پڑے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں کاغذ کی کمی ہو گئی ہے، پہلے جتنی قیمت میں اے فور سائز کا معیاری درآمدی کاغذ مارکیٹ میں مل رہا تھا، اب اتنی ہی قیمت میں مقامی اور غیر معیاری کاغذ مل رہا ہے۔
درآمدی کاغذ پر 60 فیصد ڈیوٹی لگا کر پاکستان کی مٹھی بھر ان ملوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جو غیر معیاری کاغذ بنا رہی ہیں جس کے بعد کارٹلز کو غیر معیاری کاغذ کی قیمتوں میں منہ مانگا اضافہ کرنے کا جواز مل گیا ہے۔معیاری آفسٹ پیپر کی ایکس مل قیمت 820 ڈالر فی ٹن ہے جبکہ اس کی مارکیٹ میں غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی ملوں نے اس کے دوسرے اور تیسرے درجے کے پیپر کی قیمت 1400 سے 1500 ڈالر فی ٹن کر دی ہے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔
وفاقی حکومت نے گذشتہ بجٹ میں مقامی پیپر ملوں کے دباؤ پر بغیر کوٹیڈ وڈ فری پیپر پر غیر قانونی طور پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جبکہ اس پر پہلے ہی آئٹم پر 11 سے 39 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی موجود ہے۔ یہ دوہرا ٹیکس ہے اور جب قانونی طور پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی پہلے سے موجود ہو تو ریگولیٹری ڈیوٹی کو نافذ نہیں کیا جا سکتا، ایف بی آر تحقیقات کرے کہ 92 فیصد ملکی کاغذ تیار کرنے والی ملیں آٹھ فیصد درآمدی کاغذ کے مقابلے پر ملکی خزانے کو کتنا ٹیکس ادا کرتی ہیں۔
ان کے مطابق ’جتنا ٹیکس مقامی پیپر ملیں چوری کر رہی ہیں اس کے بعد کم از کم یہ اس قابل تو ہوتیں کہ ملکی ضروریات کا معیاری کاغذ ہی تیار کر پاتیں لیکن یہ آج تک ایسا بھی نہیں کر سکیں، مارکیٹ میں معیاری پیپر مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ پبلشر جو اپنی کتابیں درآمدی پیپر پر چھاپتے ہیں ان کی قیمتیں صرف چھ ماہ میں دوگنی ہو چکی ہیں۔
جہلم بک کارنر جو خوبصورت اور معیاری کتابوں کی حوالے سے جانا جاتا ہے، کے پبلشر گگن شاہد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ صرف چھ ماہ میں کاغذ کی قیمتیں تین گنا ہو چکی ہیں۔ اسی طرح پرنٹنگ، گم ، بائنڈنگ سب کے ریٹ تین گنا بڑھ گئے ہیں۔ جو کتاب ہم 800 میں بیچ رہے تھے اور لوگ کہتے تھے مہنگی ہیں اب اس کی لاگت 2000 ہو چکی ہے ایسے میں یہ انڈسٹری کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔
ان کے مطابق ’چھوٹے پبلشرز جو کاغذ کریڈٹ پر لے کر کام کرتے تھے وہ تو اب بند ہو چکے ہیں اب صرف بڑے پبلشرز ہی رہ گئے ہیں جن کی حالت زار پر حکومت نے رحم نہ کیا تو پاکستان سے کتاب ختم ہو جائے گی، حکومت کاغذ پر درآمدی ڈیوٹیاں ختم کرے کیونکہ اس سے سرکاری خزانے کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن دوسری جانب ملک میں علم کی فروغ میں کتاب کا کردار بڑھ جائے گا۔
پاکستان میں دو بڑے کاروباری گروپ کاغذ کی ملیں چلاتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ تمام ملیں چھوٹی ہیں جو پلپ کے بغیر توڑی اور ری سائیکل مٹیریل سے کاغذ بنا رہی ہیں، ایک بڑے کاروباری گروپ کے مل منیجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کرونا کے بعد دنیا میں خام مال کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھی ہیں اور کاغذ کی فنشنگ میں سب سے اہم مٹیریل پلپ یعنی لکڑی کا گودا ہوتا ہے جو ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے، اس کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں، پھر پاکستان میں کاغذ کی قیمتوں میں جو بحران آیا ہے، اس کی بڑی وجہ ڈالر ہے۔
ان کے مطابق جب تین سال پہلے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت تین گنا بڑھ چکی ہے تو اس کا اثر قیمتوں پر بھی پڑے گا، اس کیساتھ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں، اس لیے ہماری انڈسٹری عالمی انڈسٹری کا مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی، جب امپورٹ کھولیں گے تو پھر مقامی ملیں کیسے چلیں گی۔
