ضمنی الیکشن: نون لیگ کی کامیابی کی وجہ مریم نواز یا تحریک انصاف؟

 

 

 

 

لیگی حلقے ضمنی الیکشن میں نون لیگ کی شاندار کامیابی کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور ریلیف پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں تاہم ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کی وجہ سے کوئی بھی حریف جماعت میدان میں موجود نہیں تھی۔ سیاسی میدان میں اصل حریف کی غیر موجودگی نے نون لیگ کو فائدہ پہنچایا۔ اسی لئے نون لیگی امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب رہے ہیں اگر تحریک انصاف ضمنی الیکشن میں مدمقابل ہوتی اور عمرانڈو امیدواروں کو لیول پلئینگ فیلڈ میسر ہوتی تو نتائج اس کے برعکس ہوتے۔

 

تاہم صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا ان دعوؤں کی تردیدکرتے ہوئے کہنا ہے کہ الیکٹرک بسز، سستی روٹی، صحت کارڈ، صاف ستھرا پنجاب، سڑکوں کی بحالی اور دیگر بے شمار ترقیاتی منصوبوں کی بدولت ن لیگ کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ مریم نواز کی خدمت کی سیاست نے شیر کو دوبارہ جیت کا نشان بنا دیا ہے۔ عوام نے نفرت اور انتشار کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ آج عوام باشعور ہیں، کھوکھلی تقریروں سے نہیں بہکتے۔ خدمت کو ووٹ کی سیاست آگے بڑھنے کی وجہ سے نون لیگ 12قومی و صوبائی حلقوں میں کامیاب رہی ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کی غیر موجودگی نے نون لیگ کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن میں حقیقی مقابلہ تب ہی ممکن ہونا تھا جب دونوں بڑی جماعتوں کو پوری قوت کے ساتھ انتخابی میدان میں کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جاتا۔ تحریک انصاف کے بائیکاٹ، انتخابی نشان کی عدم دستیابی اور تنظیمی انتشار نے انتخابی فضا کو یک طرفہ بنا دیا تھا، جس کا براہِ راست فائدہ نون لیگ کو پہنچا ہے اور نون لیگ کلین سوئپ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

 

دوسری جانب کچھ مبصرین اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ نون لیگ حکومت کی کارکردگی نے بھی اس کی انتخابی پوزیشن کو مضبوط بنایا ہے۔ مریم نواز کی صوبائی حکومت نے کم مدت میں چند نمایاں عوامی اقدامات کیے جنہوں نے پارٹی کے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان عوامل کو انتخابی کامیابی کی واحد وجہ قرار نہٰں دیا جا سکتا مگر ان عوامل نے سیاسی ماحول کو نون لیگ کے لیے مزید سازگار ضرور بنایا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اب ووٹرز کے رویے میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ عوام اب جذباتی نعروں کی بجائے کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی طرف مائل ہوتے نظر آتے ہیں۔  مبصرین کے مطابق ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ (ن) کے لیے بلاشبہ ایک سیاسی کامیابی ہیں، مگر اسے مکمل عوامی مینڈیٹ یا ریفرنڈم قرار دینا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اصل حریف کی غیر موجودگی، پی ٹی آئی کی متضاد حکمتِ عملی اور انتخابی نشان کی عدم دستیابی نے ضمنی الیکشن میں انتخابی ماحول کو یک طرفہ بنا دیا تھا، جس سے نون لیگ کی جیت مزید آسان ہو گئی۔ اب آنے والے عام انتخابات طے کریں گے کہ نون لیگ واقعی نئی عوامی مقبولیت کی جانب بڑھ رہی ہے یا ضمنی انتخابات کی کامیابی صرف مخصوص حالات کا نتیجہ تھی۔

 

پنجاب کے ضمنی الیکشن میں نون لیگ کی کامیابی کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مریم نواز کی کارکردگی بھی ن لیگ کی جیت کی وجہ بنی؟ سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق پنجاب حکومت کی کارکردگی بھی اہم ہے، لیکن نون لیگ کی ضمنی الیکشن میں جیت کی اصل وجہ پی ٹی آئی کی دفاعی پوزیشن اور بائیکاٹ پالیسی ہے۔ سلمان غنی کے بقول ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی نے خود میدان چھوڑ دیا تھا جبکہ لاہور میں جہاں پی ٹی آئی نے بائیکاٹ نہیں کیا تھا، وہاں بھی لیڈر شپ اور ووٹرز میدان میں نہیں نکلے دوسری جانب

 

ن لیگ کے کارکن متحرک تھے، مریم نواز کی کارکردگی بھی ساتھ تھی، جس سے حکومت کو فائدہ ہوا ہے۔ لگتا ہے کہ پنجاب ن لیگ نے واپس لے لیا ہے، پی ٹی آئی کو اب دوبارہ کھڑے ہونے میں کافی وقت لگے گا۔

 

سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعودکے مطابق مریم نواز کی کارکردگی واقعی اچھی ہے، عوامی ریلیف پروگرامز، الیکٹرک بسیں، صاف ستھرا پنجاب جیسے اقدامات عوام کو پسند آ رہے ہیں۔اسی وجہ سے پنجاب میں ن لیگ کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ضمنی الیکشن کے نتائج ن لیگ کی سیاسی بحالی اور مریم نواز کی قیادت کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہیں، ضمنی الیکشن کے نتائج سے لگتا ہے کہ پنجاب ایک بار پھر ن لیگ کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے۔

Back to top button