زرداری ہاؤس میں چہل پہل اور بنی گالہ میں آسیب کے سائے

مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں موجود ہے زرداری ہاؤس۔ مضبوط لوہے کے دروازے، تین رنگ کے جھنڈے، دیواروں پر بھٹو اور بینظیر کی تصاویر اور پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تیر۔ کچھ ماہ قبل اس بنگلہ کے ارد گرد سناٹا طاری تھا۔ نا بندہ نا بندے کی ذات، سوائے کچھ پرانے جیالوں اور خادموں کے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پیپلز پارٹی سے اقتدار کی سیاسی زندگی روٹھ سی گئی ہو۔ لیکن ان دنوں یہاں سیاسی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔

ایک کمرے میں آصف زرداری اپنی آرام دہ کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ارد گرد ان کے اپنے دور کے وزرائے اعظم اور اعتماد والے راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی ٹیلیفون رابطوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ بلاول کی ذمہ داری پریس کانفرنسز اور بیانات داغنا ہے۔ گویا وہ پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کا چہرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسا ہی کچھ کردار نواز شریف کی سیاسی وارث مریم نواز کا ہے جو گرما گرم کپتان مخالف بیانات دیتی نظر آتی ہیں۔

اسلام آباد میں بلاول ہاؤس کا یہ نقشہ کھینچتے ہوئے سینئر صحافی اویس توحید کہتے ہیں کہ کبھی مولانا فضل الرحمان کے پگڑیوں اور داڑھیوں والے ساتھیوں کے قافلہ کی آمد تو کبھی چھوٹے میاں شہباز شریف کی نون لیگیوں کے ساتھ پھیرے۔ کبھی ایم کیو ایم تو کبھی اسٹیبلشمنٹ سے قریب ترین سمجھے جانے والی جماعتوں چوہدری برادران کی ق لیگ اور ”مائی باپ“ کی پارٹی ”باپ“ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کے چکر۔

غرض یوں سمجھ لیجیے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک کا مرکز زرداری ہاؤس اسکام آباد ہے۔ اور زرداری عمران خان کو پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے چت کرنے کے لیے نمبر گیم کے حصول اور جوڑ توڑ کی سازشوں میں مصروف ہیں۔

گویا انہوں نے اپوزیشن کی تحریک کے سپہ سالار کا روپ دھارا ہوا ہے۔ کس کو جوڑنا ہے، کس کو توڑنا ہے۔ جو جو خان صاحب کی صفوں سے جدا ہوتا ہے، اس کا مسکن قومی اسمبلی کے نزدیک واقع ”سندھ ہاؤس“ ہے۔ اور ظاہر ہے اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں زرداری کو اپنا دشمن نمبر ون قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ میری بندوق کے نشانے پر آ چکا ہے۔

اویس توحید کہتے ہیں کہ زرداری صاحب کے سیاسی جوڑ توڑ کے چرچے اس ووت ملک بھر میں ہیں۔ ان کی سادہ سی تیکنیک ہے، وہ بس اتنا پوچھتے ہیں ”بتائیے ہم کیا کریں کہ آپ ہمارے ساتھ ہوں؟“ یہی پیشکش ایم کیو ایم کے وفد کو بھی دی گئی۔ الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور کراچی میں سیاسی بالا دستی کو بحال کرنا چاہتی ہے تو فوراً ہی مفاہمت کا ہاتھ تھام لیا۔

بلدیاتی اختیارات، صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں اور گورنر کے عہدے کے مطالبات پر زرداری صاحب کی رضامندی۔ تاہم ایم کیو ایم پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتی ہے لہذا باضابطہ اعلان ایک آدھ روز میں ہونا باقی ہے۔

ادھر وزیر اعظم ہاؤس اور خان صاحب کی بنی گالہ رہائش گاہ پر پریشانیوں کا ڈیرہ ہے۔ چوہدری برادران کے حکومت مخالف بیانات۔ جہانگیر ترین اور علیم خان بھی ناراض۔ پارٹی سے نالاں قومی اسمبلی کے 20 سے 25 اراکین کا انحراف۔ پھر تحریک عدم اعتماد کا سامنا۔ ایسے میں خان صاحب کریں تو کیا کریں؟ اتحادیوں کے فاصلے، اراکین کا ناراض ہونا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھیں تو صدا کچھ یوں سنائی دیتی ہے کہ ”مجھ سے پہلی سے محبت میرے محبوب نہ مانگ“ ۔

اویس توحید کہتے ہیں کہ چند ہی ماہ میں کپتان سیاسی بساط کا پلٹ جانا خود ان کی بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ عمران خان حکومت کو پریشانیوں نے تب گھیرے میں لیا جب آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے تاخیر ہوئی اور تنازعہ کھڑا ہو گیا۔

