پاکستانیوں کیلئے مقامی گاڑیاں خریدنا بھی مشکل کیوں ہوگیا؟

حکومت کی جانب سے 40 لاکھ روپے سے زائد کی گاڑیوں لگژری قرار دیئے جانے کے بعد پاکستانیوں کے لیے مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیاں خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے، اگر آپ بھی ان افراد میں شامل تھے جو گاڑی کی خریداری کیلئے نئے سال کا انتظار کر رہے تھے مگر بوجہ جنوری کے مہینے میں گاڑی نہیں خرید پائے تو آپ لیٹ ہو چکے ہیں اور آپ کیلئے ایک بُری خبر ہے! بُدھ کو نگران کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اس تجویز کو منظور کر لیا جس کے تحت مقامی سطح طور تیار یا اسمبل کردہ بعض گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو بڑھا کر 25 فیصد کر دیا گیا ہے، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی جمعرات کو نگراں وفاقی کابینہ نے بھی باقاعدہ منظوری دیدی ہے۔اگرچہ اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم ایف بی آر نے یہ تجویز دی تھی کہ اُن تمام گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے جن کی قیمت چار ملین (یعنی 40 لاکھ روپے) سے زیادہ ہے یا ان میں 1400 سی سی سے زیادہ انجن ہے یا پھر وہ ڈبل کیبن ہیں، گاڑیوں کی فروخت کم ہوگی تو اضافی ٹیکس کہاں سے وصول ہوگا؟پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے ترجمان عبدالوحید خان کے مطابق اس اقدام کے اثرات نہ صرف مقامی طور پر گاڑیوں کی تیاری کی صنعت پر مرتب ہوں گے بلکہ اس سے زیادہ نقصان اُن صارفین کو ہوگا جو اس کیٹگری کی نئی کاریں خریدیں گے۔2023-24 کے پہلے سات مہینوں (جولائی 2023 تا جنوری 2024) کے دوران گاڑیوں کی فروخت 2023 کے اسی دورانیے کے مقابلے 48 فیصد کم رہی ہے، پہلے ہارس پاور یعنی سی سی کے اعتبار سے لگژری گاڑیوں کا تعین کیا جاتا تھا کہ 1400 سی سی کے اوپر کی گاڑیاں لگژری تصور ہوں گی اور اسی لیے ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد ہوگی مگر اب ان کے مطابق اسے ’’پرائس کیپ‘‘ کر دیا گیا ہے، یعنی چار ملین (40 لاکھ روپے) سے اوپر تمام گاڑیاں لگژری تصور ہوں گی اور ان پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ ’پاک ویلز‘ سے وابستہ صحافی سلیمان علی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قبل 1400 سی سی انجن سے اوپر کی تمام گاڑیوں کو لگژری تصور کر کے ان پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا تھا تاہم اب 40 لاکھ روپے سے اوپر اُن 1400 سی سی انجن سے نیچے کی تمام گاڑیوں پر 18 فیصد کی بجائے 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، اسی تناظر میں معاشی تجزیہ کار عبدالرحمان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ سادہ الفاظ میں کوئی بھی 1000 سی سی سے زائد کی کار اب پاکستان میں ایک لگژری ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ ای سی سی نے 40 لاکھ روپے سے زائد کی تمام کاروں پر 18 فیصد کی بجائے 25 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری دیدی ہے، اس سے قبل (صرف) 1400 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 25 فیصد لگژری ٹیکس لاگو ہوتا تھا تو اب اس فہرست میں پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والی کون سی گاڑیاں شامل ہوں گے؟ اس حوالے سے سلیمان علی بتاتے ہیں کہ ملک میں 40 لاکھ روپے سے اوپر کی گاڑیوں میں سوزوکی کلٹس، سوزوکی سوئفٹ، ٹویوٹا

جبران ناصر کو منشا پاشا سے شادی پر کیا مشکلات پیش آئیں؟

یارس، ہنڈا سٹی اور پروٹون ساگا وغیرہ شامل ہیں۔

Back to top button