ضمنی انتخابات: پولنگ جاری، سکیورٹی کے سخت انتظامات

 

 

 

قومی اسمبلی کے 6 جب کہ پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات کےلیے پولنگ جاری ہے، اس دوران سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا جو بغیر وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی، ساہیوال، مظفرگڑھ اور ہری پور کے مختلف حلقوں میں ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق ضمنی الیکشن کے دوران مجموعی طور پر 2792 پولنگ سٹیشنز میں سے 408 کو انتہائی حساس جب کہ 1032 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ دو ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی پر مامور ہیں، عوام کو بلاخوف پولنگ سٹیشنز پر آنے کی اپیل کی گئی ہے۔

پنجاب کے قومی و صوبائی حلقوں میں ضمنی الیکشن کےلیے پولیس نے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے، 20 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات ہوں گے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کیاجائے گا، ضابطہ اخلاق، دفعہ 144 اور اسلحے پر پابندی کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
آئی جی پنجاب نے بتایا کہ 2 ہزار 792 پولنگ سٹیشنز میں سے 408 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ بھی یقینی بنائی گئی ہے۔

ادھر ہری پور کے حلقہ این اے 18 میں ضمنی الیکشن کے باعث ڈپٹی کمشنر نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، علاقے میں اسلحے کی نمائش پر پابندی ہوگی۔

 

این اے 18 ہری پور
حلقہ این اے 18 میں 9 امیدوار مدمقابل ہیں۔ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ یہ نشست عمر ایوب کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔

این اے 96
این اے 96 میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 16 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار 133 جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 991 ہے۔

این اے 104
این اے 104 میں مسلم لیگ ن کے راجہ دانیال اور آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید سمیت پانچ امیدوار میدان میں ہیں۔ حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 57 ہزار 637 ہے۔

این اے 129 لاہور
اس نشست پر ن لیگ کے حافظ محمد نعمان، آزاد بجاش خان نیازی اور ارسلان احمد کے درمیان مقابلہ متوقع ہے۔ حلقے میں 334 پولنگ سٹیشنز قائم ہیں۔ یہ نشست میاں اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق این اے 129 لاہور کے اہم ترین حلقوں میں سے ایک ہے اور اس کے نتائج شہر کی مجموعی سیاسی سمت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

این اے 143 ساہیوال
این اے 143، ساہیوال کا تیسرا بڑا حلقہ ہے جہاں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار میں سخت مقابلہ ہونے کی امید ہے۔ حلقے میں ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 84 ہزار 698 ہے۔

این اے 185
این اے 185 میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

پی پی 87 میانوالی 3
پی پی 87 کےلیے 193 پولنگ سٹیشنز قائم ہیں جب کہ 640 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 83 ہزار 272 ہے۔
حلقے میں 66 پولنگ سٹیشنز حساس قرار دیے گئے ہیں۔ 1500 پولیس اہلکار تعینات ہیں جب کہ پاک فوج بھی پولیس کی معاونت کرے گی۔

 

Back to top button