گویا اسٹیبلشمنٹ کے اعتماد اور ساکھ کو اس شخص کی جانب سے ٹھیس پہنچی جسے کپتان بنانے کے لیے فوجی قیادت نے اپنے ادارے کی ساکھ بھی داؤ پر لگا دی تھی۔ میڈیا، سیاسی اور عوامی حلقوں میں چرچا ہوا اور یوں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین شیشے کی دیوار کھڑی ہو گئی۔ قربتیں فاصلوں میں بدل گئیں۔ اور کچھ یوں تشریح ہوئی کہ اسٹیبلشمنٹ ریاستی امور اور قومی مفاد کے ایشوز پر حکومت کے ساتھ ہوگی جیسے اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کے بل کی منظوری ہوئی، لیکن سیاسی مسائل سے نمٹنا حکومت کی ذمہ داری۔ نہ فون کال، نہ سمجھانا نہ منانا۔

اویس توحید یاد دلاتے ہیں کہ اچھے دنوں میں جہانگیر ترین کے جہاز میں کئی آزاد امیدوار تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہوئے۔ جنوبی پنجاب کے سیاسی رہنماؤں نے موسمی پرندوں کے غول کی طرح عمران خان کے اقتدار کے گھونسلے میں پناہ لی، سب قابل قبول تھا۔ پارٹی کے مفلر شاہی پوشاک کی طرح پہنائے گئے۔

کسی کے انحراف کرنے کا خیال بھی نہ آیا۔ ان ساڑھے تین برس میں تو اتحادی جماعتوں کے جدا ہونے کا شائبہ بھی نہ تھا۔ ان سب نے اشاروں کنایوں اور فون کالز کی وجہ سے کپتان کا خاموشی سے ساتھ دیا، نہ کبھی بلیک میلنگ کی اور نہ مطالبات کی لمبی فہرست۔ لیکن گزشتہ چند ماہ میں کافی کچھ بدل گیا لگتا ہے۔

اب کپتان اور چیف ایک پیج پر نہیں رہے اور فوج کا ادارہ نیوٹرل ہو چکا ہے جس پر عمران خان برہم ہیں اور نیوٹرل کو جانور قرار دے کر اس غیر جانبداری کو ختم کروانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ وہ پہلے بوکھلاہٹ اور اب جھنجھلاہٹنکانشکار ہیں، عمران اور ان کے حواری آگ بگولہ ہیں۔ تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو غدار اور بکاؤ مال کہا جا رہا ہے، انہیں کوسا جا رہا ہے۔

ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا جا رہا ہے اور پتلے جلانے جا رہے ہیں۔ عمران خان ان منحرف اراکین کو دھمکی آمیز بیانات میں خبردار کر رہے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل زندگی بھر کے لیے تاریک ہو جائے گا، ان کی اولادوں کو رشتے نہیں ملیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر وہ لوٹ آئیں گے تو انھیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ سیاسی گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔

اویس توحید کہتے ہیں کہ کہ سیاسی دھمکیوں کے علاوہ عدالت عظمی سے بھی منحرف اراکین کی قسمت کے فیصلے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ تاہم عمران کو احساس ہو چلا ہے کہ بدلتے موسم میں شاید وہ قومی اسمبلی میں اپنی عددی طاقت کھو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے عوامی جلسے کیے جا رہے ہیں۔ اگلے انتخابات پر نظریں ہیں۔ عمران اپنی حکومت کے خلاف تحریک کو عالمی طاقتوں کی سازش قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کو للکار رہے ہیں۔

خود مختار خارجہ پالیسی اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ گویا وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی طرز پر اسلامی دنیا کے رہنما کی طرح خود کو پیش کر ہے ہیں۔ لگتا ہے کہ عمران خان آئندہ انتخابات میں ان ہی نعروں یعنی مغربی دنیا مخالف بیانیہ کو فوقیت دیں گے۔ ادھر زرداری ہاؤس میں اپوزیشن رہنما خوابوں کی دنیا سجائے بیٹھے ہیں۔

اگلی حکومت کے خد و خال کیا ہوں گے؟ شہباز شریف وزیر اعظم ہاؤس میں زندگی گزارنے کا سوچ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان شیروانی میں ملبوس خود کو ایوان صدر میں بیٹھا دیکھ رہے ہیں۔ خورشید شاہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے تصوراتی روپ میں گم سم ہیں۔ گیلانی سینیٹ چیئرمین کے امیدوار ہیں۔ مختصر یہ کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔

عمران خان وزیر اعظم مودی کے چیف پولنگ ایجنٹ ہیں

بقول اویس توحید، آنے والے ماہ آزمائشوں کے کانٹوں میں الجھے نظر آتے ہیں۔ نومبر میں آرمی کے سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ ہے۔ کیا نواز شریف لندن سے واپس آئیں گے یا پھر الطاف حسین کی طرح سیاسی پیر کے روپ میں نظر آئیں گے۔ ان کی سیاسی جانشین مریم اگلے انتخابات میں حصہ لے پائیں گی یا پھر قسمت کی چکی میں مزید آزمائشی چکر نصیب میں ہوں گے۔

جہاں زرداری ہاؤس کے اردگرد اقتدار کے خواب بنے جار ہے ہیں وہاں عمران خان اقتدار سے باہر ایک زخمی شیر کی طرح ہوں گے۔ لیکن فی الوقت بنی گالہ کے ماحول میں ایک ہی صدا گونج رہی ہے۔ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ صبح گیا یا شام گیا۔

bustle in Zardari House and shadow of evil in Bani Gala

Back to top button